اسکینڈلز

مفتی طارق مسعود کو اپنے بیان پر معافی کیوں مانگنی پڑ گئی؟

مفتی طارق مسعود کی جانب سے معافی نامہ جاری

طوبیٰ خضر حیات

مفتی طارق مسعود کو اپنے بیان پر معافی کیوں مانگنی پڑ گئی؟

مفتی طارق مسعود کی جانب سے معافی نامہ جاری

سوشل میڈیا پر  ‘ایک سے زائد شادیوں' سے متعلق  بیانات کی وجہ سے وائرل رہنے والے پاکستان کے معروف عالمِ دین مفتی طارق مسعود  ایک مشہور مذہبی شخصیت ہیں تاہم ان کا حالیہ بیان عوام میں شدید غصہ کا باعث بن گیا۔

سوشل میڈیا پر مفتی طارق مسعود کا ایک  بیان وائرل ہورہا ہے جس میں انہیں اپنے  خطاب کے دوران  ایسی باتیں کہتے سنا گیا جن سے توہینِ اسلام، توہینِ صحابہ اور توہینِ پیغمبرﷺ کا پہلو نکلتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ  مفتی طارق مسعود مجمع میں بیٹھے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘آخری نبی ﷺ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے اسلیے جب وحی آتی تھیں تو صحابہ اسے لکھ تو لیتے تھے لیکن ری چیک کرنے کیلئے کوئی موجود نہیں تھا اسلیے قرآن کریم کے اندر مِسٹیک(غلطی) نہ ہونے کا مؤقف بلکل غلط اور  یہ بات قابل مواخذہ ہے لیکن اب یہ غلطیاں درست نہیں ہوسکتیں کیونکہ اللہ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے‘۔

معاملہ صرف یہاں تک نہیں رُکا مفتی طارق مسعود کی جانب سے اپنے بیان میں نبی الآخرالزماں ﷺ کی شان میں مزید قابل اعتراض باتیں بھی کیں گئی ہیں جو مندرجہ بالا ویڈیو میں سنی جاسکتی ہیں۔

حیران کُن بات یہ ہے کہ ان کی باتوں کی اندھی تقلید کرتے مجمع میں سے کسی نے بھی اس بات کے خلاف آواز اٹھانے یا انہیں درست کرنے کی کوشش نہیں کی۔، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تمام حاضرین مفتی کی فضول باتوں پر سر ہلاتے ہوئے تائید کررہے ہیں۔

وائرل ویڈیو نے تہلکہ مچادیا

طارق مسعود کا بیان وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر تہلکہ مچ گیا صارفین کا کہنا ہے کہ 'مولانا نے اپنے بیان میں جو باتیں کہیں ہیں اس میں تنقیصِ حضورﷺ اور تنقیصِ صحابہ دونوں شامل ہیں جس پر حکومت کی جانب سے  قانون کے تحت مقدمہ درج  کر کے کارروائی ہونی چاہیے۔

ویڈیو پر ردِعمل دیتے ہوئے ایک جانب جہاں علما کرام کا کہنا ہے کہ ‘عوام الناس میں اس قسم کی گفتگو کرنا بلکل فضول بات ہے آپ لوگوں کو نماز پرھنا سکھائیں یا وضو کرنا  سکھائیں، جہاں ایک جانب لوگوں کو نماز پڑھنا نہیں آتی، کلمہ کے معنی اور مفہوم نہیں پتہ وہاں آپ انہیں قرآن پاک کی گرامر سکھا رہے ہیں کچھ ہوش کے ناخن لیں‘۔

طارق مسعود نے معافی مانگ لی

مذکورہ تنازع کے سوشل میڈیا پر زور پکڑنے کے بعد مفتی طارق مسعود  کے خلاف کراچی کے ایک تھانے میں'توہین مذہب‘ کی ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی ہے۔

جس کے بعد مفتی طارق نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے اپنے الفاظ کی وضاحت پیش کی اور  معافی بھی مانگی۔

وضاحتی بیان میں انہوں نے اپنے پچھلے مؤقف سے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ میں نے ایسے الفاظ استعمال کیے جس سے نبیﷺ کی بے ادبی یا گستاخی کا پہلو نکلتا ہے لیکن کوئی بھی مسلمان ایسا کرنے کا تصور بھی نہیں سکتا اور میرا تو مقصد دین کی دعوت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے اسفار قرآن مجید کی صداقت اور نبیﷺ کی عظمت کو بیان کرنے کے بارے میں۔

مفتی طارق نے خاص کر اس بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جولوگ وہاں موجود تھے وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ میرا بیان قرآن کی صداقت اور نبی ﷺ کی حقانیت کو بیان کرنے کے لیے تھا لیکن میرے ہی بعض اکابر کو کچھ تحفظات ہیں کہ اس عنوان پر بیان کرتے ہوئے مجھ سے الفاط کی بے احتیاطی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں ان الفاظ سے رجوع کرتا ہوں، جن لوگوں کو میری وجہ سے تکلیف پہنچی ان سے میں معافی چاہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے معافی کا طلبگار ہوں۔

ساتھ ہی انہوں نے قرآن کی آیت کا حوالہ دے کر اس بات پر زور دیا کہ اگر کسی سے غلطی ہوجائے تو اسے معاف کردیا جائے۔