ٹیکنالوجی

ویڈیو، ایلون مسک کی سیٹلائٹ زمین پر آگری

ایلون مسک کی ایک اور سیٹلائٹ تکنیکی خرابی کے سبب ناکام

Web Desk

ویڈیو، ایلون مسک کی سیٹلائٹ زمین پر آگری

ایلون مسک کی ایک اور سیٹلائٹ تکنیکی خرابی کے سبب ناکام

دنیا کے سب سے امیر ترین شخص ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے ذیلی ادارے 'اسٹار لنک' کی سیٹلائٹ کے زمین پر واپس آگرنے کی ویڈیو نے سب کی توجہ حاصل کرلی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'الجزیرہ' کی رپورٹ کے مطابق اسٹار لنک کی خلاء میں بھیجی گئی سیٹلائٹ کسی تکنیکی خرابی کے سبب زمین پر آگری ہے۔

ادارے نے ویڈیو بھی جاری کی جس میں ایک آگ کا گولا تیز رفتاری سے زمین کی طرف آرہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا آگ کا گولا کوئی میٹریو نہیں ہے بلکہ یہ سیٹلائٹ ہے جسکو ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا ذیلی ادارہ اسٹار لنک آپریٹ کر رہا تھا۔ فضا میں اوپر کی جانب جاتے ہوئے یہ زمین کی جانب واپس لوٹ گیا اور تیزی سے گرتا نظر آیا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ رواں سال جولائی کے مہینے میں اسٹار لنک کی 20 سیٹلائٹس زمین پر واپس آگری تھیں جس کی وجہ اسپیس ایکس کے انجن میں آنے والی تکنیکی خرابی ہے۔

سٹار لنک منصوبہ کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟

سٹار لنک سیٹلائٹس کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے انٹرنیٹ سروس مہیا کرتا ہے۔ اس کا مقصد ان افراد کو تیز ترین انٹرنیٹ کی سروس مہیا کرنا ہے جو زمین کے دور دراز یا دیہی علاقوں میں رہتے ہیں اور انھیں تیز انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں۔

اسٹارلنک ایک بہت بڑا سیٹلائٹ سسٹم ہے جس کا مقصد زمین کے سب سے دور دراز علاقوں کو بھی تیز رفتار انٹرنیٹ سروس فراہم کرنا ہے۔ اسے ایلون مسک کی کمپنی SpaceX نے 2015 سے تیار اور تعمیر کیا ہے۔ 

اس میں مصنوعی سیارہ کام کرتا ہے جسے "برج" کے نام سے جانا جاتا ہے، مختلف علاقوں میں کوریج فراہم کرنے کے لیے زمین کے گرد مربوط انداز میں حرکت کرتے ہیں۔

رواں سال جنوری میں ٹیکنالوجی کمپنی سپیس ایکس نے سٹار لنک فون سروس کے لیے پہلا سیٹلائٹ لانچ کیا تھا جو صارفین کو زمین پر موجود موبائل ٹاور سے رابطہ نہ ہونے کی صورت میں سپیس انٹرنیٹ سے جوڑ نے کے منصوبے کے تحت بھیجا گیا تھا۔

نئی رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا ایک راکٹ رواں سال کسی وقت ایک سادہ 4 جی نیٹ ورک کو چاند پر پہنچائے گا۔

اس مشن میں موجود لینڈر 4 جی نیٹ ورک کو چاند کے قطب جنوبی میں نصب کرے گا جس کے بعد اسے زمین سے کنٹرول کیا جائے گا۔