سوشل میڈیا

2 لاکھ کا اسٹیک کھانے کے سبب حافظ احمد پر تنقید

حافظ احمد جاپان میں اسٹیک کھا کر مشکل میں پھنس گئے

Web Desk

2 لاکھ کا اسٹیک کھانے کے سبب حافظ احمد پر تنقید

حافظ احمد جاپان میں اسٹیک کھا کر مشکل میں پھنس گئے

2 لاکھ کا اسٹیک کھانے کے سبب حافظ احمد پر تنقید

سوشل میڈیا انفلوئنسر و بزنس مین حافظ احمد کو جاپان میں اسٹیک کھانا مہنگا پڑگیا۔

حافظ احمد پاکستانی مشہور شخصیات کے انٹرویو کرنے کے بعد ایک پوڈ کاسٹر کے طور پر شہرت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے علاوہ وہ ای کامریڈز کے بانی اور سی ای او ہیں۔ 

حافظ احمد ایک بہترین موٹیویشنل اسپیکر اور ایمیزون اسپیشلسٹ ہیں۔ انہوں نے 2012 سے ایمیزون پر کام کرنا شروع کیا ہے اور اب تک وہ 500 سے زیادہ پروڈکٹس لانچ کر چکے ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے شہر بہاولپور سے ہے۔ 

حال ہی میں، حافظ احمد کام سے دور جاپان میں سیر سپاٹے کررہے ہی اور اسی سفر کے دوران ان کی مہنگی اسٹیک کھانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے سبب شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 

اسکرین گریب/ یوٹیوب
اسکرین گریب/ یوٹیوب
اسکرین گریب/ یوٹیوب
اسکرین گریب/ یوٹیوب

انہوں نے دو لاکھ روپے (پاکستانی) کا مشہور جاپانی کوبی بیف سٹیک ٹرائی کیا۔ کوبی بیف ایک ایسا گوشت ہے جو جاپانی کالے مویشیوں سے حاصل کیا جاتا ہے جو جاپان میں پالے جاتے ہیں۔ یہ گوشت کے ایک خاص ٹینڈر حصے سے بنا ہے۔

کوبی بیف کو سٹیک، سوکیاکی، شابو ۔شابو، سشیمی اور ٹیپانیاکی کے طور پر تیار کیا جا سکتا ہے۔

حافظ احمد نے کوبی بیف سٹیک بنانے کے پروسیجر کو بھی دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس سے پہلے گائے کا گوشت کبھی اس شکل میں نہیں کھایا۔ 

حافظ احمد نے کہا کہ 'میں عام طور پر بیف سٹیک نہیں کھاتا کیونکہ اسے چبانا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے لیکن یہ بہت لذیذ ہوتا ہے اور منہ میں گھل جاتا ہے'۔

گائے کے گوشت کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر پیسے ضائع کرنے پر لوگ ان پر تنقید کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اس سے صدقہ کر سکتے تھے یا اس رقم میں کوئی پورا عظیم الشان فنکشن کر سکتے تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں رمضان میں ایسی ویڈیو شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔

اسکرین گریب، فیس بُک/ ویڈیو
اسکرین گریب، فیس بُک/ ویڈیو

سوشل میڈیا صارفین حافظ احمد سے خوش نہیں ہیں۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ 'ایسا لگتا ہے کہ حافظ احمد پاکستان کو نیچا دکھانا پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ دوسرے ممالک کی تعریف کرتے ہیں اور پاکستان کے بارے میں بُرا بھلا کہتے ہیں'۔ 

ایک اور سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ’آپ کے لیے یہ ایک تجربہ ہے لیکن میرے لیے یہ سالانہ آمدنی ہے، اللہ آپ کو خوش رکھے‘۔