دلچسپ و خاص

خانہ کعبہ کا مرکزی دروازہ ، حجر اسود کا خول تیار کرنے والا پاکستانی انتقال کرگیا

انتقال پر قونصل جنرل اور پاکستان کمیونٹی نے اظہارِ افسوس کیا۔

Web Desk

خانہ کعبہ کا مرکزی دروازہ ، حجر اسود کا خول تیار کرنے والا پاکستانی انتقال کرگیا

انتقال پر قونصل جنرل اور پاکستان کمیونٹی نے اظہارِ افسوس کیا۔

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

خانہ کعبہ کے مرکزی دروازے اور حجراسود کا خول تیار کرنے والی کمپنی کے مالک محمد عاشق حسین انتقال کرگئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد عاشق حسین کے انتقال پر قونصل جنرل خالد مجید اور پاکستان کمیونٹی نے اظہارِ افسوس کیا ہے۔

محمد عاشق کا تعلق پاکستان کے احمد پور شرقیہ، ضلع بہالپور سے تھا ان کے والد کا نام ملک غلام قادر تھا وہ والی ریاست بہالپور کے نواب صادق محمد عباسی کے محل میں سنار کا کام کرتے تھے۔

محمد عاشق بھی بہترین کاریگر تھے اور بہترین ڈیزائنر بھی تھے لیکن بہتر مستقبل کی خاطر اس کے والد انھیں سعودی عرب بھیجنا چاہتے تھے جبکہ والدہ انھیں اپنے پاس رکھنا چاہتی تھیں۔

والد کی خواہش کا پاس رکھتے ہوئے محمد عاشق اپنے اور اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے سعودی عرب جانے کو تیار ہوگئے، 1970ء میں والد نے 900 روپے کا بحری جہاز کا ٹکٹ دلایا، چند سو ریال ان کی جیب میں رکھے اور انہیں 18 برس کی عمر میں مدینہ منورہ روانہ کردیا تھا۔

مدینہ منورہ میں ان کی پہلی نوکری بطور چرواہا تھی، بعدازاں وہ جیولری ڈیزائننگ کے کام سے وابستہ ہوگئے تھے، دیکھتے ہی دیکھتے محمد عاشق کا شمار سعودی عرب میں سونے کے بڑے تاجروں میں ہونے لگا۔

رواں ماہ کے آغاز میں محمد عاشق نے 'روزنامہ جنگ' سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ خانہ کعبہ کے مرکزی دروازے کی تنصیب ان کے ہاتھوں ہوئی ہے، 200 کلو سونے سے بنے بیت اللہ شریف کے دروازے کی تعمیر و تنصیب کی سعادت ان کی کمپنی کو حاصل ہوئی۔

صرف اتنا ہی نہیں بلکہ خانہ کعبہ کی چھت سے بارش کے پانی کو نیچے لانے کے لیے رحمت کا پرنالہ بھی محمد عاشق کی کمپنی نے ہی تیار اور تنصیب کیا۔

محمد عاشق نے بتایا تھا کہ 1978 میں سعودی حکومت نے بیت اللہ شریف کے مرکزی دروازے کو تبدیل کرنے کا کام ایک لبنانی کمپنی کو دیا تھا جس نے بیت اللہ شریف کا دروازہ ڈیزائن کیا تھا۔

بعدازاں دروازے کی تنصیب کے دوران کچھ تکنیکی مسائل پیدا ہوئے جس کے بعد سعودی حکومت نے یہ کام سعودی کمپنی رئیسکو کو دے دیا اور اس کمپنی کے پارٹنر پاکستانی شہری محمد عاشق بھی تھے۔

انہوں نے پوری دلجمعی سے بیت اللہ شریف کے دروازے کو 200 کلو سونے سے بنایا تھا، اس کی تنصیب دن رات کی محنت سے 15 روز میں مکمل ہوئی۔

علاوہ ازیں حجرِ اسود کا چاندی کا خول بھی محمد عاشق کی ٹیم نے ڈیزائن اور نصب کیا، محمد عاشق نے اِن خدمات کے صلے میں خانہ کعبہ کی وہ مٹی بطور سعادت مانگی تھی جو خانہ کعبہ کے دروازے اور حجر اسود کی تنصیب کے دوران جمع ہوئی تھی۔

تازہ ترین