فیشن

کانز میں بیلا حدید کا لباس، فلسطین کی بھرپور حمایت

بیلا اور جی جی حدید فلسطین کیلئے آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔

Web Desk

کانز میں بیلا حدید کا لباس، فلسطین کی بھرپور حمایت

بیلا اور جی جی حدید فلسطین کیلئے آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔

بیلا حدید فلسطین کیلئے آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔
بیلا حدید فلسطین کیلئے آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔

امریکی ماڈل بیلا حدید نے کانز فلم فیسٹیول کے پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

انہوں نے سرخ سفید رنگ کا ایک ایسا لباس پہنا جو فلسطین کی روایتی رومال کوفیہ کے جیسا تھا۔

اس رومال کو فلسطینی مزاحمت کی نشانی سمجھا جاتا ہے یوں بیلا کا لباس فلسطینی عوام کی حمایت کرنے کیلئے ایک طاقتور پیغام نظر آیا۔

کوفیہ کوئی سادہ روایتی رومال نہیں بلکہ بہت سے فلسطینیوں کے لیے یہ مزاحمت اور جدوجہد کی علامت اور ایک ایسا سیاسی اور ثقافتی آلہ ہے جس کی اہمیت میں 100 سال کے دوران اضافہ ہوا ہے۔

کچھ لوگ اسے فلسطین کا ’غیر سرکاری پرچم‘ بھی کہتے ہیں۔ کوفیہ کی مختلف اقسام ہیں اور سب کے رنگ بھی مختلف ہیں۔ تاہم فلسطینیوں میں سب سے زیادہ رواج سیاہ اور سفید کوفیہ کا ہے۔ 

بیلا حدید کی مکمل لُک
بیلا حدید کی مکمل لُک

کوفیہ میں تین نمایاں چیزیں ہیں؛ زیتون کے پتے اس علاقے میں زیتون کے درختوں کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ زمین سے تعلق کی علامت بھی ہیں۔

 لال رنگ فلسطینی مچھیروں کی نمائندگی کرتا ہے اور ان کا بحیرہ روم سے تعلق بھی ثابت کرتا ہے جبکہ کالا رنگ فلسطین کے ہمسائیوں کے ساتھ روایتی تجارتی راستوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

انہوں نے سرخ سینڈل، بالوں میں اسکرنچی، سن گلاسز، اور  کان میں گولڈ کے بندوں کے ساتھ اپنی لُک کو سادہ لیکن وضع دار رکھا۔

لباس کے ڈیزائنر کی شیئر کردہ پوسٹ سے لباس کی تصویر کو دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے بیلا حدید نے 'فلسطین کو ہمیشہ کے لیے آزاد کرو ' کےکیپشن کے ساتھ فلسطین کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

بیلا اور ان کی بہن جی جی حدید کا شمار دنیا کی بااثر اور نامور ترین ماڈلز میں ہوتا ہے اور وہ شروع سے ہی آزاد فلسطین کی حامی ہیں، وہ ماضی میں بھی اپنے آبائی وطن پر صیہونی حملوں کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں۔

بیلا حدید اگرچہ امریکا میں پیدا ہوئیں اور وہیں پلی بڑھیں مگر ان کے والد محمد حدید فلسطین میں پیدا ہوئے تھے اور وہ 14 سال کی عمر میں کئی دہائیوں قبل امریکا منتقل ہوگئے تھے۔