وائرل اسٹوریز

عمران خان کی دورانِ سماعت ریکارڈ کی گئی آڈیو جاری

نامعلوم شخص نے سماعت کی آڈیو ریکارڈنگ کرلی تھی۔

Web Desk

عمران خان کی دورانِ سماعت ریکارڈ کی گئی آڈیو جاری

نامعلوم شخص نے سماعت کی آڈیو ریکارڈنگ کرلی تھی۔

تحریک انصاف نے اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سپریم کورٹ میں دوران سماعت ریکارڈ کی گئی آڈیو جاری کردی۔

رواں ماہ 6 جون کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بینچ نے نیب ترامیم کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، سماعت کے دوران عمران خان نے بھی ویڈیو لنک پر جیل سے اپنے دلائل دیے تھے۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے نیب ترامیم کیس کی سماعت کی تھی جس میں عمران خان اڈیالہ جیل سے بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہوئے تھے۔

موجودہ چیف جسٹس نے منصب سنبھالنے کے بعد سے سماعتوں کی لائیو اسٹریمنگ کا آغاز کیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس براہ راست نشرکرنے کی درخواست مسترد کردی تھی اور یہ فیصلہ 4 -1 سے کیا گیا تھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ یہ ٹیکنیکل کیس ہے اس میں عوامی مفاد کا معاملہ نہیں۔

لہٰذا 6 جون کو بھی نیب ترامیم کیس کی سماعت براہ راست نشر نہیں کی گئی تاہم دورانِ سماعت جب عمران خان نے دلائل کا آغاز کیا تو کمرہ عدالت میں موجود کسی نامعلوم شخص نے سماعت کی آڈیو ریکارڈنگ کرلی جوکہ آج پی ٹی آئی کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جاری کردی گئی ہے۔

آڈیو میں سنا جاسکتا ہے کہ عمران خان نے دورانِ سماعت دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن میں چیئرمین نیب پر اتفاق نہیں ہوتا تو اسے تھرڈ امپائر تعینات کرتا ہے، میں کہتا ہوں نیب کا چیئرمین سپریم کورٹ تعینات کرے، تھرڈ امپائر کی طرف سے تعیناتی کے بعد چیئرمین نیب تھرڈ امپائر کے ماتحت ہی رہتا ہے، ہمارے دور میں بھی نیب ہمارے ماتحت نہیں تھا۔

عمران خان نے کہا کہ 27 سال قبل بھی نظام کا یہی حال تھا جس کے باعث سیاست میں آیا، غریب ملکوں کے 7 ہزار ارب ڈالر باہر پڑے ہوئے ہیں، اس کو روکنا ہوگا، دبئی لیکس میں بھی نام آچکے، پیسے ملک سے باہر جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی کسی جمہوریت میں ایسا نہیں ہوسکتا کہ کہ آپ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر کوئی قانون بنائیں اور خود اس کے بینفیشری بن جائیں، ہم اسی لیے سپریم کورٹ کے پاس آئے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ بھارت میں اروند کیجریوال کو آزاد کرکے، سزا معطل کرکے انتخابات لڑنے دیا گیا، یہاں مجھے 5 دنوں میں 3 کیسز میں سزائیں دے کر انتخابات سے باہر کردیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں جیل میں ہوں، میرے لیے تو اچھا ہے کہ یہ ترامیم ہوجائیں، میرے لیے تو آسانی ہوجائے گی لیکن ملک کا حال آپ کے سامنے ہے، ہمارے پاس نہ ڈالرز ہیں، نہ روپے ہیں، دبئی لیکس آئی ہیں، یہ قانون تبدیل کرنے کے بعد تو آپ کسی سے پوچھ بھی نہیں سکیں گے کہ یہ پیسہ باہر کیسے گیا؟

انہوں نے کہا کہ میں دل سے بات کروں تو ہم سب آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لا لگا ہوا ہے۔

بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ مجھے 5 روز میں 3 سزائیں سناکر جیل میں ڈال دیا، اِس کے بعد مجھے ان لوگوں پر کیا اعتبار ہوگا؟ اِس پر جج نے ریمارکس دیے کہ 'جیل میں جاکر تو سیاستدان میں مزید میچورٹی آتی ہے'۔

جج کے اِن ریمارکس پر عمران خان نے طنزیہ قہقہہ لگا کر سوال کیا کہ 'سوری؟ کیا کہا آپ نے جی؟'

جج نے تصحیح کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 'تجربہ، مزید تجربہ آتا ہے'۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ آڈیو کے اختتام میں سنا جاسکتا ہے کہ عمران خان نے دلائل کے دوران اپنی حکومت کے خلاف سازش اور امریکی سائفر کا حوالہ دینے کی بھی کوشش کی تھی تاہم ججز نے بانی پی ٹی آئی کو اس بارے میں بات کرنے سے روک دیا۔ 

تازہ ترین