وہ پاکستانی فنکار جنہوں نے بھارت میں دھوم مچائی
بین الاقوامی پراجیکٹس کا حصہ بننا ہر فنکار کا ایک خواب ہوتا ہے
کہا جاتا ہے کہ فنکاروں کیلئے فلمی دنیا کی نہ کوئی حد ہوتی ہے نہ کوئی حدود بلکہ یہ فنکار چاہیں تو پوری دنیا پر راج کرسکتے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اب ایسا ہوتا دکھائی دے رہا ہے تو شاید غلط نہ ہوگا کیونکہ پاکستان اداکار اب بھارت کی تمام چھوٹی اور بڑی اسکرینز پر قابض نظر آرہے ہیں۔
ہندوستان میں فلمی صنعت کی شروعات آزادی سے پہلے ہوئی تھی۔ جبکہ آزادی کے بعدایک ہی زبان، ملتی جلتی ثقافت اور کہانیوں کی وجہ سے پاکستانی اور بھارتی ستارے اور مواد ایک دوسرے کے لیے متعلقہ ہوگئے۔
بھارتی عوام نے ہمیشہ پاکستانی ڈرامے دیکھے ہیں جبکہ بھارتی فلمیں پاکستان میں بھی مقبول ہیں۔ کچھ مواقع ایسے بھی آئے کہ پاکستانی ستارے بھارت گئے اور وہاں اپنی صلاحیتوں کی بنا پر بہت تعریفیں سمیٹیں جسکا سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے، اگرچہ سیاسی کشیدگی کی وجہ سے کچھ وقفے بھی آئے ہیں، مگر پاکستانی ستاروں اور ان کی صلاحیتوں کو بھارت میں سراہا گیا ہے۔
اور اس بات سے بھی انکار نہیں کسی بھی فنکار کیلئے بین الاقوامی پراجیکٹس کا حصہ بننا ایک خواب تصور کیا جاتا ہے اور یہی فنکار اگر غیر ممالک میں جا کر اپنے فنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں تو اسے کسی بڑے اعزاز سے کم تصور نہیں کیا جاتا۔
ایسی ہی فنکاروں کی ایک طویل فہرست ہمارے پاس بھی موجود ہے جس میں ماضی کے اداکاروں سمیت نئے دور کے اداکاروں کے نام بھی شامل ہیں جنہوں نے نہ صرف پاکستان میں اپنے فنی صلاحیتوں سے نام کمایا بلکہ بھارت میں بھی اپنی اداکاری سے شائقینوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔
تو آئیے ان فنکاروں کے بارے میں بات کرتے ہیں جنہوں نے چاہے وہ اداکاری کے شعبے سے منسلک ہوں یا موسیقی، کھیلوں سے وابستہ ہوں کسی دیگر پیشے سے پورے بھارت میں دھوم مچاکر یہ ثابت کردیا کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
نور جہاں:
میڈم نور جہاں کا شمار برصغیر کی ورسٹائل اور باصلاحیت گلوکاروں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں تقریباً سو سے زیادہ گانے گائے،یہاں تک کے انکے ملی نغمے آج بھی قوم کے دلوں میں بسے ہوئے ہیں۔
میڈم نور جہاں نے اپنے کیریئر کا آغاز متحدہ ہندوستان میں کیا اور کامیاب فلموں جیسے "انمول گھڑی" اور "میلہ" میں کام کیا۔تاہم تقسیم ہند کے بعد انہوں نے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی کیونکہ ان کے دل میں حب الوطنی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔جہاں انہوں نے اپنے پیدائشی مقام لاہور واپس آکر پاکستانی فلمی صنعت کے لیے خدمات مہیا کرنا شروع کردی۔
محسن خان:
پاکستان کے معروف کرکٹر محسن خان بھی اسی لسٹ میں شامل کیے جاتے ہیں جنہوں نے پاکستان سمیت بھارت میں بھی اپنی شناخت بنائی۔
محسن خان نے اپنے کیریئر میں کئی فلموں جیسے "مہانتا"، "میڈم ایکس"، "فتح" اور "ساتھی"میں کام کیا اور شادی کیلئے بھارتی اداکارہ رینا رائے کا انتخاب کرکے اپنی زندگی کی نئی شروعات کرلی۔تاہم ازدواجی زندگی کے ان چند سالوں میں محسن خان کے ہاں ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی جسکے بعد انہوں نے رینا رائے سے علیحدگی کا فیصلہ کرکے مکمل طور پر پاکستان منتقل ہوگئے اور اپنی کرکٹ کیریئر پر توجہ دی۔
زیبا بختیار:
زیبا بختیار بھی پاکستانی ستاروں کی اسی فہرست میں شامل ہیں جنہوں نے بھارت اور پاکستان دونوں مداحوں کے دلوں میں گھر کیا۔
