دلچسپ و خاص

فواروں میں سِکّے کیوں پھینکے جاتے ہیں؟

قدیم ثقافت یا توہم پرستی؟

Web Desk

فواروں میں سِکّے کیوں پھینکے جاتے ہیں؟

قدیم ثقافت یا توہم پرستی؟

فواروں میں سِکّے پھینکنا عام روایت تصور کی جاتی ہے۔
 فواروں میں سِکّے پھینکنا عام روایت تصور کی جاتی ہے۔

 دنیا بھر میں لوگ صدیوں سے خواہشوں کے لیے فواروں میں سِکّے پھینک کر منت مانگتے آئے ہیں۔

فواروں میں سِکّے پھینکنا ایک ایسا عمل ہے جسے دیکھ کر نا صرف کئی لوگ بڑے ہوئے ہیں بلکہ اس قدیم روایت نماں توہم پرستی کا حصہ بھی بنتے آئے ہیں۔

روم میں مشہور ٹریوی فوارے میں سِکّے پھینکنا ایک عام روایت ہے جہاں کچھ فوارے ہر سال ہزاروں اور لاکھوں ڈالر کے سِکّے جمع کرتے ہیں۔

فواروں میں سِکّے پینکنے کی حقیقت کیا ہے؟

اگرچہ اس کی حقیقت ثابت نہیں مگر اسے رومن-برطانوی اور سیلٹک تصوارت سے جوڑا جاتا ہے جس کے تحت فطرت میں موجود روحوں یا مافوق الفطرت قوتوں کو مالیاتی پیشکش کی جاتی ہے۔ طویل عرصے سے یہ خیال کیا جاتا رہا ہے کہ چونکہ پانی زندگی کے لیے ضروری صفائی کا عنصر ہے اس لیے روحانی ہستیاں پانی میں رہتی ہیں یا اس کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں۔

سِکّے پھینکنے کی قدیم ترین مثالوں میں سے ایک انگلینڈ کی نارتھمبرلینڈ ملک کی ہے جہاں لوگ دیوی کووینٹینا کو نذرانے پیش کیا کرتے تھے۔

پہلی اور پانچویں صدی کے درمیان فواروں کے اندر ہزاروں سِکّے پائے گئے جس سے یہ ثابت ہوا کہ سِکّے پھینکنے کی روایت صدیوں سے چلی آرہی ہے۔

اس سے قبل بہت سی ثقافتوں میں سِکّوں کے بجائے کھانا ، خاص پتھر اور جڑی بوٹیوں کے نذرانے پیش کیے جاتے تھے مگر ترکی میں سِکّوں کی ایجاد کے بعد پیسے نذرانے کے طور پر پیش کیے جانے لگے۔

سِکّوں میں اکثر تصاویر ، متن اور علامتیں ہوتی ہیں جنہیں رسومات کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے اسی لیے مافوق الفطرت قوتوں پر یقین رکھنے والے لوگ سِکّے پیش کرنے کو ایک سنجیدہ اور اعلیٰ پہچان مانتے ہیں۔

اسی طرح آکسفورڈ کے ویل آف پین رائس میں شفا بخش قوتوں کی موجودگی مانی جاتی ہے جس کے تحت لوگ صحت یابی کے لیے سِکّے پانی میں پھینکا کرتے تھے اور بعض اوقات بیشتر لوگ اچھی قسمت کے لیے بھی یہ عمل کیا کرتے تھے۔

تاہم سِکّوں کی توہم پرستی نے ثقافتوں اور آمدنی کے اسباب کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ سوتھبی کے نیلام گھر میں آرٹ کے خریدار کبھی کبھی گنیش کے مجسموں کے سامنے سِکّے چھوڑ جایا کرتے ہیں جس کا مقصد خوش قسمتی کا حصول اور مشکلات پر قابو پانا ہوتا ہے۔ 

سِکّوں سے حاصل کی جانے والی رقم کہاں خرچ کی جاتی ہے؟

دنیا بھر کے کچھ معروف فواروں میں ہر سال ہزاروں ڈالر کے سِکّے جمع ہوتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان چشموں سے ہر سال تقریباً 25 ہزار ڈالر کی رقم جمع ہوتی ہے جن میں ڈزنی پارکس اور لاس ویگاس کیسینو سمیت دیگر چشمے شامل ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ یہ رقم فلاحی اداروں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ دریں اثنا ، غیر منافع بخش تنظیم بھی اس رقم کے حصول کی درخواست دے سکتی ہے۔ 

تازہ ترین