'سمّی سے جفا تک'، ماورا کے سماجی مسائل اجاگر کرتے 6 ڈرامے
ماورا حسین کے سماجی مسائل کو شکست دیتے 6 ڈرامے کونسے؟
ماہرِ نفسیات کہتے ہیں کہ عوام تک کوئی پیغام یا کوئی شعوری بات پہنچانی ہو تو اس کا سب سے اچھا ذریعہ فلم یا ڈراما ہے کیوں کہ ناظرین کہانی سے خود کو جوڑ کر لکھاری کی بات کو بآسانی سمجھ پاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے اداکاروں کی یہ ذمہ داری قرار دی جاتی ہے کہ وہ کسی پراجیکٹ میں کام کرنے سے قبل اس بات کا جائزہ لیں کے اس پراجیکٹ کے معاشرے پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں۔
دنیا میں بعض اسٹارز ایسے ہیں جو صرف اس بات پر غور کرتے ہیں کہ کس پراجیکٹ سے انکو زیادہ پیسے اور شہرت ملے گی جبکہ متعدد ایسے بھی ہیں جو بہت سوچ سمجھ کر اسکرپٹس کا انتخاب کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ انکے کام کی وجہ سے کوئی مثبت پیغام دیکھنے والوں تک جائے۔
پاکستان میں بھی ایسے کئی اداکار اور اداکارائیں ہیں جو اس بات کا خیال رکھتے ہیں اور ان میں سے ہی ایک ماورا حسین بھی ہیں۔
بھاری آواز اور دبلی پتلی جسامت والی اداکارہ ماورا حسین اپنی بہترین اداکاری کے سبب لوگوں کے دلوں پر راج کرتی ہیں۔
’آنگن‘ ، ’ثبات‘ ، ’نوروز‘ ، ’ایک تمنا لاحاصل سی‘ اور ’داسی‘ ان کے سپر ہٹ ڈرامے ہیں جو ناظرین کی جانب سے بے حد پسند کیے گئے۔
ماورا حسین نے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی اپنے فن کا لوہا منوایا اور 2016 میں بالی وڈ فلم ’صنم تیری قسم‘ میں اداکار ہرشوردھن کے ساتھ کام کیا اور صرف ایک ہی فلم سے بالی وڈ کی دنیا میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہیں۔
ماورا حسین کے ڈراموں میں سب سے اہم پہلو اس کی کہانی ہوتی ہے جو معاشرے کے کسی سنگین مسئلے پر روشنی ڈالتی اور اس کا حل پیش کرتی بھی نظر آتی ہے۔
آئیں ماورا حسین کے ایسے 6 ڈراموں کا ذکر کرتے ہیں جو ناظرین کو معاشرے کے مسائل سے روشناس کرواتے ہوئے مثبت پیغام کی دولت سے مالا مال بھی کر گئے۔
1۔ سمّی:
سال 2017 میں ٹی وی اسکرینز کی زینت بننے والے ڈرامے 'سمّی' نے پہلی سے آخری قسط تک ناظرین کو اپنی بہترین کہانی کے سبب خود سے جوڑے رکھا۔
اس ڈرامے کی کہانی انڈسٹری میں ’نور آپا‘ کے نام سے پہچانی جانے والی مصنفہ نور الہدی شاہ نے لکھی جو اس سے قبل بھی عورت کو معاشرے میں انصاف دلانے کیلئے قلم اٹھاتی رہی ہیں۔
اس ڈرامے میں کارو کاری اور غیرت کے نام پر قتل جیسے مسائل کو پیش کیا گیا، اس کے علاوہ ڈرامے میں ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے بھی آگاہی دی گئی۔
ڈرامے میں ’ونی‘ کی فرسودہ رسم کو موضوع بنایا گیا۔ اس سے قبل بھی اس قبیح رسم کے خلاف بہت کچھ لکھا گیا تاہم پاکستان کے بعض حصوں میں تاحال یہ رسم نام نہاد ’پنچائتی انصاف‘ کا حصہ ہے۔