انکی خوبصورتی، شائستگی اور صلاحیت نے بھارتیوں کو اتنا گرویدہ بنالیا کہ انہوں نے بالی وڈ میں اپنی پہلی فلم "ہنّا" میں رشی کپور کے ساتھ کام کرتے ہوئے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنا شروع کردی۔
بعدازاں انہوں نے "محبت کی آرزو"، "جے وکرانت" اور "مقدمہ" جیسی فلموں میں بھی اداکاری سے بھارتیوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔
جاوید شیخ:
ڈراما سیریل ’کبھی میں کبھی تم’ میں مصطفیٰ کے والد کا کردار ادا کرنے والے جاوید شیخ نے بھی پاکستان سمیت بھارت میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑ رکھے ہیں۔انہوں نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز شاہد کپور کی فلم "شکار" سے کیا اور پھر ’اوم شانتی اوم"، "نمستے لندن"، "اپنے" اور "یووراج" جیسی فلموں کا حصہ بنے نظر آئے۔
لیکن انکے کیرئیر میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے سیاسی کشیدگی کے بعدبالی وڈ میں کام کرنا بند کر دیا۔
فواد خان:
’دی لیجنڈ آف مولا جٹ’ کے اداکار فواد خان بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں جو آج اگر چہ پاکستان کے اے لسٹ فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں وہیں انہوں نے بھارت میں بھی اپنی فنی صلاحیتوں سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔
فواد خان نے جب اداکارہ سونم کپور کیساتھ فلم "خوبصورت" سے فلمی کیرئیر کی شروعات کی تو انہوں نے بھارتی ناظرین کو بھی اپنی خوبصورتی اور اداکاری سے مسحور کر دیا۔
ماہرہ خان:
عالمی شہرت یافتہ پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان بھی پاک بھارت میں یکساں مقبولیت کی حامل ہیں، بن روئے، ہمسفر اور دی لیجنڈ آف مولا جٹ کی اداکارہ ماہرہ خان پاکستانی فلم اور ڈراما انڈسٹری پر تو راج کرتی ہی ہیں تاہم وہ بھارت میں بھی رومانس کے بادشاہ شاہ خان کیساتھ فلم ’رئیس’ میں اداکاری سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا چکی ہیں۔
علی ظفر:
اداکاری کیساتھ موسیقی کی دنیا کا جانا مانا نام علی ظفر بھی ان فنکاروں کی فہرست میں شامل ہیں جنہوں نے بھارت میں بھی اپنے نام کی دھاک بٹھا رکھی ہے۔
علی ظفر نے بالی وڈ فلم ’ٹوٹل سیاپا’، ’میرے برادر کی دلہن’، ’ڈیئر زندگی’، ’لندن پیرس نیویارک’ جیسے کئی فلموں کا حصہ بن کر بھارتی شائقینوں کے دلوں میں مقام حاصل کیا۔
صبا قمر:
خوبصورتی میں اپنی مثال آپ اداکارہ صبا قمر نے بھی دیگر فنکاوں کی طرح ایک منفرد راستہ اختیار کرتے ہوئے ایک غیر روایتی اور غیر شاندار فلم "ہندی میڈیم" پر دستخط کیے، جس میں انہوں نے عرفان خان کے ساتھ اداکاری کے ایسے جوہر بکھیرے کہ ہر کوئی انکا دیوانہ ہوگیا۔
اس فلم نے باکس آفس پر 300 کروڑ روپے کمائے جبکہ ساتھ ہی فلم کو فلم فیئر ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔
سجل علی:
ورسٹائل اداکارہ سجل علی بھی بھارتیوں کے دلوں پر راج کرتی ہیں۔سجل علی نے فلم ’موم’ میں اپنے قابل تعریف اداکاری سے لوگوں کے دلوں کو پگھلا دیا۔ اس فلم میں سجل کی اداکاری کے ساتھ ساتھ بھارتی آنجہانی اداکارہ سری دیوی سے دوستی کے بھی خوب چرچے سنائی دیے۔
ماورا حسین:
لالی وڈ اداکارہ ماورا حیسن کی بالی وڈ فلم ’صنم تیری قسم’ بھی سب کو ہی یاد ہوگی۔
اگرچہ کہ ماورا کو اس فلم میں بولڈ مناظر ریکارڈ کیے جانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن یہ فلم بھارت میں ایک کلٹ کلاسک رومانی فلم کی حیثیت بن کر سامنے آئی۔جس میں اداکارہ نے نہ صرف اپنی اداکاری سے سب کو متاثر کیا بلکہ اپنی خوبصورتی سے بھی لوگوں کو تعریف کرنے پر مجبور کردیا۔



