عاطف اسلم کی سالگرہ،'عادت' سے بالی وڈ تک کا سفر
ان کے مشہور گانوں میں 'دوری'، ' ہم کس گلی جارہے ہیں' شامل ہیں
مقبول ترین پاکستانی گانے ' عادت' سے موسیقی کی دنیا میں تہلکہ مچانے والے گلوکار عاطف اسلم 41 سال کے ہوگئے۔
عاطف اسلم 12 مارچ 1983 کو پنجاب کے شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے اور 1995 میں عاطف اپنے والد کے ساتھ لاہور منتقل ہو گئے۔
عاطف ایک گلوکار نہیں بلکہ کرکٹر بننا چاہتے تھے لیکن فیملی کی جانب سے اجازت نہیں ملی اور پھر کالج میں آتے ہی وہ موسیقی کی جانب راغب ہوگئے۔
کالج میں دوستوں کے درمیان گٹار پکڑ کر گلوکاری کرنے والے اس لڑکے کے ساتھ کالج کے ایک اور موسیقی کے متوالے لڑکے گوہر ممتاز نے ہاتھ ملایا اور دونوں نے 'جل' بینڈ کے بینر تلے سال 2003 میں 'عادت' نامی ایلبم نکالی جس کے گانے نے چند ہی ہفتوں میں کامیابی کے نئے ریکارڈ بنانے شروع کردیے۔
اگرچہ اس گانے کے بعد عاطف اور گوہر ممتاز نے راہیں جدا کرلیں لیکن عاطف اسلم کے سولو سانگز بے حد کامیاب ثابت ہوئے اور 'جل پری' کے عنوان سے ان کی پہلی البم نے انہیں صف اول کے گلوکاروں میں لا کھڑا کیا۔
پاکستان میں شہرت کی منازل طے کرنے والے عاطف نے سال 2005 میں بالی وڈ فلم 'زہر' کیلئے 'وہ لمحے' گایا جبکہ اسی سال ریلیز ہونے والی فلم ' کلیوگ' کیلئے 'عادت' گایا'۔
ان دونوں گانوں نے عاطف اسلم کا بالی وڈ میں کامیابی حاصل کرنے کا راستہ آسان بنا دیا اور پھر عاطف یکے بعد دیگرے بھارتی بڑے بڑے پروڈیوسرز کی فلموں میں گلوکاری کیلئے اولین ترجیح بنتے چلے گئے۔
ایک وقت وہ بھی آیا کہ بالی وڈ کی کامیاب فلم کے فارمولے میں عاطف کا ایک گانا شامل کرنا لازمی بن گیا۔
بعدازاں سال 2019 میں بھارت میں پیش آنے والے پلوامہ حادثے کے ردِعمل میں ہندو انتہاپسندوں کی دھمکیوں کے بعد عائد پابندیوں کے سبب بالی وڈ عاطف اسلم کی آواز سے محروم ہوگیا جس پر بھارتی عوام افسوس کا اظہار کرتی نظر آتی ہے۔ تاہم سال 2023 کے آخر میں بھارتی عدالت کی جانب سے یہ پابندی ہٹادی گئی اور اب عاطف کی بالی وڈ واپسی کی خبریں سرگرم ہیں۔
ان کے مشہور گانوں میں 'دوری'، ' ہم کس گلی جارہے ہیں' ، 'میری کہانی' ، 'ہونا تھا پیار' ، 'تیرے بن'، 'پہلی نظر میں' ، 'تیرا ہونے لگا ہوں'، 'تو جانے نہ'، 'دل دیاں گلاں' ، او میری لیلیٰ و دیگر شامل ہیں-
علاوہ ازیں عاطف اسلم نے اپنی مسحورکن آواز میں قوالی تاج دار حرم بھی پڑھی جو بے حد پسند کی گئی جبکہ انہوں نے اسماءالحسنیٰ بھی پڑھے۔




