عالمی منظر

غزہ سے اظہارِ یکجہتی، بھارتی شاعرہ کا ایوارڈ وصول کرنے سے انکار

ایوارڈ دینے والی این جی او کو امریکی کمپنی کا تعاون حاصل تھا۔

Web Desk

غزہ سے اظہارِ یکجہتی، بھارتی شاعرہ کا ایوارڈ وصول کرنے سے انکار

ایوارڈ دینے والی این جی او کو امریکی کمپنی کا تعاون حاصل تھا۔

شاعرہ اس سے پہلے بھی ایک ایوارڈ ٹھکراچکی ہیں۔
شاعرہ اس سے پہلے بھی ایک ایوارڈ ٹھکراچکی ہیں۔

بھارت سے تعلق رکھنے والی ایک شاعرہ نے غزہ میں اسرائیلی فورسز کے مظالم کا نشانہ بننے والے بچوں اور خواتین سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر ایک اہم ادبی ایوارڈ وصول کرنے سے انکار کر دیا۔

بھارتی صوبے جھارکھنڈ کے مغربی سنگھ بھوم ضلعے سے تعلق رکھنے والی مصنفہ، شاعرہ اور سماجی کارکن 41 سالہ جسنتا کیرکیٹا کے شعری مجموعہ 'جرہل‘ کو بچوں کے ادب کے مصنفین کے ایوارڈز میں’روم ٹو ریڈ ینگ آتھر ایوارڈ‘ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

اس ایوارڈ کے لیے روم ٹو ریڈ انڈیا ٹرسٹ کو امریکا کی ایجنسی برائے عالمی ترقی کا تعاون بھی حاصل تھا، ان تنظیموں کا ہدف بچوں کی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔

 امریکا کی یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (یو ایس اے آئی ڈی) اور روم ٹو ریڈ انڈیا ٹرسٹ کی جانب سے مشترکہ طور پر اس ایوارڈ کی تقریب 7 اکتوبر کو منعقد ہونی ہے۔

کیرکیٹا نے یو ایس اے آئی ڈی اور روم ٹو ریڈ انڈیا ٹرسٹ کو ایک خط لکھ کر مذکورہ ایوارڈ لینے سے انکار کی وجوہات کی وضاحت کی۔

انہوں نے بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'میں نے دیکھا کہ روم ٹو ریڈ انڈیا ٹرسٹ بھی بچوں کی تعلیم کے لیے بوئنگ (کمپنی) سے منسلک ہے، جب بچوں کی دنیا انہی کے ہتھیاروں سے تباہ ہو رہی ہے، تو اسلحے کی تجارت اور بچوں کی دیکھ بھال کیسے ایک ساتھ چل سکتی ہے'؟

کیرکیٹا نے کہا کہ 'ایک شاعرہ کی حیثیت سے میں فلسطین کے بچوں، خواتین اور متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا چاہتی ہوں، موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ادب اطفال کے اس ایوارڈ کو قبول کرنا ان کے لیے مشکل ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ 'میں دیکھتی ہوں کہ فلسطین میں ہونے والی تباہی پر بھارت میں بہت سے لوگ خاموش ہیں،جس طرح ملک میں اقلیتوں کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے، اسی طرح فلسطین کے لوگوں کے لیے کوئی ہمدردی نہیں ہے، ایک شاعرہ اور ادیبہ ہونے کے ناطے، یہ بات مجھے بھی پریشان کرتی ہے'۔

شاعرہ جسنتہ کرکیتا کا تعلق انڈیا کی مشرقی ریاست جھاڑکھنڈ کی اقلیتی آدیواسی برادری سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’آدیواسی لوگ قدرتی ماحول کو بچانے کے ساتھ ساتھ اپنی بقا کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ انسانی آزادیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

کرکیٹا، جھارکھنڈ کی اراؤں قبائلی کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے 7 دیگر کتابیں بھی تصنیف کی ہیں، جن میں ایشور اور بازار، جسنتا کی ڈائری اور لینڈ آف دی روٹس شامل ہیں۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ قبائلی مصنفہ نے اخلاقی بنیادوں پر کسی ایوارڈ کو ٹھکرا دیا ہو، اس سے قبل بھی انہوں نے شمال مشرقی صوبے منی پور میں قبائلی جدوجہد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک اعزاز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