ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ '2024 کی بااثر ترین شخصیات' میں شامل
ٹائم میگزین نے ماہ رنگ بلوچ کو اس فہرست میں شامل کیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو 'بلوچوں کے حقوق کے لیے پرامن طریقے سے وکالت کرنے' کے لیے ٹائم میگزین کی '2024 ٹائم 100 نیکسٹ' کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
اس فہرست میں 100 نوجوان افراد کو شامل کیا گیا ہے جن میں فنکار، کھلاڑی اور حقوق کے کارکنان شامل ہیں، میگزین کا کہنا ہے کہ اس فہرست کا مقصد 'اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ قیادت اب ایسی نہیں ہوتی جیسے پہلے ہوا کرتی تھی'۔
میگزین نے ڈاکٹر ماہ رنگ کو ان کی حقوق کی پُر امن جدوجہد کے ساتھ ساتھ دسمبر 2023 کے اسلام آباد مارچ کے لیے منتخب کیا، جہاں انہوں نے اور سیکڑوں خواتین نے 'اپنے شوہروں، بیٹوں اور بھائیوں کے لیے انصاف' کی غرض سے مارچ کیا۔
اس اعلان کے بعد ایک فیس بک پوسٹ میں ڈاکٹر ماہ رنگ نے لکھا کہ "میں TIME کی جانب سے دنیا کے 100 ابھرتے ہوئے لیڈروں میں شامل ہونے پر بے حد اعزاز اور خوشی محسوس کر رہی ہوں'۔
انہوں نے مزید لکھا کہ 'میں یہ اعزاز تمام بلوچ خواتین انسانی حقوق کے محافظوں اور جبری طور پر لاپتا ہونے والے افراد کے متاثرین کے خاندانوں کے نام کرتی ہوں۔'
یاد رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اس وقت منظر عام پر آئی تھیں جب انہوں نے اپنے والد غفار لانگو کے دسمبر 2009 میں کراچی کے ایک اسپتال کے باہر سے لاپتہ ہونے کے بعد احتجاجی مظاہروں کی قیادت شروع کی۔
اس وقت وہ پرائمری اسکول کی طالبہ تھیں، چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی، ماہ رنگ نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کے طور پر اپنی اسکول کی کتابوں کو جلا دیا تھا، اور اپنے والد کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا، بعدازاں ان کے والد کی مسخ شدہ لاش 2011 میں ملی تھی۔
دسمبر 2023 میں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کے لیے اسلام آباد میں ایک بڑے مارچ اور دھرنے کے منتظمین میں ڈاکٹر ماہ رنگ بھی شامل تھیں۔
ٹائم میگزین کی 100 بااثر شخصیات کی فہرست میں شامل دیگر قابل ذکر افراد میں بنگلہ دیش کے طالب علم رہنما ناہید اسلام اور غزہ کے فوڈ بلاگر حمدہ شکورہ شامل ہیں۔
ناہید اسلام نے رواں برس جولائی میں بنگلہ دیش میں طلبا کے احتجاج کی قیادت کی، جو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی معزولی اور جلاوطنی پر منتج ہوا۔
وہ اس وقت ڈاکٹر محمد یونس کی زیر قیادت عبوری حکومت میں بطور وزیر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
دوسری جانب غزہ کے حمادہ شکورہ، جو اکتوبر میں تنازعہ شروع ہونے سے پہلے غزہ میں ایک ریسٹورنٹ کے مالک تھے، انہوں نے 'وارٹائم فوڈ بلاگر' کے نام سے ایک پلیٹ فارم قائم کیا۔
وہ امدادی پیکجوں میں پائے جانے والے اجزاء سے ترکیبیں تیار کرتے ہیں اور کھانا پکانے اور تقسیم کرنے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔




