انفوٹینمنٹ

بابر علی کو والدہ کی سب سے بڑی دھمکی

بابر علی نے اپنی والدہ کی آخری خواہش بتادی۔

Web Desk

بابر علی کو والدہ کی سب سے بڑی دھمکی

بابر علی نے اپنی والدہ کی آخری خواہش بتادی۔

بابر علی نے اپنی والدہ کی آخری خواہش بتادی۔
بابر علی نے اپنی والدہ کی آخری خواہش بتادی۔

پاکستانی فلموں اور ڈراموں کے اداکار بابر علی نے اپنی والدہ کی آخری خواہش بتادی۔

بابر علی کا شمار پاکستان کے ان کامیاب اور محنتی فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے زندگی میں جو کچھ بھی حاصل کیا وہ اپنے بل بوتے پر حاصل کیا۔

ڈرامہ سیریل ’محمد بن قاسم‘ سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے بابر علی نے جیوا، راجا پاکستانی، زیور، دولہا لیکر جاؤنگی اور بھائی لوگ جیسی کئی فلموں کو اپنی اداکاری سے کامیاب بنایا مگر جب فلم انڈسٹری کا زوال شروع ہوا تو یہ چھوٹی اسکرین (ڈرامہ) کی طرف چلے آئے اور یہاں بھی اپنی محنت سے وہی مقام حاصل کیا جو فلموں میں انہیں حاصل تھا۔

حال ہی میں بابر علی نے نور الحسن کی پوڈکاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے اپنی نجی اور پیشہ ورانہ پہلو پر کھل کر گفتگو کی۔

دوران گفتگو بابر علی نے  اپنی والدہ کا آج کی ماؤں سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ مائیں تو ہمیشہ ہی اپنے بچوں سے محبت کرتی ہیں لیکن آج کی مائیں پرانے وقتوں کی ماؤں سے مختلف ہیں، کیونکہ پرانے وقتوں میں بات چیت بہتر ہوتی تھی اور مائیں اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارا کرتی تھیں جو کہ آج ٹیکنالوجی کی وجہ سے ممکن نہیں رہا۔’

اداکار کا کہنا تھاجب میں نے شوبز میں قدم رکھا تو میری والدہ کی مجھ سے بس ایک ہی خواہش تھی اور انہوں نے مجھے دھمکی دی تھی کہ میں شادی شوبز میں نہ کروں بلکہ شادی کیلئے ایک خاندانی لڑکی کا انتخاب کروں۔

یاد رہے کہ بابر علی کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب انہوں نے کئی فلموں سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا انکشاف کیا تھا۔

ماضی کے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ ایک رات ایسی آئی جب میرے ہاتھ سے 60 ، 70 فلمیں ایک ساتھ نکل گئیں اور یہ اس وقت ہوا جب کراچی میں گڈانی پر فلم کی شوٹنگ کے دوران جہاز میں حادثہ ہوا اور میں 110 فٹ بلندی سے نیچے گرگیا، میرے پاؤں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور جب مجھے ہوش آیا تو مجھے ڈاکٹر نے بتایا کہ میں 6 مہینے کے لیے اب بیڈ سے بھی نہیں اٹھ سکتا۔

اداکار کے مطابق پھر جو لوگ مجھے فلموں کے لیے سر آنکھوں بٹھا رہے تھے، میرے گھر کے باہر پیسے لینے کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے لیکن مجھے ایک بات یاد تھی میرے والد صاحب کہا کرتے تھے اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونا۔