پاکستان

فاطمہ جناح کو الیکشن لڑنے پر راضی کرکے دھوکہ دینے والا کون تھا؟

حامد میر نے اپنے کالم میں تاریخی حقائق پر روشنی ڈالی۔

Web Desk

فاطمہ جناح کو الیکشن لڑنے پر راضی کرکے دھوکہ دینے والا کون تھا؟

حامد میر نے اپنے کالم میں تاریخی حقائق پر روشنی ڈالی۔

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

معروف شاعر حبیب جالب فرماتے ہیں کہ اگر مادر ملت فاطمہ جناح کو مولانا بھاشانی دھوکہ نہ دیتے تو شاید پاکستان نہ ٹوٹتا اور آج حالات مختلف ہوتے۔

یہ مولانا بھاشانی کون تھے؟ انہوں نے خود فاطمہ جناح کو الیکشن لڑنے پر راضی کرکے دھوکہ کیوں دیا؟ سینئر صحافی حامد میر نے اپنے کالم میں اِن تاریخی حقائق پر روشنی ڈالی ہے۔

حامد میر لکھتے ہیں کہ 'مادرِ ملت فاطمہ جناح کے ساتھ جو کچھ پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان نے کیا اس کا تو بہت ذکر ہوتا ہے لیکن جو کچھ جنرل ایوب خان کی اپوزیشن میں شامل کچھ سیاستدانوں نے کیا اس پر بھی بات کرنے اور اللہ تعالیٰ سے اجتماعی معافی مانگنے کی ضرورت ہے کیونکہ جو کچھ ہم نے قوم کی ماں کے ساتھ اس کی زندگی میں کیا اس کا خمیازہ یہ قوم آج تک بھگت رہی ہے'۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ '1964ء میں جنرل ایوب خان نے صدارتی الیکشن کا اعلان کیا تو حکمران جماعت مسلم لیگ کئی دھڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ کنونشن مسلم لیگ فوجی ڈکٹیٹر کی حمایت کر رہی تھی۔ کونسل مسلم لیگ کے رہنماؤں ممتاز دولتانہ، سردار شوکت حیات، خواجہ صفدر اور چودھری ظہور الٰہی نے مادر ملت کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما مولانا عبدالحمید بھاشانی، خان عبدالولی خان، عوامی مسلم لیگ کے شیخ مجیب الرحمان، جماعت اسلامی کے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی سمیت کئی جماعتوں نے مادر ملت کی حمایت کا اعلان کردیا'۔

یہاں انٹری ہوتی ہے مولانا بھاشانی کی۔ حامد میر لکھتے ہیں کہ 'فاطمہ جناح صدارتی الیکشن لڑنے کیلئے تیار نہ تھیں لہٰذا مولانا بھاشانی ان کے پاس کراچی آئے اور ان سے الیکشن لڑنے کی درخواست کی۔ مولانا بھاشانی کو مادر ملت تحریک پاکستان کے زمانے سے جانتی تھیں لہٰذا انہوں نے الیکشن لڑنے پر آمادگی ظاہر کردی'۔

محترمہ فاطمہ جناح کی شخصیت وفاق کی مضبوط علامت بن کرسامنے آئی۔ ملک کے مشرقی حصے میں بھاشانی اور شیخ مجیب ان کے پیچھے کھڑے تھے، مغربی حصے میں ولی خان اور غوث بخش بزنجو سے لیکر خیر بخش مری اور مولانا مودودی ان کےپیچھے کھڑے تھے۔

جنرل ایوب خان نے فیئر اینڈ فری الیکشن کی بجائے خفیہ اداروں اور پولیس کے ذریعے دھاندلی اور مار دھاڑ شروع کردی۔ پنجاب میں مادر ملت کے جلسوں پر جگہ جگہ غنڈے چھوڑے گئے۔ بلوچستان میں مادرملت کے پولنگ ایجنٹوں میر جعفر خان جمالی اور غوث بخش بزنجو کو گرفتار کرلیا گیا۔ کچھ مولویوں نے عورت کی حکومت کے خلاف فتویٰ دیا تو مفتی محمد شفیع نے مادر ملت کے حق میں فتویٰ دے دیا۔

مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان نے مادرِ ملت کے بڑے بڑے جلسے منعقد کرائے جن سے جنرل ایوب خان لرز گیا۔

یہ وہ موقع تھا جب مولانا بھاشانی نے 40 لاکھ روپے کے عوض مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا سودا کرلیا۔

اپنے کالم میں حامد میر 'داستان ِخانوادہ میاں محمود علی قصوری' کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ 'مولانا بھاشانی نے ایوب خان سے پیسے لے کر مادر ملت کی انتخابی مہم کو اپنے زیر اثر علاقوں میں ٹھنڈا کردیا اور 2 جنوری 1965ء کو انہیں ووٹ بھی نہ ڈلوائے۔ نیشنل عوامی پارٹی کی قیادت کوفوراً مولانا بھاشانی کی غداری کا پتہ چلا تو پارٹی کے 3 رہنما میاں محمود علی قصوری، خان عبدالولی خان اور ارباب سکندر اس معاملے کی تحقیقات کیلئے پہلے ڈھاکہ اور پھر مولانا بھاشانی کے گائوں پنج بی بی پہنچ گئے اور طویل بحث کے بعد مولانا بھاشانی نے تسلیم کیا کہ انہوں نے چو این لائی کی درخواست پر ایوب خان کی مدد کی'۔

اِس طرح شیخ مجیب نے ڈھاکہ اور چٹاگانگ میں مادر ملت کو جتوا دیا تھا لیکن باقی علاقوں میں بھاشانی نے مادر ملت کو ہروا دیا۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ مادرِ ملت مشرقی پاکستان سے اکثریت حاصل کرلیتیں اور الیکشن جیت جاتیں تو شاید پاکستان نہ ٹوٹتا۔

ایوب خان نے الیکشن جیت کر پاکستان کو ہروا دیا۔ اِس جرم میں پاکستان کی سول و ملٹری بیوروکریسی کے سب سے بڑے سہولت کار مولانا بھاشانی تھے۔

مولانا بھاشانی کے اِس کردار سے آپ میں سے کتنے لوگ پہلے سے واقف تھے؟ کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیے گا۔