انڈیا

بھارت کا جماعت اسلامی کشمیر پرعائد پابندی اٹھانے سے انکار

پابندی میں مزید کتنے سال کی توسیع کی گئی ہے؟

Web Desk

بھارت کا جماعت اسلامی کشمیر پرعائد پابندی اٹھانے سے انکار

پابندی میں مزید کتنے سال کی توسیع کی گئی ہے؟

بھارت کا جماعت اسلامی کشمیر پرعائد پابندی اٹھانے سے انکار

بھارت کی مودی سرکار نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جماعت اسلامی پر عائد پابندی میں مزید 5 سال کی توسیع کردی۔

یاد رہے کہ بھارتی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کی حمایت کرنے پر سنہ 2019 میں جماعت اسلامی کشمیر پر 5 سال کیلئے پابندی لگا دی تھی، لیکن اب اس پابندی میں مزید پانچ سال کی توسیع کردی گئی ہے۔

بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر عائد پابندی میں توسیع کا اعلان کیا اور کہا کہ پابندی میں مزید 5 سال کی توسیع وزیر اعظم مودی کی دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے مطابق ہے۔

امت شاہ کا کہنا تھا کہ یہ تنظیم ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے پائی گئی ہے، انہوں نے کہا کہاس تنظیم کو سب سے پہلے 28 فروری 2019 کو 'غیر قانونی قرار دیا گیا تھا، بھارت کے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جو بھی ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا اسے بے رحمانہ اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس سے قبل 2019 میں جماعت اسلامی کشمیر پر پابندی کے نوٹیفکیشن میں بھارت کے مرکزی محکمہ داخلہ کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے عسکریت پسندوں سے قریبی روابط ہیں اور وہ ان کی مکمل حمایت بھی کرتے ہیں۔

بھارتی حکومت نے تحریک آزادی کشمیر اور حریت پسندوں کی حمایت کو ملک دشمنی قرار دیتے ہوئے جماعت اسلامی پر پابندی لگائی تھی۔ جس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی کے خلاف کریک ڈاؤن میں شدت آئی اور متعدد قائدین و کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا۔

جماعتِ اسلامی کشمیر کا ہمیشہ سے یہی مؤقف رہا ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے اور اس کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہونا چاہیے۔ جماعت کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ بھی کرتی آئی ہے۔

2019 میں جماعتِ اسلامی پر پابندی عائد کرنے کے بعد بعض تجزیہ نگاروں نے مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، تجزیہ نگار پروفیسر شیخ شوکت حسین کا کہنا تھا کہ کسی بھی نظریاتی تنظیم پر پابندی عائد کرنے سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جماعتِ اسلامی پر پہلے بھی پابندی عائد کی گئی تھی لیکن بعد میں یہ اور مضبوط بن کر سامنے آگئی۔ ایک تجزیہ نگار نے کہا کہ کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ پابندی لگنے کے بعد جماعتِ اسلامی ختم ہوجائے گی۔

ایک غیر ملکی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی جماعتِ اسلامی کو اس سے قبل بھی دو مرتبہ پابندی کا سامنا رہا ہے، سنہ 1975 میں ریاستی حکومت نے جماعت اسلامی پر پابندی لگائی تھی جو چند سال بعد اٹھالی گئی تھی۔

1980ء کی دہائی کے آخر میں مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے خلاف شروع ہونے والی مسلح مزاحمت کے بعد بھی بھارتی حکومت نے جن جماعتوں کو غیر قانونی قرار دیا تھا ان میں جماعت شامل تھی۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کے علاوہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں لبریشن فرنٹ، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی، مسلم لیگ، تحریک حریت، دختران ملت پر بھی پابندی عائد کی ہے۔

تازہ ترین