کھیل

سابق بھارتی کرکٹر نے کوہلی سے 'امیر ترین کھلاڑی' کا ٹائٹل چھین لیا

سابق کرکٹر کو میچ فکسنگ کے الزامات اور کرکٹ کھینے پر تاحیات پابندی کا بھی سامنا رہا

Web Desk

سابق بھارتی کرکٹر نے کوہلی سے 'امیر ترین کھلاڑی' کا ٹائٹل چھین لیا

سابق کرکٹر کو میچ فکسنگ کے الزامات اور کرکٹ کھینے پر تاحیات پابندی کا بھی سامنا رہا

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

سابق بھارتی کرکٹر اجے جڈیجا کو گجرات کے جام نگر تخت کا وارث قرار دیدیا گیا ہے، جسکے بعد وہ مایہ ناز بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بھارت کے امیر ترین کھلاڑی بن گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دسہرہ کے موقع پر نوانا نگر کے مہاراجہ جام صاحب نے سابق بھارتی کرکٹر اجے جڈیجا کو 1 ہزار 450 کروڑ روپے سے زائد دولت کا وارث قرار دیا ہے۔

یہ رقم ملنے کے بعد اجے جڈیجا بھارت میں سب سے زیادہ امیر کھلاڑی بن جائیں گے، اس سے قبل انکے اثاثوں کی کُل مالیت 250 کروڑ بھارتی روپے تھی، جبکہ ویرات کوہلی کے اثاثوں کی موجودہ مجموعی مالیت کا تخمینہ تقریباً 1 ہزار کروڑ بھارتی روپے ہے۔

مہاراجہ جامصاحب نے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'مجھے اجے جڈیجا کی بدولت اپنا وارث مل گیا ہے، جام نگر کے لوگوں کی خدمت کی ذمہ داری اٹھانا واقعی ایک اعزاز ہے'۔

اجے جڈیجا کون ہیں؟

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

اجے جڈیجا نے 1992 سے 2000 تک بھارتی ٹیم کیلئے 196 ون ڈے اور 15 ٹیسٹ میچز کھیل رکھے ہیں۔

دسمبر 2000 میں میچ فکسنگ اسکینڈل کے سبب اُن پر کرکٹ کھینے پر تاحیات پابندی عائد کردی گئی تھی، اس دوران اجے جڈیجا نے بالی ووڈ میں اداکاری کی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا۔

بعدازاں 2005 میں دہلی ہائیکورٹ نے اُن پر عائد تاحیات پابندی ہٹا دی تھی لیکن پھر بھی وہ دوبارہ کبھی ٹیم کا حصہ نہیں بن سکے، تاہم اجے جڈیجا نے دنیائے کرکٹ میں واپسی کی اور ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا۔

اجے جڈیجا شاہی خاندان کی اولاد ہیں، ان کے والد دولت سنگھ جڈیجا جام نگر سے 3 بار رکن اسمبلی رہے تھے۔

بھارت کے ڈومیسٹک ایونٹ رنجی ٹرافی اور دلیپ ٹرافی کا نام بھی اجے جڈیجا کے رشتہ داروں کے ایس رنجیت سنگھ اور کے ایس دلیپ سنگھ کے نام پر رکھا گیا ہے۔

خود مہاراجا صاحب، ایک سابق کرکٹر ہیں جنہوں نے رنجی ٹرافی میں سوراشٹرا کی کپتانی کی، 1966 میں نواں نگر کی وارثت سنبھالی۔

خاندان کا سلسلہ کرکٹر رنجیت سنگھ جڈیجہ سے ملتا ہے، جنہوں نے 1907 سے 1933 تک نواں نگر پر حکومت کی۔