خواتین

ہم جنس پرست خواتین عام عورتوں کے مقابلے میں جلد مرجاتی ہیں، تحقیق

ایک لاکھ امریکی خواتین پر تحقیق کی گئی۔

Web Desk

ہم جنس پرست خواتین عام عورتوں کے مقابلے میں جلد مرجاتی ہیں، تحقیق

ایک لاکھ امریکی خواتین پر تحقیق کی گئی۔

(فائل فوٹو: آن لائن)
(فائل فوٹو: آن لائن)

جسمانی صحت میں جنسی رویوں کا کردار ایک ایسا موضوع ہے جس پر کئی دہائیوں سے محققین توجہ دے رہے ہیں۔

اس بات کے شواہد مل چکے ہیں کہ ہم جنس پرست لوگوں کو ذہنی صحت کے مسائل سے لے کر دائمی بیماریوں تک مختلف قسم کے منفی نتائج کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم اس تناظر میں اب تک وسیع پیمانے پر کوئی تحقیق نہیں کی گئی تھی کہ یہ منفی نتائج انسان کی زندگی کے دورانیے کو کس حد تک متاثر کرتے ہیں۔

کئی دہائیوں پر محیط ایک تحقیق کے حال ہی میں سامنے آنے والے نتائج کے مطابق ہم جنس پرست اور بائی سیکشوئل خواتین عام عورتوں کے مقابلے میں جلد مر جاتی ہیں۔

اس تحقیق کا آغاز 1989 میں کیا گیا تھا جس میں ایک لاکھ امریکی خواتین کے جنسی رویوں اور ان کی شرح اموات پر اس کے اثرات کی جانچ کی گئی جس کے حیران کن نتائج سامنے آئے۔

نتائج کے مطابق عام خواتین کے مقابلے میں ہم جنس پرست اور بائی سیکشوئل خواتین 26 فیصد کم جیتی ہیں، عام خواتین کے برعکس ہم جنس پرست خواتین کی موت 20 فیصد جلد اور بائی سیکشوئل خواتین کی موت 37 فیصد جلد واقع ہوئی۔

محققین کا کہنا ہے کہ ہمیں شرح اموات میں فرق کی توقع ضرور تھی لیکن شرح اموات میں اِس قدر واضح فرق دیکھنے کی توقع وہ ہر گز نہیں رکھتے تھے۔

تحقیق کے مطابق اس کی وجہ دیگر عوامل کے علاوہ ہم جنس پرست اور بائی سیکشوئل خواتین کے ساتھ اپنائے جانے والے منفی سماجی رویے بھی ہوسکتے ہیں جو ذہنی اور جسمانی صحت کو شدید متاثر کرتے ہیں۔

لہٰذا محققین کا کہنا ہے کہ ان نتائج کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جنس پرستی انسان کو جلد موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے بلکہ ہم جنس پرستوں کے ساتھ اپنائے جانے والا امتیازی سلوک دراصل ان نتائج کا سبب بنتا ہے۔

تازہ ترین