فلم / ٹی وی

استری 2، حقیقی کہانی نے رونگٹے کھڑے کردیے

استری 2 کی کہانی حقیقت پر مبنی؟

Web Desk

استری 2، حقیقی کہانی نے رونگٹے کھڑے کردیے

استری 2 کی کہانی حقیقت پر مبنی؟

سر کٹا بھوت کی حقیقی کہانی نے فلم بینوں کے رونگٹے کھڑے کردیے
سر کٹا بھوت کی حقیقی کہانی نے فلم بینوں کے رونگٹے کھڑے کردیے

بالی وڈ کی ممتاز جوڑی ‘شردھا کپور‘ اور ‘راج کمار راؤ‘ کی ہارر کامیڈی فلم ‘استری‘ کی شاندار کامیابی کے بعد فلم استری کے سیکوئل‘استری 2‘  نے بھی ریلیز کے ساتھ ہی سینما گھروں میں سنسنی پھیلانے  کے ساتھ ہی دھوم مچادی۔

سنسنی خیز مراحل اور تھرل کے تڑکے کے ساتھ شردھا کپور کی فلم استری 2 اپنی ریلیز کے ساتھ ہی ناظرین کے دل جیتنے میں کامیاب ہوگئی جبکہ اسکی ڈراؤنی کہانی نے  دیکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے کردیے۔

استری2 حقیقی کہانی پر مبنی؟

15 اگست کو ریلیز ہونے والی ڈائیریکٹر امر کوشک کی فلم استری 2 کے ریلیز ہوتے ہی تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگیا۔

اس ہارر کامیڈی فلم میں اداکارہ شردھا کپور چڑیل کے روپ میں نظر آئیں جبکہ اداکار راج کمار راؤ ایک عام آدمی ہونے کے ساتھ ساتھ ’سرکٹا’ جن سے جنگ لڑتے دکھائی دیے صرف یہی نہیں بلکہ ساتھ ہی اس ہارر فلم میں جابجا کامیڈی کے عنصر نے فلم کو چار چاند لگا دیے۔

ہندوستانی میڈیا آؤٹ لیٹ کی اطلاع کے مطابق 2018 میں ریلیز ہونے والی فلم ’استری’ کے سیکوئل میں چندیری قصبے کی کہانی کا بیان کی گئی ہے جہاں ہر جانب خوفناک ’سرکٹے بھوت کی دہشت  کا راج ہے۔

 "استری 2" کی کہانی ایک ایسے سر کٹے  بھوت کے بارے میں ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہر رات اس علاقے میں گھوڑے پر سوار ہوکر شہر کے گرد گھومتا ہے۔

مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ سرکتا بھوت علاقے کی حفاظت کرتا ہے  اوریہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں جرائم کی شرح کافی حد تک کم ہوگئی ہے۔

کہانی کی حقیقت کیا؟

رپورٹ کے مطابق مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ سرکتا بھوت ایک برطانوی فوجی ڈبلیو ایچ وارڈیل کا بھوت ہے جسے 1983 میں لانس ڈاؤن کینٹ کا کمانڈنگ آفیسر بنایا گیا تھا۔

جب وہ پہلی جنگ عظیم کے دوران فرانس میں جرمن افواج سے لڑتے ہوئے مر گیا، مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی روح چھاؤنی کے علاقے میں گھومتی ہے کیونکہ وہ اپنی موت سے پہلے لینڈز ڈاؤن میں تعینات تھا۔

اصل استری کی کہانی کیا؟

واضح رہے کہ اصل استری دراصل ایک ایسی خاتون کی روح ہے جو اپنا انتقام لینا چاہتی ہے۔

اس خاتون کی روح  مردوں کو نشانہ بناتی ہے اور انہیں مار کر بس انکے کپڑوں کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑتی۔کہا جاتا ہے کہ یہ کہانی 1990 کی دہائی میں بنگلور میں شروع ہونے والی نالے با کی ٹھنڈک لوک داستانوں سے متاثر ہے۔

لیجنڈ کے مطابق، ایک چڑیل رات کے وقت سڑکوں پر گھومتی تھی تاکہ غیر مشکوک مردوں کا شکار کر سکے۔

یہ خیال کیا جاتا تھا کہ چڑیل مردوں کی ماں، بیوی یا بہن کی آوازوں کی نقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تاکہ انہیں اپنے گھروں کے  دروازے کھولنے پر آمادہ کرسکے۔

اور وہ مرد، جنہوں نے چڑیل کی آواز سے دھوکا کھاتے ہوئے اپنے گھروں کا  دروازہ کھولا وہ 24 گھنٹوں کے اندر  اندر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا تھا۔