انفوٹینمنٹ

’دیوداس‘، پارو کی سرخ و سفید ساڑھی راتوں و رات تیار کیوں ہوئی؟

’دیوداس‘، پارو کی مشہور ساڑھی کی پیچھے چھپی دلچسپ کہانی

Web Desk

’دیوداس‘، پارو کی سرخ و سفید ساڑھی راتوں و رات تیار کیوں ہوئی؟

’دیوداس‘، پارو کی مشہور ساڑھی کی پیچھے چھپی دلچسپ کہانی

دیوداس کا کردار شاہ رخ خان نے نبھایا جبکہ پارو کے کردار میں ایشوریا رائے بہترین اداکاری کے جوہر دکھاتی نظر آئیں۔
دیوداس کا کردار شاہ رخ خان نے نبھایا جبکہ پارو کے کردار میں ایشوریا رائے بہترین اداکاری کے جوہر دکھاتی نظر آئیں۔

بالی وڈ کی سپر ہٹ فلم ’دیوداس‘ کے آخری سین میں پہنی گئی ایشوریا کی ساڑھی کی تیاری سے متعلق ڈریس ڈیزائنر نیتا لوللا نے حیران کن انکشاف کردیا۔

سال 2002 میں سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم ’دیوداس‘ نے باکس آفس پر ریکارڈ توڑ کمائی کی اور بالی وڈ دیوانوں کی پسندیدہ فلموں کی فہرست میں اپنا نام ہمیشہ کیلئے شامل کروالیا۔

یوں تو ’دیوداس‘ کا ہر ایک سین اور ڈائیلاگ سپر ہٹ قرار پایا لیکن وہ سین جس نے فلم بینوں کو زار و قطار رونے پر مجبور کردیا وہ فلم کا آخری سین ہے جب دیوداس اپنے وعدے کو وفا کرنے کیلئے پارو کی حویلی کے سامنے دم توڑنے سے قبل اس کی راہ تک رہا تھا اور پارو اپنی محبت کے آخری دیدار کے لیے دیوانہ وار بھاگ رہی تھی ۔

اس سین میں پارو کی ساڑھی میں آگ بھی لگ جاتی ہے لیکن وہ ہر بات سے بے خبر بس دیوداس کی جانب دوڑی چلی جا رہی ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ اس فلم میں دیوداس کا کردار شاہ رخ خان نے نبھایا جبکہ پارو کے کردار میں ایشوریا رائے بہترین اداکاری کے جوہر دکھاتی نظر آئیں۔

فلم کی کاسٹیوم ڈیزائنر نیتا لوللا نے فلم کے آخری سین میں پہنی گئی ایشوریا رائے کی ساڑھی سے متعلق انکشاف کیا کہ ’ اس سین کیلئے جو ساڑھی تیار کی تھی وہ آخری وقت میں سنجے لیلا بھنسالی نے منع کردی اور پھر نئی ساڑھی راتوں و رات تیار کی‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’ سنجے لیلا بھنسالی رات کے 9 بجے میرے پاس آئے اور اگلے دن کے شوٹ کے کاسٹیوم دکھانے کی درخواست کی اور ساڑھی دیکھ کر کہا کہ نیتا مجھے پتا ہے کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ کاٹن کی ساڑھی چاہئے لیکن تم ذہن میں یہ لاؤ کے ایشوریا سیڑھیوں سے نیچے کی جانب دوڑ رہی ہیں اور ساڑھی کے پلّو پر آگ لگی ہوئی ہے، اس لیے مجھے سلک کی ساڑھی چاہئے‘۔

نیتا نے انکشاف کیا کہ ‘ سنجے نے کہا کہ ساڑھی 15 میٹر لمبی ہونی چاہئے، اور ایسی دو ساڑھیاں تیار کرنا تاکہ اگر ایک جل بھی جائے تو ہمارے پاس دوسری پڑی ہو‘۔

انہوں نے بتایا کہ ‘ میں نے فوراً کپڑا بیچنے والے سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس نے میرے بے حد اسرار پر آدھی رات میں ساڑھے بارہ بجے کے قریب اپنی دکان کھولی اور صبح 6 بجے تک میں نے ساڑھی تیار کرلی اور ساڑھے 9 بجے فلم سیٹ پر پہنچی جہاں شوٹنگ کا آغاز ہوچکا تھا۔