ٹیکنالوجی

آسٹروفزکس کی بنیادیں ہلانے والے سیارے سے متعلق حیران کن تحقیق

نیوٹران اسٹار کا ایک چکر تقریباً 1 گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے۔

Web Desk

آسٹروفزکس کی بنیادیں ہلانے والے سیارے سے متعلق حیران کن تحقیق

نیوٹران اسٹار کا ایک چکر تقریباً 1 گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے۔

نیوٹران اسٹار کا ایک چکر تقریباً 1 گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے، فوٹو بشکریہ گوگل
نیوٹران اسٹار کا ایک چکر تقریباً 1 گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے، فوٹو بشکریہ گوگل

کائنات بے شمار سربستہ رازوں اور حیران کردینے والے عجائبات سے بھری پڑی ہے۔ زیادہ تر تباہ ستارے سیکنڈوں میں مکمل گھوم لیتے ہیں لیکن حال ہی میں دریافت کیے گئے نیوٹران اسٹار کا ایک چکر تقریباً 1 گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے۔

یونیورسٹی آف سڈنی اور آسٹریلیا کی قومی سائنس ایجنسی سی ایس آئی آر او کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ ایک نیوٹران ستارے کا گھومنے وقت اب تک دریافت کردہ کسی بھی ستارے کے مقابلے میں سست ہے۔ اب تک 3 ہزار میں سے کوئی اور ریڈیائی لہریں خارج کرتا ہوا نیوٹران اسٹار اتنی آہستگی سے گھومتا دریافت نہیں ہوا۔

مطالعے کے نتائج آج 5 جون کو نیچر آسٹرولوجی میں شائع ہوئے ہیں۔ سرکردہ محقق منیشا کالیب کا کہنا ہے کہ ریڈیائی لہریں خارج کرنے والے نیوٹران اسٹار امیدوار کو دریافت کرنا انتہائی غیر معمولی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ فلکیاتی طبی ماڈلز کیلئے اس ستارے کے پیش کردہ چیلنجز غیر معمولی ہیں کہ یہ ستارہ روشنی کس شرح سے خارج کرتا ہے۔

سرکردہ محقق منیشا کالیب نے کہا کہ روشنی خارج کرنے کی رفتار ریڈیو نیوٹران اسٹار کے رویے کی موجودہ وضاحتوں کے ساتھ فزکس کے اصولوں کے تحت فٹ نہیں ہوتی جس سے ہمیں ایک نئی بصیرت ملتی ہے۔ زندگی کے اختتام پر بڑے ستارے سورج کی کمیت کا 10 گنا زیادہ ایندھن استعمال کرنے لگتے ہیں اور پھر ایک ہولناک دھماکے کے ساتھ پھٹ جاتے ہیں۔

محقق منیشا کالب نے کہا کہ دھماکے کو سپر نووا کہا جاتا ہے جس کے بعد ایک تاریک باقیات رہ جاتی ہے جس کی کمیت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ہمارے سورج کے مقابلے میں 1.4گنا مادہ صرف 20 کلومیٹر کی ایک گیند میں بھرا ہوتا ہے۔ یوں منفی چارج شدہ الیکٹران مثبت چارج میں ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں اور کھربوں غیر جانبدار چارج ذرات سے نیوٹران اسٹار بنتا ہے۔

اپنے محور کے گرد گھومنے کیلئے نیوٹران اسٹار صرف ایک سیکنڈ یا اس سے بھی کم وقت لیتے ہیں تاہم حال ہی میں دریافت کیے گئے نیوٹران اسٹار کے سگنلز نے محققین کو حیران کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس کے سگنلز آسمان میں ایک ہی نکتے سے پیدا نہ ہوتے تو ہم یہ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ یہ ایک ہی چیز ہے جو مختلف سگنلز پیدا کررہی ہے۔

سستی سے گھومنے والا نیوٹران اسٹار ممکنہ طور پر کسی بائنری سسٹم کا حصہ بھی ہوسکتا ہے جس میں نیوٹران اسٹار کے ساتھ ایک اور سفید ستارہ ہوسکتا ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس بات کی تصدیق کیلئے مزید تحقیق کی ضرورت ہوگی کہ آیا یہ نیوٹران اسٹار ہے یا سفید بونا سیارہ جس نے آسٹروفزکس کی بنیادیں ہلادیں۔

تازہ ترین