'ونی' کرنے سے مراد یہ ہے کہ کسی خاندان کے مرد کے ہاتھوں ہونے والے جرم کی پاداش میں اس خاندان کی لڑکی کو متاثرہ خاندان کے کسی فرد سے اس کی مرضی اور منشاء کے خلاف بیاہ دیا جاتا ہے۔ اور بعض اوقات تو لڑکی کی پیدائش سے قبل ہی اس کو ’ونی‘ کر دیا جاتا ہے۔
2۔ ثبات:
2020 میں نشر ہونے والے ڈرامے 'ثبات' میں ماورا حسین، سارہ خان، عثمان مختار، لیلیٰ زبیری، سیمی راحیل و دیگر اسٹارز اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئے۔
ڈرامہ کی کہانی مصنف کاشف انور نے لکھی جو خواتین کے مضبوط کرداروں کے گرد گھومتی نظر آئی۔
ایک طرف سیمی راحیل جیسے متوسط طبقے کی خاتون مشکل وقت میں اپنے شوہر اور بیٹی کا سہارا بنتی ہیں تو وہیں ایک دولت مند خاندان میں لیلیٰ زبیری کا کردار خاندان کو جوڑے رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیلیٰ زبیری کے کردار کو شائقین کی جانب سے مسلسل پذیرائی ملتی رہی۔
اس کہانی میں دو نوجوان لڑکیوں کو بھی اپنی اپنی جگہ مضبوط کرداروں میں دکھایا گیا۔ ایک سارہ خان (میرال) جو ایک کاروباری خاتون ہیں لیکن کئی نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں تو دوسری جانب ماورا حسین (عنایہ عزیز) جو متوسط طبقے کی لائق انجیئر ہیں، سیلف میڈ ہیں اور ذاتی نقصان کی فکر نہ کرتے ہوئے نفرت اور ہراسانی کے خلاف ڈٹ جاتی ہیں۔
عنایہ کی یونیورسٹی کی ایک طالبہ سے کامیاب کیرئیر وومن بننے کی داستان اور اس کے شوہر حسن (امیر گیلانی) کے ساتھ اس کے تعلقات کی مشکلات اس ڈرامے کا مرکزی موضوع تھا۔
3۔ قصہ مہربانو کا:
ڈراما 'قصہ مہربانو کا' سال 2021 میں ٹی وی اسکرینز پر اپنا مقام بنانے کیلئے اترا اور 2022 میں نشر ہونے والی آخری قسط تک ناظرین اس ڈرامے سے جڑے رہے۔
ماورا نے اس ڈرامے میں مہربانو کا مرکزی کردار ادا کیا، کہانی مہربانو کی زندگی کے گرد گھومتی ہے جو دھوکہ دہی اور تکلیفوں سے بھرپور ہے۔
ڈرامے کی زبردست کہانی فخرا جبین نے لکھی جبکہ ہدایتکاری کے فرائض اقبال حسین نے سر انجام دیے۔
ڈرامے میں زاویار نعمان اعجاز، خوشحال خان، احسن خان، مشعل خان بھی اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئے۔
ڈرامے میں بھی دو دوست اپنی دوستی نبھانے کے لیے اپنے بچوں کی شادی کو سہارا لیتے ہیں۔ جس شادی پہ فریقین خوش نہیں تھے لیکن والدین کے سامنے مجبور تھے۔ جھگڑے بڑھنے لگے تو اس رشتے کو بچانے کے لیے بھی والدین نے ایک اور رشتہ اپنی ہی مر ضی سے طے کر دیا۔ یوں وٹہ سٹہ یا ادل بدل کی شادی نے انتقام کی آگ کو جنم دیا۔ اور جب ایک صفت انسان میں آ جائے اس کے قبیل کی باقی تمام صفات خود ہی آ جاتی ہیں کے مطابق باقی کہانی چلتی رہی جس میں میریٹل ریپ کو بھی موضوع بنایا گیا۔
4۔ نوروز:
2023 میں ٹی وی اسکرینز کی زینت بننے والے ڈرامے 'نوروز' میں ماورا حسین نے اپنے دیگر ڈراموں کے مقابلے میں ایک بے حد منفرد کردار ادا کیا جس کا نام 'رُشدینہ' تھا۔
ڈرامہ ’نوروز کی کہانی ایک ایسی لڑکی کی ہے جسے بیس سال تک اس کے والدین نے دنیا سے چھپا کر رکھا اور اس کی دنیا محض ایک تہہ خانے تک محدود تھی، وہی اُس کی کُل کائنات تھی۔
