بالی ووڈ

فیضل سے شیو تک، نواز الدین صدیقی کے مقبول کرداروں کی کہانی

اداکار نے اِن کرداروں کیلئے حقیقی زندگی سے ملنے والی انسپائریشن کے بارے میں بتا دیا۔

Web Desk

فیضل سے شیو تک، نواز الدین صدیقی کے مقبول کرداروں کی کہانی

اداکار نے اِن کرداروں کیلئے حقیقی زندگی سے ملنے والی انسپائریشن کے بارے میں بتا دیا۔

فیضل سے شیو تک، نواز الدین صدیقی کے مقبول کرداروں کی کہانی

بھارتی فلم انڈسٹری کے ورسٹائل اداکار نواز الدین صدیقی نے اپنی فلموں میں ادا کیے گئے 5 پسندیدہ ترین کردار اور ان کے پیچھے چھپی اصل کہانی بتا دی۔

نواز الدین صدیقی گزشتہ کئی برسوں سے بالی وڈ میں نام کمانے کی جدوجہد میں مصروف رہے لیکن پھر انہوں نے 2014 میں ریلیز ہونے والی سلمان خان کی فلم ’کِک‘ میں ولن کا کردار اور 18 جولائی 2015 کو سنیما گھروں کی زینت بننے والی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ میں ایک پاکستانی میڈیا رپورٹر کا کردار بخوبی نبھا کر بالی وڈ میں اپنا سکّہ منوالیا۔

نوازالدین صدیقی نے گزشتہ برس دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنے 5 سب سے مشہور کرداروں کے بارے میں بات کی اور ان کرداروں کیلئے حقیقی زندگی سے ملنے والی انسپائریشن کے بارے میں بھی بتایا۔

فیضل خان (گینگز آف واسے پور)

(اسکرین گریب)
(اسکرین گریب)

سال 2012 میں ریلیز ہونے والی فلم 'گینگز آف واسے پور' میں اپنے کردار فیضل خان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نواز الدین صدیقی نے کہا کہ 'اسکرپٹ کو پڑھنے کے بعد مجھے فوراً میرا گاؤں یاد آگیا لیکن میں نے 'اسکارفیس' اور 'دی گاڈ فادر' کے بارے میں بھی سوچا، میرے ذہن میں تھا کہ میں 'اسکارفیس' میں ال پیچینو یا 'دی گاڈ فادر' میں مارلن برانڈو جیسا کردار ادا کروں گا لیکن اس طرح کی شخصیت والے لوگ تو میرے گاؤں میں بھی موجود تھے، اس لیے میں نے انہیں (ال پچینو اور مارلن برانڈو) کو چھوڑا اور صرف اپنے گاؤں میں موجود کرداروں کے بارے میں سوچا'۔

انہوں نے بتایا کہ 'گاؤں میں ذمہ دار عہدوں پر فائز لوگوں کو گاؤں سے باہر کی باتوں کا کوئی علم نہیں ہوتا لیکن وہ جس طرح بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں اس سے ایسا لگتا ہے جیسے یہی سارا سچ ہے حالانکہ ان کی ہر بات جھوٹ ہوتی ہے، حتیٰ کہ ان کے بچوں کا بھی یہی رویہ ہوتا تھا، وہ بادشاہوں کیطرح بات کرتے تھے، تو میں نے فیضل خان کا کردار نبھانے کیلئے گاؤں والی کی شخصیت سے بہت سی چیزیں اٹھا لیں۔

فلم کے ایک سین کے بارے میں بات کرتے ہوئے نواز الدین صدیقی نے کہا کہ 'وہ سین جس میں، میں ساتھی اداکارہ کو کہتا ہوں کہ میں اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا چاہتا ہوں، یہ گفتگو دراصل میری حقیقی زندگی میں پیش آنے والے ایک واقعہ پر مبنی ہے، لڑکی نے میری یہ بات سُن کر اپنی چپل اٹھائی اور مجھے بھگا دیا تھا، میں نے انوراگ کشیپ کو یہ واقعہ سنایا تھا تو میری زندگی کا یہ قصہ اور انوراگ کے تخیل نے مل کر فیضل خان بنایا'۔

شیخ (دی لنچ باکس)

(اسکرین گریب)
(اسکرین گریب)

سال 2013 میں ریلیز ہونے والی فلم 'دی لنچ باکس' میں اپنے کردار 'شیخ' کے بارے میں بات کرتے ہوئے نواز الدین صدیقی نے بتایا کہ 'میرا ایک دوست ہے جو ایک اداکار ہے، ہم کئی برس سے ایک ساتھ رہ رہے تھے، وہ مجھے اپنی زندگی میں پیش آنے والی مایوس کن چیزوں کے بارے میں بتاتا تھا، اس لیے میں نے فلم میں 'شیخ' کا کردار نبھاتے ہوئے اسی دوست کی شخصیت کی نقل کی، اس نے ریلیز ہوتے ہی یہ فلم دیکھ لی تھی، میں اس وقت تک کہیں اور منتقل ہوچکا تھا تو اس نے مجھے میسج بھیجا کہ 'میں نے لنچ باکس دیکھ لی ہے، شکریہ'۔

