بار بار بدلتے مؤقف پر حامد میر سے دلچسپ مکالمہ
سینئر صحافی نے قاضی فائز عیسیٰ کی حمایت کے بعد مخالفت کیوں کی؟
سینئر صحافی و کالم نگار حامد میر کا شمار پاکستان کی اُن نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے جن کے تجزیے سُن کر عوام کی بڑی اکثریت اپنی رائے قائم کرتی ہے۔
تاہم اُن کے ناقدین کا اعتراض ہے کہ حامد میر مختلف موضوعات پر بار بار اپنا مؤقف تبدیل کرتے رہتے ہیں۔
ایسے ہی ایک ناقد کے ساتھ دلچسپ مکالمہ حامد میر نے اپنے تازہ کالم میں قارئین کی نذر کیا ہے۔
کالم کا آغاز ہی حامد میر نے اپنے ناقد کی گفتگو سے کیا جنہوں نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'حامد میر صاحب! بُرا نہ منایئے گا۔ میں آپ کا خیر خواہ ہوں اور آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔ آج آپ کو آپ کے بارے میں ایک سچ بتانا چاہتا ہوں جو آپ کے ساتھ دوستی کے دعویدار آپ کے سامنے نہیں بولیں گے۔ سچ بولنے سے پہلے آپ کی اجازت چاہتا ہوں'۔
حامد میر کے بقول 'یہ الفاظ سن کر میں بےاختیار ہنس پڑا لیکن پھر اپنی ہنسی روک کر اپنے مخاطب کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ نے جو بھی سچ بولنا ہے وہ شوق سے بولئے'۔
مخاطب نے پوچھا پہلے یہ بتائیے کہ آپ ہنسے کیوں تھے؟ میں نے بڑے ادب سے عرض کیا کہ سچ بولنے سے پہلے اجازت لینا ضروری نہیں ہوتا۔ جو سچ اجازت لیکر بولا جائے اس پر مجھ جیسے گستاخ اکثر ہنس دیتے ہیں لہٰذا گستاخی کی معافی چاہتا ہوں۔
مخاطب نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا کہ اپنی گستاخی کو لگام دیجئے کیونکہ یہ ایک سرکش گھوڑا بن چکی ہے ۔آپ کو کئی دفعہ گرا کر زخمی کر چکی ہے لیکن آپ اس گھوڑے کو بدلنے کیلئے تیار نہیں۔ نقصان صرف آپ کا ہو رہا ہے اس لئے سوچا کہ آج آپ کی خدمت میں وہ سچ بولا جائے جو شائد آپ نے پہلے نہیں سنا۔
حامد میر لکھتے ہیں کہ 'یہ سُن کر میں نے اپنے آپ کو فوری طور پر سرکش گھوڑے سے اتارا اور مودبانہ انداز میں کہا کہ جی آپ نے جو کہنا ہے وہ شوق سے کہئے۔
میری آتش شوق کو بھڑکتا دیکھ کر مخاطب نے فرفر روبوٹ کی طرح بولنا شروع کر دیا۔ ان کا لب ولہجہ پولیس تھانے کے محرر کی فرض شناسی کا نمونہ بن چکا تھا جو اوپر سے آنے والے حکم کے مطابق ایف آئی آر درج کرتے ہوئے قانون کو نہیں بلکہ حکم دینے والے کی مرضی کو سامنے رکھتا ہے۔
میرے فرض شناس مخاطب کا فرمانا تھا کہ آپ تاریخ کے بڑے حوالے دیتے ہیں لیکن آپ ہمیشہ تاریخ کی الٹی سمت میں کھڑے ہو جاتے ہیں یہ تاریخ شناسی نہیں بلکہ خود فریبی کہلاتی ہے۔
یہ الفاظ ادا کرکے مخاطب نے ایک گہرا سانس لیا اور وہ میرے ردعمل کا انتظار کرنے لگے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ میں نے کہاں یہ دعویٰ کیا کہ میں تاریخ کی درست سمت میں کھڑا ہوں؟
مخاطب نے کہا کہ چند دن پہلے اسلام آباد لٹریچر فیسٹول میں مہر بخاری نے آپ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیشہ تاریخ کی درست سمت میں کھڑے ہوتے ہیں جس پر ہال میں بہت تالیاں بجیں۔ گفتگو آگے بڑھی تو آپ نے منظور پشتین کی حمایت شروع کر دی۔ پھر آپ نے ماہ رنگ بلوچ کو مظلوم قرار دے دیا اور آگے چل کر آپ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بارے میں بڑی سخت باتیں کیں جو آج بھی تاریخ کی درست سمت پر کھڑے ہیں۔
حامد میر لکھتے ہیں کہ میرے خلاف ایف آئی آر خاصی طویل تھی، میں نے مخاطب سے کہا کہ میں آپ کے ساتھ بحث نہیں کرنا چاہتا۔ جس واقعے کا آپ ذکر کررہے ہیں وہ ریکارڈڈ ہے اور یو ٹیوب پر موجود ہے۔ اس میں صرف یہ کہا گیا کہ نوجوان بڑی سیاسی جماعتوں سے مایوس ہو کر منظور پشتین اور ماہ رنگ بلوچ کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں اور ریاست نے مین اسٹریم میڈیا پر ان دونوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس میں غلط کیا ہے؟
حامد میر کا سوال سُن کر مخاطب نے کہا کہ یہ دونوں ریاست کے دشمن ہیں۔
