کھیل

'بابر، شاہین آپس میں بات نہیں کرتے تو گھر بیٹھ جائیں'

وسیم اکرم نے میچ کے بعد گفتگو کے دوران نیا انکشاف کردیا۔

Web Desk

'بابر، شاہین آپس میں بات نہیں کرتے تو گھر بیٹھ جائیں'

وسیم اکرم نے میچ کے بعد گفتگو کے دوران نیا انکشاف کردیا۔

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد سابق پاکستانی کرکٹر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں پر برہم ہیں۔

گزشتہ روز امریکا کے شہر نیویارک کے نساؤ کاؤنٹی گراؤنڈ میں ہونے والے ٹی20 ورلڈکپ کے 19ویں میچ میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت مدمقابل ہوئے۔

پاکستان کے خلاف بھارت کی بیٹنگ لائن بری طرح لڑکھڑا گئی اور پوری ٹیم 19 اوور میں 119 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

بھارت نے پاکستان کو جیت کیلئے 120 رنز کا ہدف دیا تھا مگر پاکستانی ٹیم بھارت کے آسان ہدف کے تعاقب میں بھی ناکام رہی اور 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 113 رنز ہی بناسکی۔

سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم اور سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے کپتان بابر اعظم، محمد رضوان، افتخار احمد، شاہین آفریدی اور فخر زمان جیسے سینیئر کھلاڑیوں کی غفلت پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

میچ کے بعد وسیم اکرم نے 'اسٹار اسپورٹس' پر گفتگو کے دوران جسپریت بمرا کی بال پر محمد رضوان کے غلط شاٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 'محمد رضوان 10 سال سے کرکٹ کھیل رہے ہیں، میں اب انہیں نہیں سکھا سکتا، رضوان کو کھیل کی سمجھ بوجھ نہیں ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'رضوان کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ جسپریت بمرا کو وکٹیں اڑانے کے لیے ہی اوور دیا گیا تھا، عقلمندی یہ ہوتی کہ وہ جسپریت بمرا کی بال کو آرام آرام سے احتیاط سے کھیلتا لیکن رضوان نے ایک بڑا شاٹ لگانے کی کوشش کی اور اپنی وکٹ گنوا بیٹھا'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'پاکستانی کھلاڑی سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اچھی کارکردگی نہیں دکھائیں گے تو کوچز کو برطرف کر دیا جائے گا لیکن انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا، اب وقت آگیا ہے کہ کوچز کو برقرار رکھا جائے اور پوری ٹیم کو تبدیل کردیا جائے'۔

وسیم اکرم نے کپتان بابر اعظم اور شاہین آفریدی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انکشاف کیا کہ گزشتہ ماہ قومی ٹیم کی کپتانی تبدیل ہونے کے بعد سے وہ دونوں آپس میں زیادہ بات چیت نہیں کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'ٹیم میں ایسے کھلاڑی بھی ہیں جو ایک دوسرے سے بات نہیں کرنا چاہتے، انیں سمجھنا چاہیے کہ یہ انٹرنیشنل کرکٹ ہے اور آپ کو اپنے ملک کے لیے کھیلنا ہوتا ہے، ایسے کھلاڑیوں کو گھر بٹھا دینا چاہیے'۔

میچ کے بعد شعیب اختر نے بھی اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹیم کے مڈل آرڈر پر تنقید کی۔

شعیب اختر نے کہا کہ 'یہ شکست بہت مایوس کن ہے، یہ پاکستان کے لیے ایک بال-ایک رن جتنا آسان میچ تھا، پہلے بھارت کا مڈل آرڈر لڑکھڑا گیا تھا، وہ 11 اوورز میں 80 رنز پر تھے اور 160 کے قریب رنز بنا سکتے تھے لیکن نہیں بنا سکے، مگر پاکستان کے لیے موقع موجود تھا، محمد رضوان مزید 20 رنز بنا کر ٹیم کو میچ جتوا سکتے تھے، افسوس کی بات ہے کہ ہم نے اپنے دماغ کا استعمال نہیں کیا'۔

انہوں نے کہا کہ 'بہت سی چیزوں پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے، ٹیم کی نیت پر، ان کی حکتمت عملی پر، یہ سب ٹیم کے لیے واقعی افسوسناک ہے، پاکستان کو یہ میچ جیتنا چاہیے تھا، وہ جیت کے کافی قریب تھے، جب فخر زمان کریز پر موجود تھا تو ٹیم کو 47 گیندوں پر 46 رنز درکار تھے اور ہمارے پاس 7 وکٹیں موجود تھیں لیکن ہم ایسا نہیں کر سکے، میرے پاس کچھ کہنے کے لیے نہیں بچا اور میں بہت تکلیف میں ہوں'۔

تازہ ترین