ایشوریا رائے کے دل چھو لینے والے آئیکونک ڈائیلاگز
1994 میں ایشوریا رائے نے مس انڈیا مقابلے میں حصہ لیا
ابھیشیک سے مبینہ طلاق کے معاملے کے سبب ان دنوں شہ سرخیوں کا حصہ بننے والی ایشوریا رائے بچن ورسٹائل اداکارہ ہونے کے ساتھ ایک فیشن آئیکون بھی ہیں جنہوں نے نہ صرف اداکاری کے شعبے میں اپنے فن کا لوہا منوایا بلکہ بطور ماڈل بھی فیشن کی دنیا میں خود کو ایک حسینا کے طور پر متعارف کروایا۔
ایشوریا رائے کے بارے میں :
بھارت کے کرناٹکا کی بندرگاہی شہر منگلورمیں پیدا ہونے والی اداکارہ ایشوریا رائے بچن سے ہی ذہین تھیں اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے میڈیکل کے شعبے کو اپنانے کا ارادہ کیا۔تاہم وقت آنے پر وہ اس شعبے کو ترک کرکے آرکیٹیکچر کی طرف مائل ہو گئیں۔
بعدازاں ہائی اسکول کے دوران ماڈلنگ کا شوق رکھنے کی وجہ سے، انہوں نے اپنی کالج کی تعلیم کے اخراجات پورا کرنے کے لیے ماڈلنگ شروع کردی۔
1994 میں ایشوریا رائے نے مس انڈیا مقابلے میں حصہ لیا اور اسی سال مس ورلڈ کا سہرا بھی اپنے سر سجالیا لیکن اس کامیابی کے بعد انہوں نے اپنی تعلیم ترک کر دی اور لندن منتقل ہو گئیں تاکہ اپنی ماڈلنگ کی کیریئر کو جاری رکھ سکیں۔
ایشوریا رائے کا فلمی کیریئر:
ایشوریا رائے کے فلمی کیرئیر کی بات کریں تو انہوں نے 1997 میں اپنی پہلی سیاسی تھرلر فلم ’Iruvar’ سے اداکاری کا آغاز کیا اور پھر شاید کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
اس فلم کے بعد ایشوریا رائے کو ’ہم دل دے چکے صنم’، ’تال’،’جودھا اکبر’، ’پنک پینتھر 2’ سمیت فلم’دیوداس’ میں شاہ رخ خان کے ساتھ اداکاری کے جوہر دکھاتے دیکھا گیا جو ایک کلاسک انڈین ناول پر مبنی فلم تھی یہاں تک کہ یہ فلم بین الاقوامی سطح پر اتنی مقبول ہوئی کہ اسے سال 2002 کے کانز فلم فیسٹیول میں پیش کیا گیا۔’
ایشوریا رائے کی ازدواجی زندگی:
اداکارہ ایشوریا رائے کے فلمی کیرئیر کی بات کریں تو یوں تو ابھیشیک اور ایشوریا 2007 میں بچن خاندان کی رہائش گاہ پر منعقدہ نجی تقریب میں شادی کے بندھن میں بندھے اور 2011 میں ان کی بیٹی آرادھیا کی پیدائش ہوئی تھی۔لیکن شادی کے 17 سال بعد اب یہ رشتہ اختتام پذیر ہوتا نظر آرہا ہے جسکا دعویٰ لمحہ بہ لمحہ بھارتی میڈیا کررہا ہے۔
اگر چہ کہ تاحال بچن خاندان کی جانب سے غیر مصدقہ خبروں پر کوئی وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم صارفین اس جوڑے کے رشتے کو لے کر متجسس نظر آرہے ہیں۔
ایشوریا رائے کے ناقابل فراموش ڈائیلاگز پر ایک نظر:
یوں تو اداکارہ ایشوریا رائے اپنی ورسٹائل پرفارمنس سے بالی وڈ کی اے لسٹ حسیناؤں میں شمار کی جاتی ہیں جنہوں نے اپنے طویل کیرئیر میں کئی اہم پراجیکٹس سے بھارتی سینما کو رونق بخشی۔
تاہم انکی فلموں کی فہرست میں بولے جانے والے کئی ڈائیلاگز ایسے بھی تھے جو نہ صرف سپر ہٹ ہوئے بلکہ ان ڈائیلاگز سے اداکارہ کی شہرت میں بھی چار چاند لگ گئے۔
آئیے بات کرتے ہیں ایشوریا رائے بچن کی ان یادگار ڈائیلاگز کی جو کئی سال گزرنے کے بعد آج بھی فلم بینوں کے ذہنوں پر سوار ہیں۔
اے دل ہے مشکل:
