فلم / ٹی وی

فلموں کے وہ ڈائیلاگز جو سالوں بعد بھی بھلائے نہ جاسکے

فلموں میں جان ڈالنے والے بالی وڈ ڈائیلاگز پر ایک نظر

ایمن ملک

فلموں کے وہ ڈائیلاگز جو سالوں بعد بھی بھلائے نہ جاسکے

فلموں میں جان ڈالنے والے بالی وڈ ڈائیلاگز پر ایک نظر

فلموں میں جان ڈالنے والے بالی وڈ ڈائیلاگز پر ایک نظر
فلموں میں جان ڈالنے والے بالی وڈ ڈائیلاگز پر ایک نظر

ڈائیلاگ کسی بھی فلم یا ڈرامے کے  وہ مکالمے ہوتے ہیں جو کردار آپس میں بات کرتے ہیں۔ ان سے مراد وہ جملے ہوتے ہیں جس کے ذریعے کردار اپنے خیالات، جذبات، یا حالات کے بارے میں اظہار کرتے ہیں۔

اور یہ بات بھی سچ ہے کہ اچھے ڈائیلاگز کہانی کو جذباتی طور پر زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔ یہ ناظرین کو کہانی میں زیادہ گہرائی سے جڑنے میں مدد دیتے ہیں۔

جبکہ کبھی کبھی ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ کہانی ایک عرصے بعد فراموش ہوجاتی ہے لیکن ڈائیلاگز کئی صدیوں تک لوگوں کے ذہنوں میں سما جاتے ہیں۔

تو کیا آپ کو کچھ فلموں کی ایسی لائنیں یاد ہیں جو آج تک آپ کے ذہن میں بسی ہوئی ہیں؟

اگر نہیں تو  یہاں ہم چند بالی وڈ فلموں کا ذکر کرنے جارہے ہیں جن کے ناقابل فراموش اور متاثر کن ڈائیلاگ ہر سننے والوں پر گہرا اثر چھوڑ گئے۔

گنگوبائی کاٹھیاواڑی:

سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایت کاری میں بننے والی سال 2022 کی فلم ’گنگوبائی کاٹھیاواڑی’ ان مقبول ترین فلموں میں سے ایک ہے جس میں طاقتور اور شدت بھرے ڈائیلاگز نے فلم میں ایک الگ ہی جان ڈالی۔

صرف یہی نہیں بلکہ یہ بایوپک اپنی مکالماتی تحریر کے لیے نیشنل ایوارڈ بھی جیت چکی ہے۔ اس فلم میں بھارتی اداکارہ عالیہ بھٹ کا ایک مشہور ڈائیلاگ  بھی خاصا مشہور ہوا ہے  جو کچھ اسطرح تھا۔

’زمین پہ بیٹھی بہت اچھی لگ رہی ہے تو،

 عادت ڈال لے کیونکہ تیری کرسی تو گئی۔’

اے دل ہے مشکل: 

کرن جوہر کی ہدایتکاری میں بننے والی سال 2016 کی رومانوی فلم ’اے دل ہے مشکل’ بھی ان فلموں میں شامل ہے جنہیں مداح بھلائے نہ بھول سکے۔

محبت سے سرشار اس فلم  میں محبت اور دوستی کے بارے میں کئی مشہور ڈائیلاگ ہیں، جیسے:

 ’پیار میں جنون ہے، دوستی میں سکون ہے’۔

 ساتھ ہی یہ ڈائیلاگ بھی ناظرین کو بے حد پسند آیا۔

’ایک طرفہ پیار کی طاقت ہی کچھ اور ہوتی ہے’

علاوہ ازیں  اس رومانوی فلم میں ایشوریا رائے بچن کے اشعار بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔ جیسے ’میں کسی کی ضرورت نہیں خواہش بننا چاہتی ہوں’ مداحوں کے دلوں میں رچ بس گیا۔

