پہلے فوجی صدر کے پوتے عمر ایوب کا سیاسی سفر
پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے پارٹی رہنما عمر ایوب کو وزارت عظمیٰ کیلئے امیدوار نامزد کردیا ہے، عمر ایوب پاکستان کے پہلے فوجی صدر اور فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان کے پوتے اور سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب خان کے صاحبزادے ہیں۔
وزارت عظمیٰ کیلئے پی ٹی آئی کے امیدوار عمر ایوب کے والد گوہر ایوب خان سنہ 1957 میں پاکستانی فوج میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد برطانیہ کی ’رائل ملٹری اکیڈمی سینڈ ہرسٹ‘ میں زیر تربیت رہے اور پھر فوج میں کیپٹن کے عہدے پر فائز رہے۔
فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنے سسر جنرل حبیب اللہ خان کے ساتھ تجارتی ادارے بھی قائم کیے اور پھر سنہ 1977 میں پہلی بار اور پھر مجموعی طور پر پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے۔
گوہر ایوب چار نومبر 1990 سے 17 اکتوبر 1993 تک نواز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے قومی اسمبلی کے سپیکر رہے۔ 25 فروری 1997 سے سات اگست 1998 تک وہ پاکستان کے وزیر خارجہ رہے پھر نواز شریف حکومت میں کئی اور وزارتوں پر بھی فائز رہے۔
صوبہ خیبرپختونخواہ کے ضلع ہری پور میں 28 جون 1968 میں جنم لینے والے عمر ایوب نے پہلی بار 2002 کے انتخابی میدان میں قدم رکھا، عمر ایوب نے انتخابات سے چند ماہ قبل والد کے ہمراہ مسلم لیگ قاف میں شمولیت اختیار کی تھی اور پہلی ہی بار وہ اپنے اپنے آبائی حلقے این اے 19 ہری پور سے میمبر قومی اسمبلی منتخب ہونے میں کامیاب رہے، بعدازاں سابق وزیراعظم شوکت عزیز کی کابینہ وزیر مملکت برائے خزانہ کے عہدے پر فائز رہے، انہوں نے 2008 کے انتخابات میں بھی حصہ لیا لیکن اس بار ن لیگ کے سردار محمد مشتاق خان نے انہیں شکست دی۔
2012 میں عمر ایوب نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور 2013 کے انتخابات میں ایک بار پھر شکست ان کا مقدر بنی، تاہم 2014 میں سپریم کورٹ کے حکم پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں وہ دوبارہ کامیاب ہوکر قومی اسمبلی پہنچے، 2018 میں عمر ایوب عمران خان کی ٹیم کا حصہ بنے، پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر میمبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو انہیں وفاقی وزیر برائے توانائی بنا دیا گیا بعدازاں عمر ایواب کو وزارت پیٹرولیم کا قلمدان سونپ دیا گیا تھا۔
سانحہ نو مئی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کی طرح عمر ایوب خان نے بھی مشکل حالات کا سامنا کیا، ان کیخلاف متعدد کیسسز بنے جبکہ عدالت نے بھی انہیں اشتہاری قرار دیا تھا تاہم وہ 6 ماہ تک روپوش تھے، مگر جب 17 نومبر 2023 کو عمر ایوب کے والد گوہر ایوب خان کا انتقال ہو تو وہ یہ خبر سن کر روپوشی ختم کرکے فوراً اپنے آبائی گاؤں ریحانہ پہنچ گئے تھے۔
عمر ایوب خان نے مشکل حالات میں بھی بانی پی ٹی آئی کے ساتھ رہے، 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی زبردست کامیابی کے بعد عمران خان نے عمر ایوب خان کو وزارت عظمیٰ کیلئے امیدوار نامزد کردیا ہے، دوسری جانب مسلم لیگ نون کے قائد نوازشریف نے اپنے چھوٹے بھائی شہبازشریف کو وزارت عظیٰ کیلئے میدان میں اتارا ہے، اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ان دونوں رہنماؤں میں سے وزیراعظم کون بنتا ہے، تاہم عام انتخابات میں تیسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آنے والی پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی نون لیگ کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد شہبازشریف کے وزیراعظم بننے کے امکانات واضح نظر آ رہے ہیں۔