انہوں نے کہا کہ 'فلم میں ایک سین ہے جس میں ساجن فرنینڈس (عرفان خان) سےبات کرتے ہوئے شیخ اس اپنا سرپرست بننے کو کہتا ہے کیونکہ اس کا اپنا کوئی خاندان نہیں ہوتا، یہ سین کرتے ہوئے میں اسی دوست کے بارے میں سوچ رہا تھا، میں نے اس کے المیے کو سچائی کے ساتھ اسکرین پر پیش کیا، جس طرح وہ خود مجھے بتاتا تھا، میں رو رہا تھا لیکن میں نے اپنے آپ سے شرط رکھی تھی کہ میں اپنی آنکھوں یا چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دوں گا کہ میں رو رہا ہوں، میرے تاثرات نہیں بدلنے چاہئیں ورنہ کردار کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا، میں نے پوری کوشش کی کہ اس سین کو ذرا سا بھی غمگین نہ بننے دوں'۔

شیو گجرا (کِک)

(اسکرین گریب)
(اسکرین گریب)

سال 2014 میں ریلیز ہونے والی سلمان خان کی فلم 'کِک' میں بطور ولن اپنے کردار شیو گجرا کے بارے میں بات کرتے ہوئے نواز الدین صدیقی نے بتایا کہ 'میں نے اس کردار کے ہنسنے کا انداز 'عکس' فلم میں منوج باجپائی کے کردار سے سیکھا تھا، یہ کردار 'لنچ باکس'، 'گینگس آف واسے پور' یا میری پہلی فلم 'سرفروش' بلکہ 'منا بھائی' فلم میں میرے کردار جتنا ہی مشکل تھا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ فلم کس قسم کی ہے، کمرشل یا آرٹ، اداکار یہ نہیں سوچتا کہ یہ ایک کمرشل فلم ہے، اس لیے میں اپنے کردار کو مخصوص انداز میں ہی نبھاتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 'میں نے شیو گجرا کا کردار بالکل ویسا ہی نبھایا جیسا کہ مجھے بتایا گیا تھا، اس وقت میں یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ یہ کوئی کمرشل فلم ہے، ماس فلم ہے یا سلمان خان کی فلم ہے، کردار خود آپ کو بتاتا ہے کہ مجھے اس طرح نبھاؤ، ڈائریکٹر یہی چاہتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے کردار کا ایک مضبوط تاثر قائم کیا جائے، یہ بھی باقاعدہ ایک فن ہے۔

رامنا (رامن راگھو 2.0)

(اسکرین گریب)
(اسکرین گریب)

سال 2016 میں ریلیز ہونے والی فلم 'رامن راگھو 2.0' میں اپنے کردار 'رامنا' کے بارے میں بات کرتے ہوئے نواز الدین صدیقی نے کہا کہ 'فلم کی اسکرپٹ ملنے کے بعد میں لوناوالا کے اندرونی علاقے میں ایک سنسان جگہ پر چلا گیا، وہاں ایک ہوٹل ہے جہاں میں شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے 3 دن تک رہا، میں نے ڈائیلاگز یاد کیے اور انہیں خود سے دہرایا، اس کردار کا یہ فلسفہ تھا کہ 'میں آسانی سے کسی کا بھی قتل کر سکتا ہوں، میں درد محسوس نہیں کرتا، کسی کو بھی کھاتے وقت، پیتے وقت، حتیٰ کہ رفع حاجت کرتے وقت بھی میں قتل کر سکتا ہوں، میں آپ کی طرح نہیں ہوں، مجھے لوگوں کو قتل کرنا پسند ہے، میں آپ کی طرح نہیں ہوں'۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ کردار اتنا واضح تھا، میرے لیے اس تھیوری پر یقین کرنا بہت مشکل تھا، 3 دن تک میں اپنے آپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا رہا کہ میں کسی کو بھی آسانی سے مار سکتا ہوں، ایک وقت ایسا آیا جب میں یہ سوچ کر ہوٹل سے باہر نکلا اور میں سڑک پر گاؤں والوں کو گھورتا رہا، وہ نہیں جانتے تھے کہ میں کون ہوں، جیسے ہی میں ان کی طرف دیکھتا، وہ گھبرا جاتے، یہ ایک حقیقی تجربہ تھا'۔

شیام تیک چند (حرام خور)

(اسکرین گریب)
(اسکرین گریب)

سال 2017 میں ریلیز ہونے والی فلم 'حرام خور' میں اپنے کردار 'شیام تیک چند' کے بارے میں بات کرتے ہوئے نواز الدین صدیقی نے کہا کہ 'میں نے اپنے گاؤں میں اس طرح کے ایک استاد کو دیکھا تھا، دوسری بات یہ کہ میں نے اپنی زندگی میں اس طرح کے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو کبھی بھی اپنے دکھ یا المیے کو سر نہیں چڑھاتے، بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سوچتے ہیں کہ فلم میں گوری رنگت والا شخص اچھا کردار نبھائے گا اور بدصورت شخص یقیناً منفی کردار ہوگا، مجھے یہ چیز بہت بری لگتی ہے کہ لوگوں کی شخصیت کے بارے میں تاثر انکی شکل اور حلیے کی بنیاد پر قائم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'میں اپنی زندگی میں ایسے کئی لوگوں سے ملا ہوں جو دیکھنے میں اتنے اچھے نہیں ہیں لیکن ان کی شخصیت کمال ہوتی ہے، وہ اندر سے بہت خوبصورت ہوتے ہیں، اس فلم میں میرا کردار بھی ایسا ہی تھا، وہ پیار کرنا چاہتا ہے، وہ دیوانہ بننا چاہتا ہے، اسے کچھ الگ کرنے کی خواہش ہے، اس کا اپنے ہاتھ پیچھے اپنی پیٹھ پر رکھنے کا انداز میں نے اپنے اسکول کے ریاضی کے استاد سے سیکھا'۔