انفوٹینمنٹ

ہالی وڈ فلموں میں اصلی نہیں نقلی جانوروں کا استعمال

دی امریکن ہیومن ایسوسی ایشن کا کام کیا؟

Web Desk

ہالی وڈ فلموں میں اصلی نہیں نقلی جانوروں کا استعمال

دی امریکن ہیومن ایسوسی ایشن کا کام کیا؟

فلموں میں ہمشیہ انسان اور جانوروں کے رشتے کی کہانیوں کو جگہ ملتی رہے گی
فلموں میں ہمشیہ انسان اور جانوروں کے رشتے کی کہانیوں کو جگہ ملتی رہے گی

پرانے زمانے میں فلموں میں جانوروں کا استعمال سمجھ میں آتا ہے لیکن آج کل کے ڈیجیٹل دور میں جانوروں کو بطور اداکار استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ 

امریکا میں جب سے فلمیں بننا شروع ہوئی ہیں، اُس وقت سے اب تک کسی نہ کسی فلم میں جانوروں کے استعمال اور کبھی کبھار اُن سے بدسلوکی دیکھنے میں آتی ہے۔ 

1940ء سے دی امریکن ہیومن ایسوسی ایشن یہ یقینی بنانے کا کام کررہی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے حشرات سے لے کر بڑے بڑے جانوروں تک، تفریح کی خاطر انہیں کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ 

جانوروں کے حقوق سے متعلق ایک کتاب میں واضح کیا گیا ہے کہ جانوروں سے کیسا سلوک کیا جانا چاہیے۔ 

فلموں کے ابتدائی دور میں یہ خیال نہیں رکھا جاتا تھا۔ لہٰذا اِن قواعد و ضوابط کا مقصد جانوروں کے لیے ہمدردی اور اچھے سلوک کو یقینی بنانا ہے۔ 

ہالی وڈ فلم ’رائز آف دی پلینٹ آف دی ایپس‘ نے اِس بحث میں ایک نئی چیز شامل کردی۔ اِس فلم میں اصل گوریلوں کی بجائے کمپیوٹر کی مدد سے چیمپنیز بنائے گئے۔ 

فلم ’جراسک پارک‘ کو بھلا کون بھول سکتا ہے جس میں کمپیوٹر کی مدد سے ڈائنوسار کا پورا خاندان تیار کرلیا گیا ۔ 

فلم ’لائف آف پائی‘ کو لے لیں جس میں ٹائیگر کو بطور استعارہ استعمال کیا گیا ۔ ’لائف آف پائی‘ کا شیر امیتابھ بچن کے ٹائیگر کی طرح حقیقی ٹائیگر نہیں تھا۔ 

1977ء سے 2024ء تک اتنی ترقی ہوئی کہ ٹائیگر کو ڈیجیٹل اینی میشن کی مدد سے دوبارہ بنایا گیا۔ جانوروں سے متعلق فلمیں ہمیشہ سے شائقین میں مقبول رہی ہیں۔ 

پھر چاہے وہ جنگل میں رہنے والے موگلی کی کہانی ہو یا شیر خان کی۔ فلموں میں ہمشیہ انسان اور جانوروں کے رشتے کی کہانیوں کو جگہ ملتی رہے گی، کبھی افسانے کے طور پر اور کبھی حقیقت کے طور پر۔