جبکہ یہ ڈائیلاگ بھی لوگوں کے دلوں کو چھو گیا،’مجھے سمجھانے کی کوشش مت کرنا کیونکہ اگر سمجاؤ گے تو سمجھ جاؤنگی، اور سمجھ گئی تو بکھر جاؤنگی۔’

اوم شانتی اوم:

فرح خان کی ہدایت کاری میں بننے والی سال 2007 کی فلم ’اوم شانتی اوم’ کو بھی  اپنے شاندار ڈائیلاگ کی وجہ سے بھارتی سینما کا ایک نایاب گوہر سمجھا جاتا ہے۔ 

اس فلم کا ایک سین جس میں شاہ رخ خان کی تقریر جب وہ ایوارڈ جیتتے ہیں یا دپیکا پڈوکون کا ’ایک چٹکی سندور’ والا ڈائیلاگ، سبھی نے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنالی ہے۔

 یہاں تک کہ روزمرہ زندگی میں بھی لوگ ’پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست’ جیسے ڈائیلاگ استعمال کرتے  نظر آتے ہیں۔

کل ہو نہ ہو:

نکھیل اڈوانی کی ہدایت کردہ سال 2003 کی فلم ’کل ہو نا ہو’ بھی فلم بینوں کیلئے ایک خاص پراجیکٹ ثابت ہوئی۔

اس فلم میں کنگ خان کا ایک ڈائیلاگ ایسا بھی تھا جس نے نہ صرف ایک معنی خیز پیغام دیا بلکہ فلم بینوں کے ذہنوں میں ان مٹ نقش چھوڑ گیا۔

شاہ رخ خان کے کردار امان نے ہمیں زندگی کا سبق دیا،’سنو، جیو، خوش رہو، مسکراؤ... کیا پتہ کل ہو نہ ہو۔’

علاوہ ازیں  فلم ’کل ہو نہ ہو’ میں بہت سے یادگار ڈائیلاگ بھی  ہیں جو زندگی کے بارے میں سبق دیتے ہیں۔

کبھی خوشی کبھی غم:

سال 2001 میں ریلیز ہونے والی کرن جوہر کی ہدایت کردہ فلم ’کبھی خوشی کبھی غم’  نہ صرف ایک فیملی ڈراما ثابت ہوا بلکہ محبت سے سرشار اس کہانی کو محبت کرنے والوں نے اپنی کہانی سے جوڑ لیا۔

کہا جاتا ہے کہ ’کبھی خوشی کبھی غم’  ایک ایسی  لازوال فلم ہے  جس کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کے ڈائیلاگز ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بالی وڈ لیجنڈ امیتابھ بچن کی ناقابل فراموش فلمیں

چاہے وہ پو کا 'گڈ لکس' والا ڈائیلاگ ہو یا انجلی کا 'اشفاق میاں' کہنا، یہ سب ناظرین کو ہنسا دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ شاہ رخ خان نے ’زندگی میں اگر کچھ بننا ہو...’ والا ڈائیلاگ کہہ کر ہمیں زندگی کا ایک اور اہم سبق سکھایا۔

ہم دل دے چکے صنم:

سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’ہم دے دے چکے صنم’ کی بات کریں تو یہ فلم سن 1999 میں سینما گھروں میں ریلیز ہوئی، یہ رومانوی فلم ایک نئے شادی شدہ شخص کی کہانی بیان کرتی ہے جسے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ اس کی بیوی کسی اور سے محبت کرتی ہے اور یہ جاننے کے بعد وہ پھر ان دونوں کو ملانے کا فیصلہ کرتا ہے۔

اس فلم میں ایشوریا رائے کا ایک ڈائیلاگ بھی شامل تھا جسے مداحوں کی جانب سے بے حد پسند کیا تھا،’کبھی کبھی انسان کچھ نہیں کہہ کر بھی سب کچھ کہہ جاتا ہے۔’