فلم / ٹی وی

کروسٹوفر نولن کی اسکرپٹس سرخ صفحات پر کیوں درج ہوتی ہیں؟

اداکار سیلیئن مرفی نے اہم راز سے پردہ اٹھا دیا

Web Desk

کروسٹوفر نولن کی اسکرپٹس سرخ صفحات پر کیوں درج ہوتی ہیں؟

اداکار سیلیئن مرفی نے اہم راز سے پردہ اٹھا دیا

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن اپنی شاہکار فلموں کیلئے دنیا بھر میں مقبول ہیں۔

انسیپشن، انٹرسٹیلر، دی ڈارک نائٹ ٹرائیولوجی اور دی پرسٹیج جیسی شاندار فلمیں تخلیق کرنے والے کرسٹوفر نولن کی ہر نئی فلم کو 'ماسٹر پیس' سمجھا جاتا ہے۔

کرسٹوفر نولن کی آخری فلم ’اوپن ہائیمر‘گزشتہ برس 2023 میں ریلیز ہوئی تھی جس کی ہدایت کاری پر کرسٹوفر نولن کو 'گولڈن گلوبز ایوارڈ' سے بھی نوازا گیا۔

فلم اوپن ہائمر میں اداکاری پر فلم کے مرکزی اداکار، سیلیئن مرفی کو بھی بہترین اداکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

سیلیئن مرفی نے اپنے ایک انٹرویو میں کرسٹوفر نولن سے متعلق ایک ایسا انکشاف کیا جس نے مداحوں کو کرسٹوفر نولن کے پروفیشنلزم کا مزید گرویدہ بنادیا۔

امریکی ٹی وی شو '60 منٹس' کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران سیلیئن مرفی نے کرسٹوفر نولن کیجانب سے انہیں بھجوایا گیا اوپن ہائیمر کا اصل اسکرپٹ دکھایا۔

سیلیئن مرفی کو بھیجا گیا یہ اسکرپٹ فلم میں کاسٹ کیے گئے دیگر اداکاروں کو بھیجے گئے اسکرپٹس کی طرح سرخ کاغذ سے تیار کتابچے پر سیاہ روشنائی سے درج تھا۔

کرسٹوفر نولن کا اپنی فلموں کی اسکرپٹس اس طرح لکھنے کا مقصد درحقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے اسکپرٹس کی فوٹو کاپی کرنا مشکل ہوتا ہے۔

لہٰذا لال صفحات پر سیاہ روشنائی سے اسکرپٹس لکھنے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ اسے غیر قانونی طور پر کاپی کیے جانے یا وقت سے پہلے لیک ہونے سے روکنے کی کوشش سے بچایا جا سکے۔

سیلیئن مرفی نے انٹریوی کے دوران بتایا کہ 'کرسٹوفر نولن ہمیشہ سے سرخ کاغذ پر کالی سیاہی سے اسکرپٹس لکھنے کی روایت برقرار رکھتے ہیں، علاوہ ازیں ہر صفحے پر میرے نام کا واٹر مارک بھی ہے، تاکہ اگر یہ لیک ہو جائے تو واضح ہوجائے کہ کاسٹ میں شامل کس اداکار کی غلطی سے اسکرپٹ لیک ہوا ہے'۔

اس سے قبل 'انٹرسٹیلر' فلم کی کاسٹ میں شامل اداکارہ جیسیکا چیسٹین نے بھی 2014 میں فلم کے لیے کرسٹوفر نولن کیجانب سے بھیجا گیا اسکرپٹ دکھایا تھا جو اسی طرح سرخ صفحات پر سیاہ روشنائی سے لکھا ہوا تھا۔