حمزہ علی عباس کا نیا ڈرامہ ’فرار‘ کیوں دیکھیں؟
ٹریلر میں ہمیں احمد علی اکبر کی جھلک بھی دکھائی گئی ہے
پاکستانی ڈرامے آج کل سرحد پار بھی خوب دھوم مچارہے ہیں ، بات کی جائے جفا کی، زرد پتوں کے بن کی، کبھی میں کبھی تم کی یا دنیا پور کی ہر ڈرامہ ہی بہترین کہانی اور کاسٹ کے باعث شہرت کی منازل طے کررہا ہے۔
ایسے کامیاب ڈراموں کی فہرست میں اب نیا آنے والا ڈرامہ فرار بھی شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ فرار نے اپنی شاندار کاسٹ کے باعث پریمیئر سے پہلے ہی زبردست دلچسپی پیدا کر لی ہے۔
پریمیئر کی زبردست پزیرائی یہ ثابت کرتی ہے کہ کوئی پراجیکٹ اس کی کاسٹ کے ناموں کو دیکھ کر ہی ناظرین کی توجہ حاصل کر سکتی ہے۔
ٹریلر پر تجزیہ:
فرار کا ٹریلر آ چکا ہے اور ناظرین کو اپنی گرفت میں لے چکا ہے، اس ڈرامے میں حمزہ علی عباسی ایک تیز و چاک و چوبند شُوٹر کا کردار ادا کررہے ہیں، ان کے مقابل مامیا شاہ جعفر اپنی اداکاری کے جوہر دکھائیں گی
ٹریلر میں ہمیں احمد علی اکبر کی جھلک بھی دکھائی گئی ہے، جو ایک سخت گیر پولیس افسر کے طور پر سامنے آتے ہیں اور ایک ایسے معمہ کو حل کرنے کی کوشش میں ہیں جو شہر کو ہلا کر رکھ دے۔
سمیع خان کا کردار کہانی کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے، ان کے پراسرار کردار نے ناظرین کو مزید جاننے کی خواہش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اس کے بعد بات کرتے ہیں نور الحسن کی، جن کا کردار ٹریلر میں معمہ ہی رہتا ہے۔ وہ اس پیچیدہ کہانی میں کیا کردار ادا کریں گے؟ وقت ہی بتائے گا، لیکن ان کی موجودگی نے تجسس کو اور بڑھا دیا ہے۔
ٹریلر میں سوہائے علی ابڑو کا کردار ہمیں ایک ایسی کہانی سناتا ہے جو غربت سے نکل کر بڑی جستجو کے بعد شہر کی چکاچوند میں شامل ہونے کا سفر طے کرتی ہے۔
ناظرین کا کہنا ہے کہ ٹریلر پورا ہی اپنا ایک الگ مقام رکھتا ہے لیکن اس میں نادیہ جمیل کا مکالمہ ’غیرت کے لیے، اگر آدمی عورت کو مار سکتا ہے تو عورت کیوں نہیں مار سکتی؟‘ ناظرین کے دل جیت گیا ہے۔
کمنٹ سیکشن میں صارفین کا کہنا ہے کہ’فرار‘ کا یہ مکالمہ محض ایک سوال ہی نہیں اٹھاتا بلکہ ہمارے معاشرے میں ایک طاقتور بیانیے کو جنم دیتا ہے۔ یہ جملہ، ’کیوں صرف مرد، عورت کیوں نہیں؟‘ روایتی صنفی دقیانوسی تصورات کو چیلنج کرتا ہے اور مساوات کے بارے میں بات چھیڑتا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ فرار میں ہم عورتوں کو بدلہ لیتے اور روایتی طور پر مردوں کے زیرِ تسلط مقامات پر قبضہ کرتے دیکھیں گے؟
کیا ہم ان خواتین کرداروں کو دیکھیں گے جو اپنی جنگیں خود لڑتی ہیں اور معاشرتی معیارات کو توڑتی ہیں؟
یہ سوچ انگیز مکالمہ اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ یہ ڈرامہ صنفی کرداروں، بااختیاری، اور رکاوٹوں کو توڑنے جیسے پیچیدہ مسائل کو دریافت کرے گا۔
فرار کو زرد پتوں کا بن، عہدِ وفا، آنگن، سنگِ ماہ، سنگِ مرمر اور یہ رہا دل جیسے ڈرامے لکھنے والے مصطفیٰ آفریدی نے تحریر کیا ہے۔
اس کی ہدایت کاری مصدق ملک اور سید وجاہت حسین نے کی ہے۔ جنہوں نے سپر ہٹ ڈرامے 'خئی' کی ہدایتکاری کے فرائض سر انجام دیے تھے۔
یہ ڈرامہ نیکسٹ لیول انٹرٹینمنٹ کی پروڈکشن ہے، جس کی نگرانی ثمینہ ہمایوں اور ثنا شاہنواز کر رہی ہیں۔
ڈرامے کی کاسٹ:
کاسٹ کی بات کی جائے تو ’فرار‘ کی کاسٹ میں حمزہ علی عباسی، مامیا شاہ جعفر، احمد علی اکبر، سمیع خان، دانیال ظفر، میرب علی، نادیہ جمیل، سوہائے علی ابڑو، حسن نیازی، نور الحسن، عفت عمر، ہارون شاہد اور دیگر شامل ہیں۔
اس ڈرامے کی پہلی قسط 17 نومبر کو رات 8 بجے صرف گرین انٹرٹینمنٹ پر نشر کی جائے گی۔
کاسٹ میں شامل ورسٹائل اداکار حمزہ علی عباسی کی بات کریں تو شادی کے بعد اداکاری کی دنیا سے کنارہ کشی کے اعلان اور پھر اس سے یوٹرن کے سبب یہ خوب خبروں کی زینت رہے ہیں۔
سال 2013 میں ٹی وی اسکرین کی زینت بننے والے مقبول ترین ڈراما ’پیارے افضل‘ میں عائزہ خان اور حمزہ علی عباسی بطور جوڑی کاسٹ کیے گئے تھے پھر تقریباً اا سال بعد کچھ انہوں نے ٹی وی اسکرین پر اپنے ڈرامے ’جانِ جہاں‘ سے واپسی کی تھی۔
حمزہ عباسی اب جلد ’فرار‘ میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائیں گے۔
حمزہ علی عباسی کے دیگر مشہور ڈراموں میں ’الف‘، پیارے افضل، من مائل دیگر شامل ہیں۔




