فلم / ٹی وی

’کبھی میں کبھی تم’ اتنا مقبول کیوں؟ وجوہات جانیے

ہانیہ اور فہد کی آن اسکرین کیمسٹری نے صارفین کے دل جیت لیے

ایمن ملک

’کبھی میں کبھی تم’ اتنا مقبول کیوں؟ وجوہات جانیے

ہانیہ اور فہد کی آن اسکرین کیمسٹری نے صارفین کے دل جیت لیے

’کبھی میں کبھی تم’ اتنا مقبول کیوں؟ وجوہات جانیے

پاکستان سمیت بھارتی شائقینوں کو بھی اپنا دیوانہ بنانے والا ڈراما سیریل ’کبھی میں کبھی تم’ کی کہانی اتنی مقبولیت کی حامل کیسے بنی یہ سوال شاید ہر ایک کے ذہن میں گھوم رہا ہوگا؟

پاکستانی ڈرامے یوں تو ایک الگ ہی کہانی لے کر ٹیلی ویژن اسکرینز کی زینت بنتے ہیں جس میں کوئی نہ کوئی ایک ایسا سبق ضرور ہوتا ہے جو لوگوں کے دل و دماغ پر برسوں سوار رہتا ہے۔

لواسٹوری ہو یا کامیڈی، روایتی ساس بہو کی کہانی ہو یا ایکشن ڈراما  مصنفین کے قلم کی زینت بننے والے گزشتہ دہائیوں میں ہمارے ٹی وی اسکرینز پر روایتی خاندانی سیریلز کا راج رہا ہے جنہیں دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ کہانی شاید ہماری ہی زندگی پر مبنی ہو۔

ایساہی ایک ڈراما ’کبھی میں کبھی تم’ ان دنوں پاکستان سمیت سرحر پار بھی اپنی مقبولیت کی دھاک بٹھا رہا ہے، جس میں ایک ایسے جوڑے کی کہانی شامل ہے جو غیر ارادی طور پر شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں۔

ڈرامے کی کہانی دو بھائیوں اور انکی بیویوں کے گرد گھوم رہی ہے جن میں سے بڑا بھائی عدیل (عماد عرفانی) پیسوں کی لالچ میں اپنی باس رباب (نعیمہ بٹ) کیلئے اپنے والد کے دوست کی بیٹی شرجینا (ہانیہ عامر) سے شادی کرنے سے انکار کردیتا ہے جبکہ اسی اثناء میں چھوٹا بھائی مصطفیٰ (فہد مصطفیٰ) شرجینا سے شادی کرلیتا ہے۔

تو آئیے وہ وجوہات جانتے ہیں جو خوبصورتی سے لکھی گئی اور بے مثال فنکاروں کی ذریعے پیش کی اس کہانی کی مقبولیت کی وجہ بنیں۔

مصطفیٰ اور شرجینا کی آن اسکرین کیمسٹری:

اسکرین گریب
اسکرین گریب

ڈراما سیریل ’کبھی میں کبھی تم’ کی مقبولیت کی اولین وجہ ہانیہ عامر عرف شرجینا اور فہد مصطفیٰ عرف مصطفیٰ کی آن اسکرین جوڑی ہے جو اس ڈرامے کو تقویت بخش رہی ہے۔

محبت، دوستی، اور خاندانی تعلقات پر مبنی ہے اس کہانی میں شرجینا  اور مصطفیٰ کی محبت، تنازعات اور جذباتی لمحات نے ناظرین کی توجہ حاصل کی ہے۔ انکی پیار بھری نوک جھوک، ایک دوسرے کا خیال رکھا اور عزت کی خاطر دنیا کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوا ناظرین کو بے حد متاثر کر رہا ہے۔

والدین کی ناانصافی:

اسکرین گریب
اسکرین گریب

اس کہانی میں اگرچہ کہ والد کے کردار کو نہایت ہی خوبصورتی سے دکھایا گیا ہے وہیں والدہ کا کردار اس نوعیت سے منفی ہے کہ وہ اپنے دونوں بیٹوں عدیل اور مصطفیٰ کے درمیان فرق کرتی ہیں۔

کہانی میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کیسے بعض اوقات والدین اپنے بچوں میں پسندیدگی اور ناپسندیدگی کے اظہار میں جانبدار ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے بچوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔

پیسوں کی طاقت:

اسکرین گریب
اسکرین گریب

کہا جاتا ہے کہ پیسا ہاتھ کا میل ہوتا ہے اور پیسوں کے زور پر پوری  دنیا فتح کی جاسکتی ہے اس جملے کی جیتی جاگتی مثال ڈراما سیریل ’کبھی میں کبھی تم’ میں دیکھی گئی۔

