عالمی منظر

بشکیک فسادات، کب کیا ہوا اور اس کی وجہ کیا بنی؟

پاکستانی طلبہ کو ان کی رہائش گاہوں سے نہ نکلنے کی ہدایت

Web Desk

بشکیک فسادات، کب کیا ہوا اور اس کی وجہ کیا بنی؟

پاکستانی طلبہ کو ان کی رہائش گاہوں سے نہ نکلنے کی ہدایت

بشکیک  فسادات، کب کیا ہوا اور اس کی وجہ کیا بنی؟

کرغستان کے دارالحکومت بشکیک میں مقامی افراد کے غیر ملکی طلبہ پر حملے کے بعد صورتحال کشیدہ ہے۔

کرغزستان میڈیکل کی تعلیم کے حوالے سے طلبہ میں ایک مقبول مقام ہے اور تقریباً 10 ہزار پاکستانی اور 15 ہزار بھارتی طلبہ یہاں زیر تعلیم ہیں۔

مقامی افراد کی جانب سے غیر ملکی طلبہ کے ہاسٹلز پر حملوں میں تقریباً 35 غیر ملکی طلبہ زخمی بھی ہوئے جن میں 5 پاکستانی بھی شامل ہیں۔

واقعے کا پس منظر کیا ہے؟

خیال رہے کہ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں 13 مئی کو بودیونی کے ہاسٹل میں مقامی اور غیرملکی طلبہ میں لڑائی ہوئی تھی، جھگڑے میں ملوث 3 غیرملکیوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔

کرغز میڈیا کے مطابق 17مئی کی شام چوئی کرمنجان دتکا کے علاقے میں مقامی افراد نے احتجاج کیا اور جھگڑے میں ملوث غیرملکیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کی۔

 بشکیک سٹی داخلی امور ڈائرکٹریٹ کے سربراہ نے مظاہرہ ختم کرنے کی درخواست کی۔

مقامی میڈیا کے مطابق حراست میں لیے گئے غیرملکیوں نے بعد میں معافی بھی مانگی لیکن مظاہرین نے منتشر ہونے سے انکار کیا اور وہ مزید تعداد میں جمع ہوگئے، پبلک آرڈر کی خلاف ورزی پر متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق دوپہر دو بجے تک مظاہرین منتشر نہیں ہوئے بلکہ ان کی تعداد بڑھ کر 500 ہو گئی اور انھوں نے سوشل میڈیا پر ایسی افواہیں پھیلانا شروع کیں جن میں کہا گیا کہ ’غیر ملکیوں کے ساتھ لڑائی میں ایک مقامی کی ہلاکت ہو گئی ہے۔‘ پولیس کے مطابق یہ جھوٹی خبر تھی۔

پھر 17 مئی کی شام  بشکیک میں میڈیکل یونیورسٹیوں کے کچھ ہاسٹلز اور پاکستانیوں سمیت دیگر ممالک کے طلبہ کی نجی رہائش گاہوں پر حملے کیے گئے، ان ہاسٹلز میں انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلبہ رہائش پذیر ہیں۔

مار پیٹ کا نشانہ بننے والے طلبہ میں پاکستانیوں اور انڈین سمیت دیگر ایشیائی، مصری طلبا اور غیر ملکی بھی شامل تھے۔

گذشہ شب تقریباً تین بجے مقامی میڈیا نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ مظاہرین کی تعداد تقریباً ایک ہزار ہو چکی ہے جو مارپیٹ اور لوٹ مار کر رہے ہیں۔

کرغزستان کے مقامی میڈیا کے مطابق اس ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس نے تین افراد کو گرفتار کر کے ان پر مقدمہ درج کیا، قانون نافذ کرنے والے افسران نے تصادم میں شریک افراد کو حراست میں بھی لیا۔

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 3 سے 4 روز قبل مقامی طلبہ اور مصر سے تعلق رکھنے والے طلبہ میں غزہ کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی گردش کررہی تھی اس جھگڑئے میں ایک دو طلبہ زخمی بھی ہوئے تھے۔

پاکستانی سفارتخانے کا مؤقف

بشکیک میں طلبا کے ہاسٹلوں کے آس پاس ہجوم اور تشدد کے مدِنظر سفارت خانے نے بشکیک میں تمام پاکستانی طلبا کو ہدایت کی ہے کہ صورتحال معمول نہ آنے تک باہر نہ نکلیں اور اندر ہی رہیں۔

اسکرین گریب/ایکس
اسکرین گریب/ایکس

اس حوالے سے پاکستانی سفیر  حسن علی ضیغم کاکہنا تھا کہ ’مشتعل افراد دیواریں پھلانگ کر ہاسٹلز میں داخل ہوئے اور طلبہ سے بدتمیزی کی، ان کے سامان کو نقصان پہنچایا، تاہم اب یہ لوگ منتشر ہو چکے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ان افراد کی جانب سے پاکستانی طلبہ کو بالخصوص نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے۔

حسن علی ضیغم کے مطابق ’مصری طلبہ اور مقامی افراد کے درمیان لڑائی کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد اس معاملے پر اشتعال پھیلا۔‘

اسکرین گریب /ایکس
اسکرین گریب /ایکس

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مشتعل مقامی طلبہ کے حملوں سے کچھ پاکستانی زخمی ہوئے، مگر ایک بھی موت نہیں ہوئی ہے۔ ان واقعات کے بعد کرغز فوج اور پولیس نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اب حالات قابو میں ہیں۔‘

تازہ ترین