راز و اسرار سے بھرپور ‘ قرضِ جاں‘ دیکھنے کی وجوہات جانیے
نشوہ بے باک اور نڈر ہے
ڈرامہ سیریل ’زرد پتوں کا بن‘ میں مینو اور ڈاکٹر نوفل کی لوو اسٹوری تو کامیاب ٹھہری ساتھ ہی یہ ڈرامہ ہمیں بہت سے سبق بھی دے گیا، اس ڈرامے کے سحر سے باہر نکالنے کے لیے ایک نئے ڈرامے کا آغاز ہوا ہے جس کی لِیڈ کاسٹ میں ہم سب کی فیورٹ یمنیٰ زیدی اور انکے ہمراہ اسامہ خان ہیں۔
یہ کہانی نشوہ (یمنیٰ زیدی) کے گھر کی جھلک کو حقیقی زندگی کا رنگ دیتی ہے، شاید اس کی وجہ کہانی سنانے کا فن ہو، جس کا سہرا ڈائریکٹر ثاقب خان کے سر جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ بہترین پرفارمنس کا نتیجہ ہو، یومنیٰ زیدی، اسامہ خان، نمیر خان، اور تزئین حسین اس فہرست میں سرِفہرست ہیں، اور شاید یہ سب کچھ کہانی کا ہی کمال ہو جسے رابعہ رزاق نے اس انداز میں تحریر کیا ہے کہ روزمرہ کے مکالموں میں خاص انداز شامل ہو گیا ہے، جو ناظرین کی دلچسپی کو عام سے خاص بناتا ہے۔
ڈرامے کی کہانی:
نشوہ نے اپنے ایل ایل بی کے امتحان میں بہترین نمبرز حاصل کیے ہیں اور وہ وکالت میں قدم رکھنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے اس کے والد کا انتقال ہو چکا ہے اور وہ اپنی والدہ اور ددھیال کے ساتھ جوائنٹ فیملی میں رہتی ہے۔
نشوہ بے باک اور نڈر ہے لیکن وہ پاکستانی ڈراموں کی دیگر ہیروئنوں کی طرح جارح مزاج نہیں ہے۔
وہ جانتی ہے کہ اسے اپنے ریڈ فلیگ کزن عمار سے کیسے نمٹنا ہے؟ لیکن ساتھ ہی وہ خود کو یہ سبق بھی دیتی ہے کہ اسے وکالت میں بہتر مقام بنانے کے لیے صبر سے کام لینا ہوگا تاکہ اس کے چچا بختار (دیپک پروانی) اسکی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں۔
کہانی کا دوسرا رخ برہان (اسامہ خان) کی جانب سے ہے جو ایک گھر خریدنے کی کوشش میں ہے، لیکن وہ ایک سخت خریدار ہے اور پیشے کے لحاظ سے بھی وکیل ہے۔ ابھی تک دونوں کی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔
اسامہ اور یمنیٰ دونوں کی اسکرین پر ایک ساتھ موجودگی زبردست دکھائی دے رہی ہے۔ اسامہ نے پرفارمنس، ڈائیلاگز کی ادائیگی، تاثرات اور اسکرین پر اپنی موجودگی سے مکمل انصاف کیا ہے۔
یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اسامہ خان اب مکمل پیکیج بن چکے ہیں اور ’نایاب‘ کے بعد ان دونوں کی ساتھ کاسٹنگ بہترین فیصلہ لگ رہا ہے۔
اسامہ کے بعد اگر بات کی جائے یمنیٰ کی تو یمنیٰ کی تو کیا ہی بات ہے، وہ کبھی آسان کردار نہیں لیتیں اور یہ کردار بھی یقینی طور پر چیلنجز سے بھرپور ہے۔ وہ کوئی عام لڑکی نہیں، اس کی پہلی سوچ ہی شادی کے غیر سنجیدہ نظریات کے بجائے کیریئر کی طرف تھی، جو واقعی ایک خوش آئند بات ہے۔
لیجنڈری اداکار طلعت حسین کی صاحبزادی تزئین حسین نے نشوہ کی ماں کا کردار نبھایا ہے، جنہوں نے ایک پریشان مگر فخر کرنے والی ماں کی زبردست اداکاری کی ، جو اپنی بیٹی کی کامیابی پر خوش ہے۔ ان کے دل کو چھو لینے والے ڈائیلاگز یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تزئین کو مزید پروجیکٹس کرنے چاہئیں، کیونکہ وہ ان کہانیوں میں جان ڈال سکتی ہیں۔
بختیار یعنی نشوہ کے تایا اور انکی کی والدہ (نشوہ کی دادی) (سکینہ سموں) چپکے سے سب بہن بھائیوں کی جائیداد ہتھیانے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ بختیار کے عزائم نشوہ کی ماں کے لیے بھی مشکوک ہیں۔
پہلی قسط دیکھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ برہان شاید وہی گھر خریدے جو بختیار بیچ رہا ہے اور یقینی طور پر یہاں ایک راز موجود ہے جس کا پتہ آئندہ قسطوں میں لگ جائے گا۔
قرضِ جاں اپنی اسٹوری ٹیلنگ، بہترین لائٹننگ، زبردست سینماٹوگرافی کی وجہ سے بھی ناظریں میں مقبول ہورہا ہے۔
پہلی قسط کے ایک سین میں نشوہ کی والدہ کو اپنے خاندان کے لیے چائے تیار کرتے دکھایا گیا اور یہاں کچن کی تفصیلات نے ناظرین مکمل طور پر اپنی طرف متوجہ کیا، پکوڑوں اور سموسوں نے ہمیں واقعی اس فیملی ٹی ٹائم کا حصہ بننے کی دعوت دی۔
برہان کا باہر کافی پینا بصری طور پر دل کو بھاتا ہے۔ اس کی وکیل کی شخصیت کا لباس، انداز، اور مجموعی ظاہری شکل کردار کے بارے میں بہت کچھ بیان کرتی ہے۔
ڈرامے کی پہلی قسط پر آنے والے ریویوز سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرضِ جاں بلاشبہ دیکھنے کے قابل ڈراموں میں سے ایک ہے۔ پہلی قسط نے ناظرین کو اتنا کچھ دیا کہ مزید دیکھنے کی خواہش پیدا ہو، کئی سوالات ابھی جواب طلب ہیں، لیکن کہانی آگے بڑھنے اور پلاٹ میں مزید ڈرامہ شامل کرنے کے لیے تیار ہے۔
قرضِ جاں میں یمنی زیدی، اسامہ خان، نمیر خان، انیقہ ذوالفقار، فیصل رحمان، دیپک پروانی، تزئین حسین، دانیال عامر، سکینہ سموں، سلمیٰ عاصم، عصمت زیدی، فجر مرسلین، تبسم عارف اور مبصر خان شامل ہیں۔
اس ڈرامے کو رابعہ رزاق نے لکھا، ثاقب خان نے ڈائریکٹ کیا، اور مومنہ درید نے پروڈیوس کیا ہے۔





