دلچسپ و خاص

جسم میں چھوٹی آنت کیسے کام کرتی ہے؟

یہ پروسیس خودکار طور پر مختلف پٹھوں کا ایک مربوط سلسلہ متحرک کرتا ہے

Web Desk

جسم میں چھوٹی آنت کیسے کام کرتی ہے؟

یہ پروسیس خودکار طور پر مختلف پٹھوں کا ایک مربوط سلسلہ متحرک کرتا ہے

جسم میں چھوٹی آنت کیسے کام کرتی ہے؟

 ہمارے جسم میں غذا ہضم کرنے والا جو نظام کام کر رہا ہے، چھوٹی آنت اس کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے اور یہی وہ عضو ہے جو ہماری کھائی ہوئی غذا کو مختلف حالتوں میں تبدیل یا پروسیس کرتے ہوئے غذائیت بخش اجزا کو جسم میں جذب ہونے کے قابل بناتا ہے۔

 اوسطاً چھوٹی آنت کی لمبائی 6 میٹر سے کچھ زیادہ ہوتی ہے یعنی ایک سرے سے دُوسرے سرے تک یہ آنت 19.7 فٹ طویل ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے پیچ دَر پیچ صورت میں ہمارے پیٹ کے محدود حصے میں محفوظ کر دیا ہے۔

 چھوٹی آنت کا قطر 2.5سینٹی میٹر سے 3 سینٹی میٹر تک ہو سکتا ہے جو ایک انچ اور 1.2انچ کے مساوی ہے۔ چھوٹی آنت تین مختلف اور منفرد حصوں پر مشتمل ہوتی ہے جنہیں ڈیوڈینم (Duodenum)، جیجونم (Jejunum) اور ایلیئم (Ileum) کہتے ہیں۔ ڈیوڈینم دَرحقیقت چھوٹی آنت کو معدے سے جوڑتا ہے اور یہی وہ اہم جگہ ہے جہاں معدے سے نیچے اُترنے والی غذا میں مزید خامرے شامل ہو کر اس کے حصے بخرے کرتے ہیں۔

 چھوٹی آنت کے اس ابتدائی حصے میں غذا، امینوایسڈ کی حالت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگرچہ ڈیوڈینم غذا کی ہیئت تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جس میں پتّا، جگر اور لبلبے سے خارج ہونے والے خامرے یا انزائم اور صفرا اس کی مدد کرتے ہیں تاہم یہ چھوٹی آنت کا سب سے چھوٹا عنصر ہوتا ہے جس کی اوسط لمبائی تقریباً 30 سینٹی میٹر یا 11.8 انچ ہوتی ہے۔

 ڈیوڈینم کے بعد جیجونم کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ چھوٹی آنت کےا س حصے کا بنیادی کام یہ ہوتا ہے کہ وہ کاربوہائیڈریٹس اور پروٹینز کے انجذاب کی حوصلہ افزائی کرے۔ اس مقصد کیلئے غذا کے تبدیل شدہ سالموں کو جیجونم ایک بڑے حصے سے گزارتا ہے تا کہ یہ دوران خون میں شامل ہو سکیں۔

 اس حصے میں اُنگلی جیسے بہت چھوٹے ڈھانچے ہوتے ہیں جنہیں Villi کہتے ہیں۔ یہ ڈھانچے چھوٹی آنت کی اندرونی دیواروں کے ساتھ پرت دَر پرت اُبھرے ہوتے ہیں اور دورانِ خون میں غذائیت بخش اجزا کے انجذاب میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ایلیئم چھوٹی آنت کا سب سے آخری حصہ ہے اور اس کا اہم کام ان غذائیت بخش اجزا کو پکڑنا ہوتا ہے جو چھوٹی آنت کے ابتدائی حصوں میں سفر کے دوران گرفت میں آنے سے رہ گئے تھے۔ چھوٹی آنت کے اسی حصے میں وٹامن B12اور صفرے کی نمکیات بھی خون میں جذب ہوتی ہیں۔

چھوٹی آنت تبدیل شدہ غذا کو بڑی آنت تک دھکیلنے کیلئے جو حرکت کرتی ہے اسے Peristalsis کہتےہیں۔ اسی پیچ دار حرکت یا حرکت دوری یا انقباضی حرکت کے نتیجے میں فضلہ نیچے کی سمت پھسلتا ہے۔ بڑی آنت میں فضلہ تھوڑی دیر کیلئے محفوظ ہوتا ہے اور پھر بڑی آنت کے آخری حصے یا قولون کے راستے خارج ہو جاتا ہے۔

 یہ پروسیس خودکار طور پر مختلف پٹھوں کا ایک مربوط سلسلہ متحرک کرتا ہے جو تہہ دَر تہہ آنتوں کی بیرونی دیواروں میں ہوتے ہیں۔