معروف سندھی گلوکار سیف سمیجو پولیس تشدد کا شکار
گلوکار پریس کلب کے باہر احتجاج میں شریک تھے۔
سندھی زبان کے معروف گلوکار سیف سمیجو کراچی میں پریس کلب کے باہر منعقد کیے گئے سندھ رواداری مارچ میں شرکت پر پولیس اہلکاروں کے تشدد اور بدسلوکی کا شکار ہوگئے۔
خیال رہے کہ ایک مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے توہین مذہب کے ملزم ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کی 'حمایت' کرنے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں کے خلاف تین تلوار سے کراچی پریس کلب (کے پی سی) تک مارچ کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب سول سوسائٹی کی تنظیموں نے بھی اسی مقام پر ڈاکٹر کنبھر کے قتل اور صوبے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے خلاف ’سندھ رواداری مارچ‘ کرنے کا منصوبہ بنایا۔
چنانچہ امن و امان کی ممکنہ بگڑتی صورتحال کے پیش نظر حکومت سندھ نے ہفتے کے روز شہر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ہر قسم کے جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کردی تھی۔
یاد رہے کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شاہنواز کنبھر پر توہین مذہب کا الزام تھا جو ثابت ہونے سے قبل خود پولیس اہلکاروں نے انہیں قتل کردیا تھا، جس کے بعد ان کی لاش کو دفنانے سے روکتے ہوئے آگ لگادی گئی تھی۔
اتوار کو، پولیس نے تین تلوار یا کراچی پریس کلب پر مظاہرین کو جمع ہونے سے روکنے کے لیے ضلع جنوبی کے کئی علاقوں میں کنٹینر لگا کر کئی سڑکیں بند کر دیں، تاہم، پابندیوں کے باوجود ٹی ایل پی اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں احتجاج کرنے سے نہیں رکیں۔
ٹی ایل پی کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے میٹروپول ہوٹل کے علاقے کے قریب پولیس اور رینجرز کے ساتھ گھمسان کی لڑائی لڑی، جب کہ سول سوسائٹی کے کارکنوں نے پریس کلب کے سامنے قانون نافذ کرنے والوں سے اس وقت جھڑپیں کی جب انہوں نے انہیں ریلی نکالنے سے روکنے کی کوشش کی۔
اسی واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں معروف سندھی گلوکار سیف سمیجو کو بھی پولیس تشدد کا نشانہ بنتے دیکھا گیا۔
ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ پولیس اہلکار گلوکار کو پولیس وین کی جانب لے جاتے ہوئے نہ صرف بری طرح زدوکوب کررہے ہیں بلکہ انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنارہے ہیں، اسی دھینگا مشتی میں ان کی شرٹ بھی اتر گئی۔
جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھی کہ پولیس نے دیگر افراد کے ساتھ گلوکار سیف سمیجو کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔
شہزاد رائے
اس حوالے سے معروف گلوکار و سماجی کارکن شہزاد رائے نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے گلوکار کی خیریت کی اطلاع دی۔
شہزاد رائے نے کہا کہ 'میری سیف سمیجو سے بات ہوئی ہے اور خدا کا شکر ہیں وہ گھر پر ہیں اور محفوظ ہیں'۔
ان کا مزید کہناتھا کہ 'وہ (سیف) ان سب آرٹسٹس میں سب سے پر امن اور سمجھدار ہیں جنہیں میں جانتا ہوں، یہ ویڈیوز دیکھنا میرے لیے خاصہ تکلیفہ دہ تھا'، آخر ہو کیا رہا ہے'۔
صنم ماروی
علاوہ ازیں معروف صوفی گلوکارہ صنم ماروی نے بھی سیف سمیجو کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر تشویش کا اظہار کیا۔
فیس بک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ 'آج ہم سب نے دیکھا کہ ہمارے ایک فنکار بھائی جناب سیف سمیجو کو سندھ پولیس نے بدسلوکی اور گرفتار کر لیا جب وہ کراچی میں تین تلوار پر ایک پرامن احتجاج میں شریک تھے'۔
صنم ماروی کا مزید کہنا تھا کہ' اگرچہ میں خوش ہوں کہ سیف محفوظ ہیں، لیکن یہ حقیقت کہ انہیں گرفتار کیا گیا تھا، ہم (فنکاروں) کو غیر محفوظ محسوس کراتی ہے۔
گلوکارہ کا مزید کہنا تھا کہ سیف نے ہمیشہ اپنے فن اور کوششوں سے محبت کا پیغام دیا ہے اور اس ویڈیو کلپ کو دیکھ کر میں واقعی پریشان ہوگئی، مجھے امید ہے کہ انصاف ہو گا اور فنکاروں کو وہ عزت ملے گی جس کے وہ حقدار ہیں۔
بعدازاں سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ اتوار کو خواتین مظاہرین اور صحافیوں کی گرفتاری اور ان سے بدتمیزی میں ملوث پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔



