روزانہ کھجور کھانے کے صحت پر کیا اثرات ہوسکتے ہیں؟
کھجور رمضان کے دوران افطار کا لازمی جزو ہوتی ہے
رمضان المبارک میں ایک پھل ایسا ہے جس کے بغیر افطار کا تصور بھی ممکن نہیں ہوتا اور وہ ہے کھجور۔
تاہم کھجور صرف افطار کے لیے استعمال کیے جانے والا پھل نہیں بلکہ صحت کو بہت زیادہ فوائد پہنچانے والا پھل ہے جسے ہر ایک کو ضرور کھانا چاہیے۔
کھجور کھانا سنت نبوی ﷺ ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ افطار کے علاوہ بھی روزانہ صرف 3 کھجوریں کھانا صحت کے لیے کتنا مفید ہے؟
اگر نہیں جانتے تو ہم یہاں آپ کو بتادیتے ہیں۔
بہترین غذائی اجزا سے بھرپور:
کھجوریں غذائیت کے لحاظ سے بہترین پھل ہے، جس کی 100 گرام مقدار میں 277 کیلوریز، 75 گرام کاربوہائیڈریٹس، 7 گرام فائبر، پوٹاشیم کی روزانہ درکار مقدار کا 20 فیصد حصہ، میگنیشم کی روزانہ درکار مقدار کا 14 فیصد حصہ، کاپر کی روزانہ درکار مقدار کا 18 فیصد حصہ، مینگنیز کی روزانہ درکار مقدار کا 15 فیصد حصہ، آئرن کی روزانہ درکار مقدار کا 5 فیصد حصہ اور وٹامن بی 6 کی روزانہ درکار مقدار کا 12 فیصد حصہ جسم کو ملتا ہے۔
اس سے ہٹ کر بھی کھجوریں اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں جو متعدد طبی فوائد کا باعث ہے۔
خون کی کمی دور کرنے میں مددگار:
کھجور بے وقت کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد دینے والا موثر ذریعہ ہے جبکہ یہ آئرن کی سطح بھی بڑھاتی ہے، جس سے خون کی کمی جلد دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم کھجور کے استعمال کے حوالے سے بھی ذیابیطس کے مریضوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔
پیٹ بھرا رکھنے میں مددگار:
کھجوروں میں حل ہونے والے غذائی فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، جو پانی کو اپنی جانب کھینچتا ہے، جس کے باعث پیٹ بھرنے کا احساس دیر تک برقرار رہتا ہے۔
فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے کھجور پانی کے اجتماع سے کھانے کی اشتہا پر کنٹرول اور پیٹ بھرے رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
قوت مدافعت کے لیے بہترین:
تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ کھجوروں سے مدافعتی نظام متحرک ہوتا ہے، جس کی وجہ اس میں موجود مختلف اجزا ہیں۔
اس کے علاوہ کھجوروں میں فینولک مرکبات اور کیروٹینز کے ساتھ ساتھ وٹامنز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
چینی کی اشتہا ختم ہونا:
چینی یا اس سے بنی اشیا میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث ان کے استعمال سے بلڈ شوگر کی سطح بہت تیزی سے اوپر جاتی ہے اور پھر نیچے آتی ہے، جو طویل المعیاد بنیادوں پر ذیابیطس، جسمانی وزن میں اضافے اور دیگر مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اس کے مقابلے میں کھجوروں میں قدرتی مٹھاس زیادہ ہوتی ہے جو منہ میٹھا کرنے کی خواہش کی تشکین بھی کرتی ہے جبکہ یہ صحت کے لیے فائدہ مند پھل بھی ہے۔
دل کی صحت کیلئے مفید:
کھجوریں پوٹاشیم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں، پوٹاشیم عصبی نظام، نبض اور بلڈ پریشر کو ریگولیٹ کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پوٹاشیم سے بھرپور غذا بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لاتی ہے جس سے امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
نظام ہاضمہ کو بہتر بنائے:
فائبر کے استعمال سے قبض کی روک تھام ہوتی ہے جبکہ آنتوں کی سرگرمیاں تیز ہوتی ہیں۔ برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا کہ جو لوگ روزانہ کھجور کھانے کے عادی ہوتے ہیں، ان کا نظام ہاضمہ دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ بہتر کام کرتا ہے۔
تناؤ اور ڈپریشن کی روک تھام میں مددگار:
کھجوروں میں وٹامن بی سکس بھی موجود ہوتا ہے جو کہ جسم میں سیروٹونین اور norepinephrine بنانے میں مدد دیتا ہے جس سے دماغی صحت بہتر ہوتی ہے۔ سیروٹونین مزاج کو ریگولیٹ کرتا ہے جبکہ norepinephrine تناﺅ سے لڑتا ہے۔
کینسر کا خطرہ گھٹائے:
کھجوروں کو کھانے کی عادت ہاضمے کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور معدے میں نقصان دہ بیکٹریا کی مقدار کم کرتی ہے جن کا آنتوں میں پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا کہ جو لوگ کھجوروں کو کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان کے معدے میں فائدہ مند بیکٹریا کی نشوونما ہوتی ہے جو آنتوں میں کینسر زدہ خلیات کو پھیلنے سے بچاتا ہے۔
موسمی الرجی سے تحفظ:
دنیا بھر میں کروڑوں افراد موسموں میں تبدیلی سے لاحق ہونے والی الرجی کا شکار ہوتے ہیں اور اچھی بات یہ ہے کہ کھجوریں اس سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھجوریں موسمی الرجی سے متاثر ہونے والے افراد میں ورم کا خطرہ کم کرتی ہیں۔
جسمانی وزن میں کمی:
کھجور کھانا جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مدد دیتا ہے، ان میں موجود فائبر پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے جبکہ بلڈگلوکوز کو بڑھنے سے روکتا ہے۔
اس کے علاوہ کھجوروں میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسم سے زہریلے مواد کو خارج کرکے ہاضمہ تیز کرتے ہیں جس سے میٹابولزم تیز ہوتا ہے۔







