انفوٹینمنٹ

فن مزاحمت کی ایک شکل ہے، حدیقہ کیانی

گلوکارو اداکارہ حدیقہ کیانی کی فلسطینی گلوکار کے شو میں شرکت

Web Desk

فن مزاحمت کی ایک شکل ہے، حدیقہ کیانی

گلوکارو اداکارہ حدیقہ کیانی کی فلسطینی گلوکار کے شو میں شرکت

گلوکارو اداکارہ حدیقہ کیانی کی فلسطینی گلوکار کے شو میں شرکت
گلوکارو اداکارہ حدیقہ کیانی کی فلسطینی گلوکار کے شو میں شرکت

پاکستانی اداکارہ و گلوکارہ حدیقہ کیانی نے معروف فلسطینی گلوکار مروان عبدالحمید المعروف سینٹ لیونٹ کے شو میں شرکت کرکے فلسطین کے حق میں ایک بار پھر اپنی آواز بلند کردی۔

اسرائیلی بربریت برقرار:

گزشتہ ایک سال سے اسرائیلی بربریت فلسطین کے بعد اب لبنان کو بھی نشانہ بناچکی ہے۔ہزاروں معصوم فلسطینیوں کو شہید کرنے کے اور فلسطین کا نام صفحہ ہستی سے مٹانے کے در پر تلے رہنے کے بعد اسرائیلی فوج  نے لبنان، اسرائیل سرحد پر کئی دنوں تک تیاری کے  بعد"شمالی تیر" کے نام سے ایک فوجی آپریشن میں متعدد سرحدی دیہاتوں پر اسرائیلی زمینی حملہ شروع کیا تھا۔

بعدازاں اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار  رہی اور صیہونی فوج  نے عالمی دباؤ مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر لبنان کے دارالحکومت بیروت پر فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں 6 شہری جاں بحق جبکہ 46 زخمی ہوگئے۔

خون ریزی کی اس جنگ میں جہاں پوری دنیا ایک عجیب کیفیت سے دوچار ہے وہیں کئی شوبز ستارے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا استعمال کرتے ہوئے لمحہ بہ لمحہ فلسطین کی حمایت میں پوسٹ جاری کرنے سے گریز نہیں کر رہے۔

حدیقہ کیانی کی فلسطین کے حق میں پوسٹ:

ان اداکاروں میں ایک نام گلوکارہ حدیقہ کیانی کا بھی ہے جنہوں نے اپنی حالیہ پوسٹ سے فلسطین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے لوگوں کو اپنی آواز بلند کرنے کا سبق دیا۔

فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر حدیقہ کیانی نے پوسٹ شیئر کی جس میں انہیں فلسطینی رومال کوفیہ پہنے دیکھا گیا۔

انسٹاگرام کی ایک جھلک میں حدیقہ کیانی معروف فلسطینی، فرانسیسی، الجزائری، سربین ریپ  اور میوزک سٹار سینٹ لیونٹ کیساتھ پوز دیتی نظر آرہی ہیں۔ساتھ ہی منسلک ویڈیو کلپ میں سینٹ لیونٹ اسٹیج پر پرفارم کرتے نظر آرہے ہیں جبکہ انکے پس منظر میں چند لوگ فلسطین کا جھنڈا تھامے جھوم رہے ہیں۔

پوسٹ شیئر کرتے ہوئے حدیقہ کیانی نے کیپشن میں بتایا کہ،’ پچھلے ہفتے میں مجھے فلسطینی گلوکار سینٹ لیونٹ کے لاس اینجلس میں ہونے والے شو میں مدعو ہونے اور اس کی حمایت کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔’

حدیقہ کیانی نے لکھا کہ،’ میں ہجوم کی توانائی  دیکھ کر حیران رہ گئی کیونکہ یہ بالکل ایک احتجاج کی طرح تھا، آزادی اور رہائی کے لیے ایک ریلی – ایک انتہائی خوبصورت تجربہ۔’

گلوکارہ کا کہنا تھا کہ،’ یاد رکھیں کہ فن مزاحمت کی ایک شکل ہے، فلسطینی فنکاروں کی حمایت کریں، اس بات سے باخبر رہیں کہ فلسطین، لبنان، شام اور خطے میں کیا ہو رہا ہے۔ ان لوگوں، کاروباروں اور تنظیموں کی حمایت کریں جن کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ وہ قبضہ ختم کرنے، فلسطین کو آزاد کرنے اور انسانیت واپس لانے کے لیے کچھ کر رہے ہیں۔ یہ مت بھولیں کہ آپ کی آواز ہمیشہ انصاف اور سچائی کے لیے بلند رہے۔’

سینٹ لیونٹ کا فلسطین سے تعلق:

واضح رہے کہ گلوکار سینٹ لیونٹ کا ایک موقع پر اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ’میرے کثیر الثقافت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ میری والدہ فرانسیسی اور الجزائری ہیں اور میرے والد سربین اور ہاف فلسطینی ہیں۔’

گلوکار کے مطابق ،’ میرے والدین دونوں الجزائر میں پلے بڑھے لیکن 1990 کے اوائل میں انہوں نے اوسلو اکورڈز جس میں فیصلہ ہوا کہ فلسطین آزاد ہو جائے گا، واپس فلسطین جانے کا فیصلہ کیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’لہذا وہ واپس فلسطین چلے گئے۔ میرے والد وہاں 1980 کے اوائل میں رہنے گئے تھے۔ میرے والد نے وہاں ہوٹل بنایا اور میں وہیں بڑا ہوا۔‘

سینٹ لیونٹ نے مزید کہا کہ ’سب لوگوں کے لیے بچپن بہت اچھی یادوں والا ہوتا ہے لیکن میرے لیے یہ ملا جلا تھا کیونکہ مجھے ڈرونز کی آوازیں یاد آتی ہیں لیکن سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مجھے غزہ کی اپنائیت اور خوشبو یاد آتی ہے۔ مجھے کھانوں کا ذائقہ یاد آتا ہے اور اُس مٹی کا عجیب ہونا یاد آتا ہے۔‘