سال 2016 میں سینما گھروں کی زینت بننے والی فلم ’اے دل ہے مشکل’ میں جہاں دیگر فنکاروں نے اپنی فنی صلاحیتوں سے دھوم مچائی وہیں ایشوریا رائے بچن کا ایک ڈائیلاگ ایسا بھی سننے کو ملا جس نے فلم کے سین میں جان ڈال دی۔
فلم کے ایک سین میں ایشوریا کو یہ ڈائیلاگ،’میں کسی کی ضرورت نہیں خواہش بننا چاہتی ہوں’ مداحوں کے دلوں میں جیسے رچ بس گیا۔
جبکہ یہ ڈائیلاگ بھی لوگوں کے دلوں کو چھو گیا،’مجھے سمجھانے کی کوشش مت کرنا کیونکہ اگر سمجاؤ گے تو سمجھ جاؤنگی، اور سمجھ گئی تو بکھر جاؤنگی۔’
ہم دل دے چکے صنم:
سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’ہم دے دے چکے صنم’ کی بات کریں تو یہ فلم سن 1999 میں سینما گھروں میں ریلیز ہوئی، یہ رومانوی فلم ایک نئے شادی شدہ شخص کی کہانی بیان کرتی ہے جسے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ اس کی بیوی کسی اور سے محبت کرتی ہے اور یہ جاننے کے بعد وہ پھر ان دونوں کو ملانے کا فیصلہ کرتا ہے۔
اس فلم میں ایشوریا رائے کا ایک ڈائیلاگ بھی شامل تھا جسے مداحوں کی جانب سے بے حد پسند کیا تھا،’کبھی کبھی انسان کچھ نہیں کہہ کر بھی سب کچھ کہہ جاتا ہے۔’
جودھا اکبر:
سال 2008 میں ریلیز ہونے والی فلم جودھا اکبر بھی ایشوریا کی فلمی کیرئیر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی، اس فلم کی کہانی ایک شہزادی کے گرد گھومتی ہےجسے سیاسی وجوہات کی بنا پر مغل بادشاہ اکبر سے شادی کرنی پڑتی ہے۔ آہستہ آہستہ ان دونوں کے درمیان باہمی احترام اور پسندیدگی سچی محبت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔’
یہ بھی پڑھیں:سیف علی خان کے بارے چند دلچسپ حقائق
تاہم اس فلم کا ایک ڈائیلاگ،’کسی بھی انسان کا دل جیتنے کیلئے اسکے من میں جھانکنا پڑتا ہے، اسکی چھوٹی چھوٹی خوشیاں،وشواس اور دکھوں سے جڑنا پڑتا ہے۔’لوگوں کے دلوں میں ان منٹ نقش چھوڑ گیا۔
دیوداس:
سال 2015 میں دھوم مچانے والہ فلم ’دیوداس’ بھی ایشوریا کے فلمی کیرئیر میں کیلئے خوش قسمت ثابت ہوئی،فلم دیوداس کو مدر آف لوو اسٹوریز کہاجاتا ہے، ایک صدی سے زائد عرصے قبل دور دراز بنگال میں کاغذ کے پنوں پر لکھا ایک کردار۔ وہ کردار جو کتاب سے نکل کر فلم کے پردے پر آیا اور پھر فلمی پردے سے نکل کر لوگوں کے ذہنوں میں گھر کر گیا۔
مزید پڑھیں:کرشمہ کپور کے وہ اہم راز جن سے شاید آپ ہیں انجان
فلم دیوداس نے جہاں ریلیز کے پہلے دن سے ہی کمال دکھانا شروع کردیا اور فلم باکس آفس پر 168 کروڑ روپے کمانے میں کامیاب رہی اور بھارت کی اس سال سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم بن گئی وہیں اس فلم کا یہ ڈائیلاگ بھی لوگوں کو آج تک یاد رہ گیا جو ایشوریا رائے کی زبان کی زینت بنا ،’جس وقت تمہارے ساتھ ہوتی ہوں اس وقت بدنامی کا بھی ڈر نہیں لگتا’۔
محبتیں:
’محبت بہت خوبصورت ہوتی ہے، تو کیا ہوا اگر وہ اپنے ساتھ تھوڑا درد لاتی ہے’۔ یہ ڈائیلاگ ایشوریا رائے کی فلم محبتیں سے ماخوذ ہے جس نے نہ صرف اداکارہ کی مقبولیت کو چار چاند لگائے بلکہ محبت میں دیوانے لوگوں کے دلوں میں ان منٹ نقش چھوڑ دیے۔




