فلم دیوداس کوریلیز کے وقت کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا؟
فلم 50 کروڑ روپے کی خطیر لاگت سے بنائی گئی تھی
فلم دیوداس کو مدر آف لوو اسٹوریز کہاجاتا ہے، ایک صدی سے زائد عرصے قبل دور دراز بنگال میں کاغذ کے پنوں پر لکھا ایک کردار۔ وہ کردار جو کتاب سے نکل کر فلم کے پردے پر آیا اور پھر فلمی پردے سے نکل کر لوگوں کے ذہنوں میں گھر کر گیا۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے دیوداس نام کا کردار محض ایک خیالی کردار نہیں بلکہ ایک طرز زندگی بن گیا۔ اسی لیے آپ نے کئی بار سنا ہو گا ’بڑا دیوداس بن جاتا ہے‘ خاص طور پر جب کوئی غمگین ہو، یا خود کو روگ لگا کر تباہ کر رہا ہو۔
سنہ 1917 میں لکھی گئی سراچندر چٹوپادھیائے کی کہانی دیوداس کو آج کی نسل شاہ رخ خان کے ذریعے جانتی ہے جن کی فلم دیوداس 22 سال قبل 12 جولائی 2002 کو ریلیز ہوئی تھی۔
دوسری طرف، پہلے کی نسل دیوداس (1955) کو دلیپ کمار کی وجہ سے جانتی ہے اور اس سے بھی پہلے کے ایل سہگل کی دیوداس (1936) کو۔ دیوداس کے کردار پر اس کے گرد گھومتی کہانیوں پر 15 سے 20 بار مختلف زبانوں میں فلم بنی ہے۔
2002 میں سنجے لیلا بھنسالی نے 50 کروڑ روپے کی خطیر لاگت سے دیوداس بنائی۔ جس بنا پر دیوداس کو اس دور میں سب سے مہنگی فلم کا اعزاز حاصل ہوا۔
لیکن اس فلم کو بنانے کے لیے سنجے لیلا بھنسالی کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ فلم کی شوٹنگ 1999 میں شروع ہوئی لیکن مختلف واقعات کی بنا پر 2002 میں مکمل ہوسکی۔
فلم سے جڑا پہلا تنازع اس وقت پیش آیا جب پروڈیوسر بھرت شاہ کو ممبئی پولیس نے گرفتار کرلیا، بھرت شاہ پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے انڈر ورلڈ سے فلم کی فائنسنگ کے لیے پیسے لیے ہیں۔
اس کے بعد اس فلم کے سیٹ پر دو مرتبہ آگ بھڑک اٹھی اور پورا سیٹ جل کر خاکستر ہوگیا اور بھاری نقصان اٹھانا پڑا، فلم کے دو کریو ممبرز فلم کے سیٹ پر ہی انتقال کرگئے۔
اتنی مشکلات اٹھانے کے بعد بالاآخر فلم کو 23 مئی 2002 کو کانز فلم فیسٹول میں ریلیز کردیا گیا جبکہ 12 جولائی کو فلم دنیا بھر میں ریلیز کی گئی۔
دیوداس نے ریلیز کے پہلے دن سے ہی کمال دکھانا شروع کردیا اور فلم باکس آفس پر 168 کروڑ روپے کمانے میں کامیاب رہی اور بھارت کی اس سال سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم بن گئی۔
بھارت میں سو کروڑ کلب میں شامل ہونے والی فلموں کا دور تو کچھ سال پہلے شروع ہوا ہے۔ 2002 سے پہلے کسی فلم کا سو کروڑ روپے عبور کرجانا ایک بڑی بات سمجھی جاتی تھی۔
اس دور میں تو کوئی فلم سو کروڑ روپے کما کر بھی فلاپ سمجھی جاتی ہے۔
فلم نے باکس آفس پر کامیابی سمیٹی تو نیشنل اور فلم فیئر سمیت کئی ایوارڈ اپنے نام کئے۔ دیوداس نے پانچ نیشنل فلم ایوارڈ جیتے۔
ڈائریکٹر سنجے لیلا بھنسالی نے اس فلم کو آسکر ایوارڈ میں بیسٹ انٹرنیشنل فیچر فلم کی نامزدگی کے لیے بھی بھیجا تھا۔