دنیا سے الگ اپنی زندگی گزارنے والی اس لڑکی پر دنیا کی حقیقت 20 سال کی عمر میں کھلتی ہے جب اسکی ماں فوت ہوجاتی ہے اور اس کا باپ اسکے اصل والدین کے حوالے سے انکشاف کرتے ہیں جس کے بعد وہ اس نئی دنیا میں قدم رکھ دیتی ہے۔
رُشدینہ کو ہر قدم پہ ہوتا ہے۔ قدم قدم پہ ایسے وحشیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو انسانیت کے نام پہ دھبہ ہیں۔ سڑکوں پہ زندگی گزارتی رشدینہ کی زندگی میں ایک نیا موڑ اُس وقت آتا ہے جب وہ مشہور ٹک ٹاکر حرا خان کی گاڑی سے زخمی ہوجاتی ہے اور وہ پکڑے جانے کے ڈر سے رشدینہ کو اپنے گھر لے آتی ہے اور اس طرح گم نامی کی زندگی جینے والی رُشدینہ انفلوئنسر بننے کی طرف گامزن ہوجاتی ہے۔
5۔ نیم:
ماورا حسین نے کاشف انور کے لکھے گئے ایک اور ڈرامے ’نیم‘ میں کام کر کے ناظرین کو فلاحی کاموں کی ترغیب دی۔
ڈراما 'نیم' سال 2023 نشر ہوا جس میں ماورا حسین کے علاوہ امیر گیلانی، سید جبران، ارسلان نصیر، مریم نفیس اور اریبا احمد بھی اداکارہ کے جوہر دکھاتی نظر آئیں۔
’نیم‘ کی کہانی زمل (ماورا حسین) کے گرد گھومتی ہے، جو محبت، فریب، اور سماجی توقعات کے جال میں پھنسی ہوئی ایک عورت ہے۔
اس ڈرامے میں ماورا حسین ایک ایسی لڑکی کا کردار نبھاتی نظر آئیں جسے بچوں کو تعلیم فرواہم کرنے کا موقع ملتا ہے لیکن اس بھلائی کے کام کے دوران وہ اپنے چند مسائل میں بھی پھنس جاتی ہے۔
6۔ جفا:
ان دنوں ماورا حسین ڈراما سیریل ’جفا‘ میں ڈاکٹر زارا کا کردار نبھا رہی ہیں جن کے شوہر کا کردار محب مرزا بخوبی ادا کر رہے ہیں۔
جفا میں ماورا حسین (ڈاکٹر زارا) اپنے نفسیاتی مسائل کے شکار شوہر حسن (محب مرزا) کی بدسلوکیوں اور قابو سے باہر غصے کے باوجود اس کے ساتھ رہ رہی ہوتی ہے۔
تاہم وہ حسن پر زور ڈالتی رہتی ہے کہ وہ اپنے اینگر ایشوز کو حل کرنے کے لیے ماہر نفیسات سے رجوع کرے جو اس پر عملدآمد کے حوالے سے جھوٹ بولتا ہے۔
ڈرامے میں حسن کا یہ جھوٹ ایک ایسے سین کو آمد دے گیا جس نے ناظرین کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا کیونکہ حسن کا جھوٹ سننے کے بعد ڈاکٹر زارا اسے چھوڑنے کا فیصلہ سناتی ہے اور یہ بات حسن کو شدید غصہ دلا دیتی ہے جس کا اظہار کرتے ہوئے وہ زارا کو تھپڑ رسید کردیتا ہے۔
زارا یہ تھپڑ کھاکر خود کو روک نہیں پاتی اور جوابی کارروائی کرتے ہوئے حسن کو بھی تھپڑ جڑ دیتی ہے لیکن زارا کا یہ ایک تھپڑ حسن قبول نہ کرتے ہوئے زارا کو کمرے میں لے جا کر شدید تشدد کا نشانہ بنادیتا ہے۔
ڈرامے کی کہانی آگے بڑھنے پر معلوم چلے گا کہ ڈاکٹر زارا کس طرح اس اس صورتِ حال سے نمٹتی ہیں لیکن اس بات کا ناظرین کو یقین ہے کہ ڈرامے کا اختتام بیوی پر جسمانی تشدد کے خلاف بہترین جواب دے کر جائیگا کیونکہ اس ڈرامے میں کوئی اور اداکارہ نہیں بلکہ ماورا حسین ہیں اور ماورا حسین کا ہر ڈراما بہترین سبق دے کر ہی جاتا ہے۔





