ثمینہ پیرزادہ کی شادی کا بڑا دلچسپ قصہ
اداکارہ ثمینہ پیرزادہ9 ؍اگست 1955ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ وہ پاکستان شوبز کی نہایت ہی معتبر شخصیت ہیں۔ مزاج کی دھیمی ثمینہ پیرزادہ کے کریڈٹ پر فنون لطیفہ کی ہر فیلڈ کا کام ہے۔ انہوں نے کراچی کے پی ای سی ایچ ایس اسکول سے میٹرک کیا، بعدازاں انہوں نے گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس کراچی سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد انہوں نے شوبز کی دنیا میں نام بنانے کا سوچا۔ یوں تھیٹر، ٹی وی اور فلموں میں کام کرنے کے بعد ثمینہ پیرزادہ نے فلم پروڈکشن اور ڈائریکشن کے میدان میں قدم رکھا۔
ثمینہ پیرزادہ کی شادی کا قصہ بڑا دلچسپ ہے۔ ثمینہ پیرزادہ ماموں کے گھر گرمیوں کی چھٹیاں منانے پنڈی گئی ہوئی تھیں۔ اس وقت ٹی وی ڈرامہ ’’دوسرا آدمی‘‘ آن ایئر تھا۔ عثمان پیرزادہ اس وقت اسٹار بن گئے تھے۔ ثمینہ اس وقت سیکنڈ ایئر میں تھیں۔ عثمان پیرزادہ سے جب ثمینہ پیرزادہ کی ملاقات ہوئی تو وہ انہیں اچھے لگے اور انہوں نے عثمان پیرزادہ سے اپنی پسندیدگی ظاہر کردی۔ ان کا 23؍جنوری 1974ء کو عثمان پیرزادہ سے کراچی میں نکاح ہوا اور پھر 14؍فروری 1975ء کو رخصتی ہوئی۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے پسند کی شادی کی۔ ثمینہ پیرزادہ نے شادی کے بعد چھ سال تک ٹی وی پر کام نہیں کیا۔ ثمینہ پیرزادہ نے 1982ء میں باقاعدہ طور پر شوبز میں قدم رکھا۔
ثمینہ پیرزادہ، عثمان کی تعریفوں کے پل باندھنے سے بالکل نہیں کتراتی ہیں، وہ بارہا کہتی نظر آتی ہیں کہ ان کا کیرئیر بنانے میں عثمان پیرزادہ کا بڑا ہاتھ ہے۔ دونوں کی شادی کو 45 سال ہوگئے ہیں اور دونوں میاں بیوی کا رشتہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ ثمینہ پیرزادہ کی شادی کے بعد 12سال تک کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد خدا نے انہیں دو بیٹیوں سے نوازا۔ ان کی بیٹیوں کے نام انعم اور امل ہیں۔ ثمینہ پیرزادہ کے نزدیک شادی کے بندھن کو ہر دس سال بعد تجدید عہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ کھانے کی شوقین ثمینہ پیرزادہ کو پلاؤ، بریانی، دال ماش، کوفتے اور ٹینڈے بہت پسند ہیں۔
ثمینہ نے جن فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں کیا، اس کی ایک طویل فہرست ہے۔ ثمینہ پیرزادہ نے فلم ’’شادی میرے شوہر کی‘‘ (1986ء) میں اداکار جاوید شیخ کے ساتھ کام کیا تھا۔ اس فلم میں ثمینہ پیرزادہ کا مرکزی کردار تھا۔ ثمینہ پیرزادہ کی چند مشہور فلموں میں ’’مکھڑا‘‘، ’’بازار حسن‘‘ (1988)، ’’بلندی‘‘(1990)، ’’نزدیکیاں‘‘ (1991)، ’’پابندی‘‘(1992)، ’’خواہش‘‘(1993)، ’’زرگل‘‘((1997 و دیگر شامل ہیں۔ ان کے مشہور ڈراموں میں ’’دریا‘‘ (1983)، ’’اَنا‘‘ (1984)، ’’زرد دوپہر‘‘ (1995)، ’’وفا کے موسم‘‘ (2001)، ’’شیشے کا محل‘‘(2002)، تھوڑی سی محبت (2004) ’’تیرے آجانے سے،‘‘ ’’دل دیا دہلیز‘‘ (2006) ’’میری ذات ذرّہ بے نشاں‘‘، ’’نور پور کی رانی‘‘، ’’تھوڑی دُور ساتھ چلو‘‘، ’’محبت کون روکے‘‘، ’’دل کی دہلیز پر‘‘، (2009)، ’’داستان‘‘ (2010)، ’’میرا نصیب‘‘ (2011)، ’’درشہوار‘‘، ’’شہر ذات‘‘، ’’روشن ستارا‘‘، ’’زندگی گلزار ہے‘‘ (2012)، ’’رسم دُنیا‘‘ (2017) و دیگر شامل ہیں۔
ثمینہ پیرزادہ نے ٹیلی فلمز میں بھی کام کیا۔ ان کی مشہور ٹیلی فلمز میں ’’کلائمکس‘‘ (2009)، ’’بینڈ بج گیا‘‘ (2010)، ’’لنچ ود لبنیٰ‘‘، (2012)، ’’زندگی اب بھی مشکل ہے‘‘، ’’لکیریں‘‘، ’’چھوڑ بابل کا گھر‘‘ (2013) اور میوزیکل ٹیلی فلم ’’نور‘‘ (2017) شامل ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ٹیلی ویژن اور فلم اسکرینز بلکہ تھیٹر ڈراموں میں بھی منجھی ہوئی پرفارمنس دے کر لوگوں کے دل جیتے۔ ان کے مشہور تھیٹر ڈراموں میں ’’راز و نیاز‘‘ اور گڑیا گھر‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔
انہوں نے ٹی وی، تھیٹر اور فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے کے بعد ہدایت کاری کی طرف آنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے 1997ء میں فلم ’’زرگل‘‘ بنائی۔ وہ اپنی پروڈکشن کی فلم ’’زرگل‘‘ کو ایک کامیاب فلم قرار دیتی ہیں کیونکہ یہ فلم اب تک کئی بین الاقوامی فلم فیسٹیولز میں نمائش کیلئے پیش کی جاچکی ہے۔ اس فلم میں انہوں نے نواب کی اہلیہ کا کردار بخوبی نبھایا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے1999ء میں فلم ’’انتہا‘‘ بنائی۔ ان کی ہدایت میں بننے والی تیسری فلم ’’شرارت‘‘ تھی، جو انہوں نے 2003ء میں بنائی تھی۔ ثمینہ پیرزادہ کی فلم ’’انتہا‘‘ کو9 نیشنل ایوارڈز ملے۔ 2013ء میں انہیں بریڈفورڈ میں ہونے والے ’’مینگو فلم فیسٹیول‘‘ میں ’’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا گیا۔ انہوں نے ایک ہولی وڈ فلم ’’The Valley‘‘ میں بھی معاون کردار نبھایا۔حالیہ دور کی فلموں میں سے ’’پنجاب نہیں جاؤں گی‘‘اور ’’موٹر سائیکل گرل‘‘ میں بھی ثمینہ نے معاون کردار نبھایا۔
ثمینہ پیرزادہ اور عثمان پیرزادہ نے پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام ’’سنڈے لاؤنج‘‘ میں اکٹھے کام کیا تھا۔ اس پروگرام کو کافی پذیرائی ملی۔ ان کا پسندیدہ ڈرامہ ’’کٹھ پتلی‘‘ ہے اور ان کی پسندیدہ فلم زیبا، وحید مراد کی ’’ارمان‘‘ ہے، جسے وہ کئی بار سینما جاکر دیکھ چکی ہیں۔ ثمینہ پیرزادہ کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر سید نور، عثمان پیرزادہ اور شعیب منصور نے معاشرتی مسائل پر فلمیں بنائی ہیں، ان فلموں کو لوگوں نے پسند بھی کیا ہے، لہٰذا اب وہی فلم کامیابی حاصل کرے گی جو معاشرے کے مسائل و حالات پر مبنی ہوگی اور معیاری ہوگی۔
ثمینہ پیرزادہ کہتی ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ سے لوگوں سے کچھ نہ کچھ سیکھا ہے۔ وہ یہ بات کھلے دل سے تسلیم بھی کرتی ہیں اور سرعام کہتی بھی ہیں۔ وہ کسی بھی کام کو کرتے وقت دوسروں پر انحصار نہیں کرتیں بلکہ خود ہی ہر کام کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ ثمینہ پیرزادہ وقت کی پابندی کی قائل ہیں اور اکثر ان کے ساتھ کام کرنے والے ساتھی فنکار ان کی اس عادت سے سیکھتے بھی ہیں اور ان کی مثال دیتے ہیں۔ ثمینہ پیرزادہ کو چار سال کی عمر سے ہی ایکٹر بننے کا شوق تھا۔ وہ بارہا بتاچکی ہیں کہ ان کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔ وہ کوئی بھی بات نہیں چھپاتیں۔ ان کی ڈکشنری میں حسد اور رقابت جیسے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ اداکارہ ثمینہ پیرزادہ کو اپنی سالگرہ منانا یاد نہیں رہتا، ان کو ان کی سالگرہ کا دن یاد دلوانا پڑتا ہے۔ ثمینہ پیرزادہ نے اپنی زندگی مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کرتے ہوئے ہی گزاری ہے۔
ثمینہ پیرزادہ سے جب بھی بات کی جائے تو وہ یہی کہتی ہیں کہ انسان ہر کام کرسکتا ہے۔ جب تک آپ پانی میں کھڑے نہیں ہوں گے تو آپ کو پانی کی گہرائی کا پتا نہیں چلے گا۔ بالکل اسی طرح آپ سمندر کی لہروں کا باہر بیٹھ کر اندازہ نہیں کرسکتے، اس لئے کسی بھی کام کو کرنے سے قبل انسان کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ شاید اسی لئے وہ خواتین کے حقوق اور معاشرے میں ان کی یکساں اہمیت اجاگر کرنے کے لئے زیادہ سرگرم نظر آتی ہیں۔
