خواتین

عائلہ مجید ACCA کی پہلی مسلمان پاکستانی خاتون صدر منتخب

اے سی سی اے کی 120 سالہ تاریخ میں پہلی بار یہ منفرد اعزاز عائلہ مجید نے اپنے نام کرلیا

Web Desk

عائلہ مجید ACCA کی پہلی مسلمان پاکستانی خاتون صدر منتخب

اے سی سی اے کی 120 سالہ تاریخ میں پہلی بار یہ منفرد اعزاز عائلہ مجید نے اپنے نام کرلیا

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

عالمی منظر نامے پر ایک مسلمان پاکستانی خاتون عائلہ مجید نے منفرد اعزاز اپنے نام کرلیا۔

انٹرنیشنل اکاؤنٹنسی باڈی 'ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹس (اے سی سی اے) کے انتخاب میں پہلی پاکستانی، جنوبی ایشیائی اور مسلمان خاتون عائلہ مجید کو صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔

اے سی سی اے کی 120 سالہ تاریخ میں پہلی بار کسی مسلمان پاکستانی خاتون کو صدر منتخب کیا گیا ہے۔

عائلہ مجید پہلی جنوبی ایشیائی خاتون ہیں جو دنیا کے معتبر ترین اداروں میں شمار ہونے والے اے سی سی اے کے صدر کے عہدے تک پہنچی ہیں۔

(اسکرین شاٹ: فیس بک)
(اسکرین شاٹ: فیس بک)

عائلہ مجید پلانیٹیو مڈل ایسٹ اور پلانیٹیو پاکستان کی سی ای او ہیں، انہوں نے سال 2006 میں اے سی سی اے میں شمولیت اختیار کی تھی۔

اے سی سی اے کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کو تینوں بڑے عہدوں پر فائز کیا گیا ہے، عائلہ مجید کو توانائی، ڈیکاربونائزیشن اور کلائمیٹ ٹیک پر بین الاقوامی اسپیکر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

عائلہ مجید 180 ممالک میں اے سی سی اے کے 2 لاکھ 52 ہزار 500 سے زائد اراکین اور 5 لاکھ 26 ہزار مستقبل کے اراکین کی قیادت کریں گی۔

وہ ایسے وقت میں صدر منتخب ہوئی ہیں جب اے سی سی اے نے ڈھائی لاکھ اراکین ہونے کا اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے، علاوہ ازیں رواں برس اے سی سی اے اپنی 120ویں سالگرہ بھی منائے گا۔

مسلمانوں سے متعلق منفی رائے کے تدارک کا عزم

اے سی سی اے کی صدر منتخب ہونے کے بعد عائلہ مجید نے اپنے ایک بیان میں اے سی سی اے ممبران کے اعتماد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کو ترقی دینے اور پرکشش بنانے کے لیے کوشش کریں گی۔

'انڈپینڈنٹ اردو' سے گفتگو کرتے ہوئے عائلہ مجید نے کہا کہ 'پاکستان، اس خطے اور مسلم دنیا کی خواتین بہت مضبوط ہیں، ہمیں دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ خواہ پیشہ ورانہ زندگی ہو یا گھریلو، خواتین انتہائی بہادری اور مضبوطی کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، سو دنیا کو اپنا نظریہ بدلنے کی ضرورت ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'مجھے امید ہے کہ میرا صدر بننا دنیا میں خواتین کے بارے میں تاثر بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، نوجوان خواتین کے لیے میرا پیغام ہے کہ دنیا کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جہاں خواتین نہیں جا سکتیں، وہ ہر شعبے میں اپنا سکہ جما سکتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'جیسا کہ میرا تعلق ایک مسلمان گھرانے سے ہے تو میری یہ کوشش ہو گی کہ میں برداشت اور مسلمانوں سے متعلق منفی رائے کے تدارک میں کردار ادا کر سکوں، یقیناً میری یہ کوشش بھی ہو گی کہ ایسا مثبت ماحول پیدا کیا جس میں تمام لوگوں کے لیے برابری اور احترام کی بنیاد پر ایسا ماحول پیدا کیا جائے جو امن کا سبب ہو'۔

ابتدائی تعلیم اور کیریئر

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی عائلہ مجید توانائی کے مستقبل، موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات اور پائیدار انفراسٹرکچر پر کام کرتی ہیں اور ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل فیوچر کونسل آف انرجی ٹرانزیشن کی عالمی رہنما کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم راولپنڈی سے ہی حاصل کی، اس کے بعد انہوں نے فیڈرل گورنمنٹ کالج سے پری انجینیئرنگ اور پری میڈیکل پڑھا۔

بعد ازاں معاشیات، فزکس اور ریاضی میں گریجویشن کیا، لاہور یونیورسٹی آف ماڈرن سائنسر (لمز) سے ماسٹرز آف بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے) کرنے کے بعد انہوں نے اے سی اے کیا اور یونیورسٹی آف لندن سے قانون بھی پڑھا۔