حامد میر نے پوچھا کہ کیا ان دونوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے؟ مخاطب نے جواب دیا کہ ہتھیار نہیں اٹھائے لیکن یہ دونوں ریاست کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں۔ آپ ان سے تو ہمدردی رکھتے ہیں لیکن قاضی فائز عیسیٰ سے نفرت کرتے ہیں جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے دیانت دار جج ہے۔
حامد میر نے اپنی ہنسی کو روکا اور مخاطب سے پوچھا کہ یہ بتائیے کہ جب 2019ء میں قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف نااہلی کا ریفرنس دائر ہوا تو آپ کا کیا موقف تھا اور میرا کیا موقف تھا؟
مخاطب نے کہا آپ میرے موقف کو چھوڑیئے لیکن آپ تو قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں کھڑے تھے پھر آپ نے ان کی مخالفت کیوں شروع کر دی؟
حامد میر نے بڑے ہی نرم لہجے میں عرض کیا کہ جناب عالی! جب قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ ناانصافی ہو رہی تھی تو میں اُن کے ساتھ کھڑا تھا جب انہوں نے ناانصافی شروع کی تو میں ان کے خلاف ہوگیا۔ میں نے ان کی حمایت کرکے عمران خان کی حکومت کو ناراض کیا اور ان کی مخالفت کرکے شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کو ناراض کیا۔
حامد میر لکھتے ہیں کہ یہ سن کر میرے مخاطب چمک اٹھے اور فاتحانہ انداز میں کہا کہ آپ نے خود ہی اعتراف کر لیا کہ آپ ہمیشہ تاریخ کی الٹ سمت میں کھڑے ہوتے ہیں۔ آپ سے صرف اتنی سی گزارش ہے کہ اپنے کردار و عمل کا جائزہ لیں اپنے موقف پر نظرثانی کریں اور مجھ جیسے پرستاروں کو مایوس نہ کریں۔
اس کے بعد حامد میر خاموش ہو چکے تھے، مخاطب بھی خاموش تھے، حامد میر لکھتے ہیں کہ ہم خاموشی سے ایک دوسرے کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔ مخاطب نے ماحول کو خوشگوار بنانے کیلئے اپنے چہرے پر مسکراہٹ نمودار کی اور بلوچستان کی تاریخ پر ایک لیکچر شروع کر دیا۔ میں نے خاموشی سے پورا لیکچر سنا اور انہیں بتایا کہ جو کچھ آپ نے بتایا یہ سب کچھ دن قبل بلوچستان کی تاریخ کے ایک نئے استاد اسلام آباد کے کچھ صحافیوں کو سنا چکے ہیں۔
مخاطب نے پوچھا کون سے استاد؟ میں نے بتایا وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، مخاطب نے کہا کہ آج پاکستان کو سرفراز بگٹی اور قاضی فائز عیسیٰ جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔
میں نے بتایا کہ 2008ء میں سرفراز بگٹی لاپتہ ہو گئے تھے تو میں نے ان کیلئے آواز بلند کی تھی، مخاطب نے کہا اُس وقت وہ تاریخ کی الٹی سمت میں چلے گئے تھے اس لئے لاپتہ ہو گئے تھے۔ انہیں ہدایت کی روشنی ملی تو وہ تاریخ کی درست سمت میں چلے آئے۔ وہ بڑے خوش نصیب ہیں۔
میں نے اُن سے پوچھا کہ کیا آپ مجھے سرفراز بگٹی بنانا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں نہیں، آپ تو آپ ہی رہیں گے۔
میں نے بے دھڑک دوسرا سوال پوچھا ’’دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ اگر بلوچستان میں فیئر اینڈ فری الیکشن ہو تو کیا سرفراز بگٹی وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں؟‘‘ مخاطب نے ناگوار لہجے میں کہا کہ یہ سوال مفروضے پر مبنی ہے۔
انہوں نے سوال کا جواب نظر انداز کیا تو میں نے کہا کہ جناب پاکستان کی بنیاد جمہوریت ہے اگر آج کی جمہوریت میں پارلیمنٹ، عدلیہ اور میڈیا آزاد نہیں تو یہ پاکستان کیلئے اچھا نہیں ہے۔ اگر یہ سچ بولنا تاریخ کی الٹی سمت میں کھڑا ہونا ہے تو مجھے اس الٹی سمت پر ہی رہنے دیں۔
کالم کے اختتام میں حامد میر نے لکھا کہ 'کون تاریخ کی درست سمت میں کھڑا ہے؟ یہ فیصلہ کسی ریاستی ادارے یا سرکاری دانشور نے نہیں کرنا، ریاست کا منظورِ نظر بننا آج آسان ترین کام ہے۔ ریاستوں کے منظورِ نظر اہل فکر و دانش کی سمت کا فیصلہ ریاست نہیں بلکہ تاریخ کرتی ہے'۔
حامد میر کی رائے سے آپ کس حد تک اتفاق کرتے ہیں؟ کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کیجئے گا۔







