خواتین

افغان طالبان کا زنا کرنے والی خاتون کو سر عام سنگسار کرنے کا اعلان

طالبان رہنما نے ایک وائس میسج میں اس کا اعلان کیا

Web Desk

افغان طالبان کا زنا کرنے والی خاتون کو سر عام سنگسار کرنے کا اعلان

طالبان رہنما نے ایک وائس میسج میں اس کا اعلان کیا

عورت کو سرِ عام کوڑے مارنے اور موت تک سنگسار کرنے کی سزا
عورت کو سرِ عام کوڑے مارنے اور موت تک سنگسار کرنے کی سزا

افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے اعلان کیا ہے کہ زنا کرنے والی عورت کو سرِ عام کوڑے مارنے اور موت تک سنگسار کرنے کی سزا دی جائے گی۔

وائس میسج کے ذریعے مغربی حکام کے لیے جاری کردہ پیغام میں انہوں نے مغربی جمہوریتوں کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

پیغام میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خواتین کے وہ حقوق جن کی بین الاقوامی برادری حمایت کرتی ہے طالبان کی اسلامی شریعت کی سخت تشریح سے متصادم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیا خواتین وہ حقوق چاہتی ہیں جن کی بات مغربی ممالک کر رہے ہیں؟ وہ شریعت اور علما کی آراء کے خلاف ہیں، وہ علماء جنہوں نے مغربی جمہوریت کو گرایا۔

ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کہا کہ میں نے مجاہدین سے کہا کہ ہم مغرب والوں سے کہتے ہیں کہ ہم نے آپ کے خلاف 20 سال جنگ کی اور 20 اور اس سے بھی زیادہ سال آپ کے خلاف لڑیں گے۔ یہ آپ کے چلے جانے سے ختم نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب بیٹھ کر چائے پیئیں، ہم اس سرزمین پر شریعت نافذ کریں گے۔

طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ آپ کہتے ہیں کہ یہ عورتوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے جب ہم انہیں سنگسار کرتے ہیں لیکن ہم عنقریب زنا کی سزا کا نفاذ کریں گے، ہم خواتین کو سرعام کوڑے ماریں گے اور سرعام سنگسار کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ خواتین کے حقوق کے بارے میں مغربی نظریات کو نظر انداز کرتے ہوئے اسلامی قانون کے لیے ان کی لگن کو ظاہر کرتا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں اگست 2021 میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے خؤاتین کو متعدد پابندیوں اور مسائل کا سامنا ہے۔

طالبان نے ملک بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کے جاب کرنےسے لے کر گھروں سے باہر نکلنے تک مختلف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

تازہ ترین