حیدرآباد دکن کے ہمہ جہت انور مقصود کی پرتیں جانچیے
نئی نسل کے لیے حیدرآباد دکن کے اس ہمہ جہت انور مقصود کی پرتیں جانچنا ضروری ہے۔
نظام دکن کی ادب نوازی، بذلہ سنجی اور سخاوت کی داستانوں کے درمیان تہذیب و تمدن سے مرصع رنگ ڈھنگ کے ساتھ موسیقی کی تخلیق اور ٹھمری کے ملاپ سے جب حیدرآباد دکن ادب و ثفاقت کی بلندی پر چمکا تو اس نے جہاں دنیائے ادب کو مخدوم محی الدین ایسے عوامی شاعر دیئے، وہیں بذلہ سنج شخصیات بھی دیں۔ ادب و موسیقی اور آرٹ کے ماحول میں پرورش پانے والے انور مقصود کا خاندان آج بھی اپنے رنگ ڈھنگ اور تخلیق کے چراغ روشن کرنے میں اپنی توانائیوں سے مینار سخن کی پہچان بنا ہوا ہے۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ستارۂ امتیاز اور تمغہ برائے حسن کارکردگی (پرائیڈ آف پرفارمنس) سے نوازا ہے۔
7؍ستمبر1935 ءکو ریاست حیدرآباد میں پیدا ہونے والے انورمقصود حمیدی المعروف انورمقصود کا نام آج بھی کامیاب ترین شستہ اور بہترین مزاح لکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بطور نوجوان مصور کیا اور 1958ء میں ان کی پہلی تصویری نمائش منعقد ہوئی تھی۔ مصوری میں بھی اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے۔ ان کا پہلا شوق ہی مصوری ہے اور آج بھی روزانہ باقاعدگی سے پینٹنگ کرتے ہیں۔ یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز ڈراما نگاری یا شاعری سے نہیں بلکہ اداکاری سے کیا تھا، لیکن پھر چند ہی برسوں بعد وہ اداکاری کم کرکے ڈراما نگاری، میزبانی اور گیت نگاری کی طرف آئے اور تقریباً چھ دہائیوں سے وہ اپنی تحریروں اور مزاح سے لوگوں کو محظوظ کررہے ہیں۔ مزاحیہ ڈراما نگاری ہو یا سنجیدہ تحریریں، سب اپنی مثال آپ ہیں لیکن 1967ء میں جب انور مقصود نے پی ٹی وی کے لیے اپنا پہلا ڈراما ’’مہمان‘‘ لکھا تو ٹیلی ویژن ناظرین کو یہ اندازہ ہرگز نہ ہوگا کہ آج کا یہ نوجوان مصور مستقبل میں ڈراما نگاری میں پاکستان کا کتنا بڑا اثاثہ ثابت ہوگا۔
ایں خانہ ہمہ آفتاب ہست کے مصداق، ان کا پورا گھرانا ہی صلاحیتوں کے لحاظ ایک سے بڑھ کر ایک ہے، سب اپنی اپنی فیلڈ میں لاجواب ہیں۔ انور مقصود کے بھائی احمد مقصود حمیدی نامور بیوروکریٹ تھے۔ بہنیں فاطمہ ثریا المعروف بجیا نے ڈراما نگاری میں نام کمایا، زبیدہ طارق مشہور کوکنگ ایکسپرٹ تھیں، ان کی ایک اور بہن صغریٰ کاظمی معروف ڈریس ڈیزائنر ہیں، زہرہ نگاہ کا اردو شاعری میں بلند مقام ہے، سارہ نقوی معروف سائنسدان اور صحافی ہیں۔ انور مقصود کی بیگم عمرانہ مقصود بطور ناول نگار شہرت رکھتی ہیں اور انور مقصود کی آپ بیتی ’’الجھے سلجھے انور‘‘ بھی تحریر کرچکی ہیں۔ بیٹا بلال مقصود معروف پاپ سنگر ہے۔
انور مقصود کے کامیاب ڈراموں اور شوز کی فہرست طویل ہے جن میں شہرۂ آفاق کامیڈی شوز ’’ففٹی ففٹی، شو ٹائم، آنگن ٹیڑھا، ہاف پلیٹ، فنون لطیفے، شوشا، سلور جوبلی، اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیو پونے تین، اسٹوڈیو چار بیس، تلاش، اس طرح تو ہوتا ہے، کالونی 52، ستارہ اور مہرالنساء نادان نادیہ، لوز ٹاک، ماجو میاں، کوئی اور ہے، ہم پہ جو گزرتی ہے اور اسٹیج ڈرامے پونے 14 اگست سوا 14اگست، دھرنا، سیاچن اور کیوں نکالا‘‘ شامل ہیں۔
