وائرل اسٹوریز

چیمپئینز ٹرافی؛ بھارتی ٹیم کی پاکستان آمد سے انکار کیوجہ ذاکر نائیک؟

بھارتی صحافی وکرانت گپتا نے انوکھی منطق پیش کردی

Web Desk

چیمپئینز ٹرافی؛ بھارتی ٹیم کی پاکستان آمد سے انکار کیوجہ ذاکر نائیک؟

بھارتی صحافی وکرانت گپتا نے انوکھی منطق پیش کردی

بھارتی اسپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا نے چیمپئنز ٹرافی 2025 کیلئے ٹیم پاکستان بھیجنے سے بھارتی حکومت کے صاف انکار کا انوکھا جواز پیش کردیا۔

'آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی 2025' آئندہ برس فروری اور مارچ میں پاکستان میں شیڈول ہے تاہم بھارت نے سیکیورٹی کا بہانہ بناکر ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا ہے اور آئی سی سی کو ہائبرڈ ماڈل کے تحت ٹورنامنٹ کروانے پر زور دے رہا ہے۔

دوسری جانب حکومتِ پاکستان اور پی سی بی نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے ٹورنامنٹ پاکستان میں ہی کروانے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور ہائبرڈ ماڈل ماننے سے انکار کردیا ہے۔

بھارتی اسپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا نے بھارتی کرکٹ ویب سائٹ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'پاکستان کو بھارت کا بھروسہ بحال کرنے کیلئے کچھ اقدامات کرنے چاہیے تھے، بھارت نے پاکستان کو دہشتگرد تنظیموں اور افراد کی لسٹ دے رکھی ہے، اگر وہ ان کے خلاف کارروائی کرتے تو شاید ہماری حکومت اپنی ٹیم بھیجنے پر راضی ہوجاتی'۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سے جلاوطن کیے جانیوالے مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'حکومتِ پاکستان نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا، ایسا کرکے پاکستان نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری تھی'۔

وکرانت گپتا کا کہنا ہے کہ 'پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی وہاں کے وزیرداخلہ بھی ہیں، لیکن پی سی بھی کے دیگر عہدیدران نے ڈاکر ذاکر نائیک کی آمد پر اپنا سر ضرور پیٹ لیا ہوگا کہ اب بھارت چیمپئنز ٹرافی کھیلنے پاکستان ہرگز نہیں آئے گا، تھوڑی بہت امید تھی جسے آپ نے آگ لگادی'۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈٰیا نے بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر سے جھوٹی منسوب کیں کہ شنگھائی اجلاس کیلئے پاکستان آمد کے دوران انہوں نے ٹیم بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی'۔

وکرانت گپتا کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی یا ذاکر نائیک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا اور انہوں نے ذاکر نائیک کا انتخاب کیا، پاکستان کے 90 فیصد لوگ اس بات سے واقف تھے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا'۔

بھارتی صحافی کی اِس عجیب منطق پر کئی سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی رویے پر ناراضی کا اظہار کیا لیکن اس کے باوجود ہماری حکومت نے کھیل کو سیاست سے الگ رکھا اور 2023 ورلڈکپ کیلئے ٹیم بھیجی۔

یاد رہے کہ رواں ماہ اکتوبر میں ڈاکٹر ذاکر نائیک حکومتِ پاکستان کی دعوت پر ایک ماہ کے دورے پر پاکستان پہنچے تھے،  بھارت نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے دورہِ پاکستانی اور سرکاری سطح پر ان کے خیرمقدم کی مذمت کرتے ہوئے خوب واویلا برپا کیا تھا۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ بھارت نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پاکستان میں ہونے اور ان کے پُر جوش خیر مقدم کی رپورٹس دیکھی ہیں، یہ افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے تاہم یہ حیرت انگیز نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک مختلف الزامات میں بھارت میں مطلوب ہیں، بھارت چھوڑنے کے بعد سے وہ 2016 سے مستقل طور پر ملائیشیا میں مقیم ہیں۔

بھارت کی سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے ان پر نفرت انگیز تقریروں کے ذریعے انتہاپسندی پھیلانے کا الزام ہے۔