ہیرامنڈی کی خواتین نے فلم اور تھیٹر تباہ کردیا،خواجہ سلیم
سینیئر اداکار شدید کسمپرسی کے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
پاکستانی فلم تھیٹر اور ڈرامہ کے نامور اداکار خواجہ سلیم نے ایک طویل عرصے تک اپنے کرداروں کے ذریعے ناظرین کے ذہنوں پر چھاپ چھوڑی ہے۔
انہوں نے فلم، تھیٹر اور ٹی وی تینوں میڈیم میں ادکاری کے جوہر دکھائے، تاہم آج وہ فلم اور تھیٹر کی بربادی کا قصور وار ایک خاص طبقے کو ٹھہراتے ہیں۔
ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ایک زمانہ تھا جب ہماری فلموں کو عالمی سطح پر سراہا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم انڈسٹری میں ایک وقت تھا کہ نیئر سلطانہ محمد علی ، وحید مراد جیسے اداکار کام کرتے تھے۔ یہ تمام اداکار پڑھے لکھے اور خاندانی لوگ تھے۔
پھر ایک ایسا وقت آیا کہ پڑھے لکھے اور خاندانی لوگوں کی جگہ ہیرامنڈی کی عورتوں نے لے لی۔ ہیرامنڈی کی عورتیں فلم انڈسٹری میں اکیلی نہیں آئیں وہ اپنے ساتھ گاہک بھی لائیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے فلموں میں صرف دوپٹہ اترا کرتا تھا لیکن پھر فلم انڈسٹری میں ایک ایسا وقت آیا کہ قمیضیں اترنے لگیں۔ عورت اگر ننگی ہوجائے تو اس کی ایکٹنگ بالکل ختم ہوجاتی ہے۔
انہوں نے تھیٹرکے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک زمانے میں تھیٹر میں کام کرنے والے لوگ ہوتے تھے۔ 1993 میں ایک واقعے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہ ایک تھیٹر پلے میں کام کررہے تھے۔ اس دوران پلے ڈائریکٹر نے تمام کرداروں کا کام روک کر ایک رقاصہ کو تھیٹر پلے میں نچوا دیا۔ جس پر میں نے تھیٹر سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ آج کے دور کا اسٹیج ڈراما ہر گز نہیں کریں گے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی انہیں کچھ لاکھ روپے دے کر ان کی ماں بہن کو گالیاں دے۔
واضح رہے کہ خواجہ سلیم کو پی ٹی وی کی کشمیر کے موضوع پر بننے والی رؤف خالد مرحوم کے ڈرامہ سیریل ’انگار وادی‘ میں میجر نولکھا کے کردار سے لازوال شہرت ملی تھی۔
انہوں نے ٹی وی ڈراموں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، متعدد ڈراموں میں یادگار پرفارمنس سے ناظرین کو داد دینے پر مجبور کر دیا۔ وہ بے شمار فلموں میں بھی کام کرچکے ہیں۔
خواجہ سلیم ان دنوں شدید علیل ہیں شوگر کی وجہ سے ان کے پاؤں میں گینگرین ہوگیا ہے جس کے سب ان کی دو انگلیاں بھی کاٹ دی گئیں، جس پر ان کے تقریباً 12 سے 14 لاکھ روپے کے اخراجات آئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی مالی حالات اس قدر خراب ہوگئے ہیں کہ گزربسر کی خاطر بہترین اداکاری کے لیے ملنے والے ایوارڈز تک فروخت کرنے پڑگئے، جس پر انہیں بہت افسوس ہے لیکن اس کے باوجود کبھی کسی حکومتی عہدیدار نے مدد کرنے کی کوشش نہیں کی۔




