پاکستان

محسن نقوی کی چوہدری خاندان سے رشتہ داری، زرداری سے گہرا تعلق

سید محسن رضا نقوی 1978 ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔

Web Desk

محسن نقوی کی چوہدری خاندان سے رشتہ داری، زرداری سے گہرا تعلق

سید محسن رضا نقوی 1978 ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔

محسن نقوی کی چوہدری خاندان سے رشتہ داری،  زرداری سے گہرا تعلق

صحافی، چینل اور اخبار کے مالک، وفاقی وزیر، چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ اور سابق نگراں وزیراعلیٰ پنجاب، کسی ایک شخص کے نام کے ساتھ اتنے عہدوں کا لگنا بہ ظاہر ایک بہترین کیریئر کو ظاہر کرتا ہے۔

 محسن نقوی نے اپنے سیاسی کیریئر کا یہ سفر کافی کم عرصے میں بہت تیزی سے طے کیا ہے۔

پچھلے ڈیڑھ سال کے عرصے کی بات کی جائے تو محسن نقوی پہلے نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب تعینات ہوئے اور غیرمعمولی طور پر چلنے والے 13 ماہ طویل نگراں سیٹ اَپ میں وہ اس اہم عہدے پر کام کرتے رہے۔ 

صبح سے لے کر شام اور شام سے لے کر رات تک سرکاری امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ عوام کے مسائل کے حل کے لیے انتہائی متحرک و فعال کردار کرتے نظر آئے۔ 

پاکستان کی تاریخ کے پہلے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب ہیں جن کے کام کی رفتار قابل رشک تھی۔

 نگراں وزیراعلیٰ کا منصب چھوڑنے سے قبل ہی انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنا دیا گیا اور اب انہوں نے شہباز شریف کی وفاقی کابینہ میں بطور وفاقی وزیر اپنے عہدے کا حلف لیا ہے۔

کم سنی میں ہی ماں باپ کی شفقت سے محروم ہوجانے والے سید محسن رضا نقوی نے ہمت اور حوصلے کو نہیں چھوڑا۔

 سرکاری اسکول سے تعلیم کا آغاز کیا اور جہد مسلسل، ہمت، محنت و لگن سے کامیابیاں سمیٹتے چلے گئے۔

 سید محسن رضا نقوی 1978 ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ آبائی تعلق جھنگ سے ہے۔ سید گھرانے کے اس چشم و چراغ نے ابتدائی تعلیم کریسنٹ ماڈل اسکول لاہور سے حاصل کی۔ 

کریسنٹ ماڈل اسکول سے فراغت کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا اور یہیں سے گریجویشن کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا کی ریاست میامی کی اوہائیو یونیورسٹی میں چلے گئے جہاں انہوں نے صحافت میں نہ صرف ڈگری مکمل کی بلکہ دوران تعلیم ہی دنیا کے سب سے بڑے اور مقبول میڈیا ہاؤس سی این این میں انٹرن شپ کی۔

 دوران انٹرن شپ ہی سی این این انتظامیہ نے محنت لگن اور ٹیلنٹ کو دیکھتے ہوئے جاب آفر کی اور یوں وہ ایک بڑے ادارے کے پلیٹ فارم سے عملی زندگی میں داخل ہوئے۔

 اپنی جاب کے دوران انہیں سینئر پروڈیوسر برائے سائوتھ ایشیا اور پھر ریجنل ہیڈ بنا دیا گیا۔ صحافت کے دوران انہوں نے افغان وار کی دلیرانہ کوریج کی اور اپنے ادارے سے تعریفی سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا اور ترقی بھی۔ 

جب محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان انتخابی مہم کے لیے آرہی تھیں تو سی این این کی جانب سے سید محسن نقوی نے ہی وہ آخری انٹرویو کیا جس میں محترمہ نے پاکستان میں اپنی جان کو لاحق خطرات کا ذکر کیا تھا، یہ انٹرویو تہلکہ خیز رہا۔

 دوران ملازمت ہی سید محسن نقوی نے پاکستان میں میڈیا کی روایت کے برعکس، پہلی مرتبہ سٹی جرنلزم کا آغاز کیا اور سٹی نیوز نیٹ ورک کے نام سے 2008 ء میں صرف تیس سال کی عمر میں میڈیا ہاؤس کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک نئی طرز صحافت تھی۔

سید محسن نقوی کی شادی چوہدری ظہور ا لٰہی خاندان میں ہوئی۔ ان کی اہلیہ ڈاکٹر ہیں جو پنجاب پولیس کے بہادر سپوت شہید اشرف مارتھ کی صاحبزادی ہیں اور ان کے بطن سے تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ 

سیاسی حلقوں میں یکساں مقبول تو ہیں ہی، لیکن ملک کی سرکردہ سیاسی شخصیات سے بھی ان کے مضبوط تعلقات ہیں۔ 

چوہدری خاندان کے قریبی رشتہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ آصف علی زرداری سے گہرا تعلق ہے۔

 ان کی ایک خاص بات ان کی منکسر المزاج شخصیت ہے۔ کوئی اہم شخصیت ہو یا عام آدمی، آفس میں کام کرنے والا ایک عام ملازم ہو یا افسر، ان میں تفریق نہیں کرتے۔ ج

تازہ ترین