مصطفیٰ اور شرجیناجو  اپنی حیثیت کے مطابق کم پیسوں میں خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں وہیں رباب جو کہ ایک امیر بزنس مین کی اکلوتی بیٹی ہیں پیسے کی طاقت کا  استعمال کرتے ہوئے پورے گھر اور اسکے لوگوں پر حکومت کرنے کا خواب سجائے بیٹھی ہے۔

دیکھا جائے تو اس کہانی سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ پیسہ کس طرح انسان کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مالی حیثیت اور دولت کا کردار کس طرح لوگوں کے تعلقات کو متاثر کرتا ہے۔ اور یہ بھی کہ  پیسے سے دوستی میں کچھ لوگ اپنی اخلاقیات اور اصولوں کو بھول جاتے ہیں۔

والدین کی سپورٹ اور مثبت  کردار:

اسکرین گریب
اسکرین گریب

ایک جانب جہاں مصطفیٰ کے والدین ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں وہیں شرجینا کے والدین کا پازیٹیوو رول بھی ہر دل کی پسند بنتا دکھائی دیا۔ شرجینا کے والدین کا مثبت اور معاون کردار اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ  مشکل وقت میں حقیقی محبت اور حمایت کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔

یہ کردار نہ صرف کہانی کو دلچسپ بناتے ہیں بلکہ ناظرین کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ زندگی میں اچھے لوگ ہمیشہ موجود ہوتے ہیں، جو مشکل حالات میں ہمت اور طاقت دیتے ہیں۔

جبکہ نند کا رشتہ جسکے لیے یہ تصور پایا جاتا ہے کہ نند ہمیشہ بھائیوں کا گھر خراب کرتی ہیں اور انکے رشتے میں پھوٹ ڈلواتی ہیں یہ تاثر بھی اس ڈرامے میں ختم ہوگیا۔

مصطفی کی بہن  کا کردار ایک ایسا کردار بن کر ابھرا جو ماں کی منفی سوچ میں شامل نہیں ہوا اور ٖغلطی کے خلاف کھڑا نظر آیا۔

خواتین کیسا تھ مرد حضرات بھی کہانی کے دیوانے:

"کبھی میں کبھی تم" ان نایاب ڈراموں میں سے ایک ہے جو معاشرے میں مردوں کو درپیش مسائل کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

کہ  کیسے مصطفیٰ کو اس وقت نظرانداز کیا جاتا ہے جب وہ اپنی کلاس میں اول نہیں ہوتا، یا جب وہ اپنے بھائی سے کم کماتا ہے، اور کیسے معاشرہ ایسے مردوں کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے جو ان کے طے شدہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔

 یہ سب مصطفیٰ کے کردار کے ذریعے خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ اس وجہ سے یہ ڈراما  مردوں میں بھی اتنی ہی مقبولیت حاصل کر رہا ہے جتنی کہ عورتوں میں۔

 یہ بات شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے کہ کوئی ڈرامہ دونوں جنسوں کے درمیان اتنی دلچسپی پیدا کرے، جو اس کی مقبولیت کا مزید ثبوت ہے۔

ڈرامائی رومانس بمقابلہ حقیقی محبت:

اس ڈرامے کی کہانی اس وجہ سے بھی سب کی اولین ترجیح بنی کیونکہ اس میں مرکزی جوڑی مصطفیٰ اور شرجینا کے درمیان ڈرامائی رومانس کے بدلے حقیقی محبت کو اجاگر کیا گیاہے ۔

اس کہانی میں شرجینا اور مصطفیٰ کی محبت اس خوبصورت انداز میں پروان چڑھی کہ لوگوں کے دلوں میں ان مٹ نقش چھوڑ گئی۔

اسکرین گریب
اسکرین گریب

کیونکہ انکی محبت میں رومانوی مناظر، لڑکیوں کا لڑکوں پر گِرنا اور اوٹ پٹانگ حرکتیں شامل نہیں تھیں بلکہ  ان کا رومانس پرانی طرز کا  دکھایا گیا  جو زیادہ تر آنکھوں میں نظر آتا ہے۔

جس میں مصطفیٰ کا شادی کے بعد فریج سے بریانی کا پورا برتن نکالنا، ان کے پہننے کے کپڑے، اور سڑک کنارے ڈھابوں پر کھانا، یہ سب کچھ اس ڈرامے میں دکھایا گیا ہے جو ایک عام متوسط طبقے کے شخص سے جڑتا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے لمحات کہانی کو ہر کسی کے دل کے قریب لے آئے ہیں، اور لوگ شرجینا اور مصطفیٰ کے حق میں مزید حمایت کر رہے ہیں۔

یہ تمام عوامل مل کر "کبھی میں کبھی تم" کو ناظرین کے لیے ایک ایسا ڈراما بنا رہے ہیں جو شاید برسوں تک یاد رکھا جائے گا۔