’باکمال لوگوں‘ کی ایئرلائنPIA پاکستان کے سر کا تاج کیسے بنی؟
پی آئی اے صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ وہ خطے بہترین ایئر لائن تھی۔
پی آئی اے جو کبھی پاکستان کے سر کا تاج تھی آج کوڑیوں کے بھاؤ بیچا جا رہا ہے۔ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی ’پی آئی اے‘ جس کا شمار کبھی دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں ہوتا تھا اور کئی اعزازات بھی اس کے نام رہے۔
پی آئی اے صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ وہ خطے بہترین ایئر لائن تھی، یہ ساؤتھ ایسٹ ایشیا کی بہترین ایئر لائن میں سے تھی۔ پی آئی اے نے بہت ساری اور ایئر لائنز کو بنایا لیکن بد قسمتی سے اپنے آپ کو نہ بنا سکی۔
70 اور 80 کی دہائی میں جب دنیا بھر میں ایئر لائنز تنزلی کا شکار تھیں اس دوران پی آئی اے نے اپنے آپریشنز کو بڑھایا تاہم جب پی آئی اے کے بعض جہازوں کو بغیر کسی حکمت عملی کے گراؤنڈ کرنے کے فیصلے کیے گئے وہاں سے ایئر لائن کا زوال شروع ہوا۔
پی آئی اے کے عروج کی شاندار تاریخ اور زوال کی دردناک داستانیں ناقابل فراموش ہیں، لیکن آج ہم آپ کو پی آئی اے کے ان کارناموں کے بارے میں بتائیں گے جن سے شاید بہت سے لوگ آج تک ناواقف ہوں۔
پاکستان کی سب سے پہلی انٹرنیشنل فلائٹ یکم فروری 1955کو کراچی سے لندن کیلئے اڑان بھری تھی جسے پاکستان قومی ایئرلائن پی آئی اے نے سرانجام دیا تھا۔
پی آئی اے کا ایک ورلڈ ریکارڈ ہے جو اب تک کوئی ایئر لائن توڑ نہیں سکی۔ پی آئی اے نے 1962میں لندن سے کراچی کا سفر صرف 6 گھنٹے اور 43منٹ میں طے کرکیا تھا، اس سفر کے دوران پی آئی اے کے مسافر بردار طیارے نے 938کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کی تھی۔ اس کارنامے سے پی آئی اے نے ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کیا جو آج تک دنیا کی کوئی بھی کمرشل ایئر لائن توڑ نہیں پائی۔
پی آئی اے کے طیارے اتنے شاندار تھے کہ متحدہ عرب امارات 1958میں پاکستان سے لیز پر طیارے لیکر اپنی ایئرلائن کا آغاز کیا تھا، پی آئی اے دنیا کی پہلی نان کمیونسٹ ایئر لائن ہے جس نے چین میں لینڈ کیا تھا۔
اس کے علاوہ پی آئی اے کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہ دنیا کی پہلی ایئر لائن ہے جس نے ماسکو کے راستے ایشیا کو یورپ سے جوڑا تھا۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن ہی نے دنیا میں سب سے پہلے طیاروں میں مسافروں کی تفریح کیلئے فلموں اور میوزک کی سہولت متعارف کرائی۔
کسی زمانے میں روشنیوں کے شہر کراچی میں دنیا کی 40 ایئر لائنز کے طیارے لینڈ کیا کرتے تھے۔ ان میں سے 30ایئر لائنز کے فضائی اور زمینی علمے کی ٹریننگ کا کنٹریکٹ بھی پی آئی اے ہی کو ملا تھا۔
اس ایئر لائن کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہ ایشیا کی پہلی ایئر لائن ہے کہ جس نے سب سے پہلے جیٹ طیاروں کو اپنے بیڑے میں شامل کیا۔ پی آئی اے نے سال 1967 میں اس وقت آئی بی ایم کمپیوٹر خریدا جب لوگ کمپیوٹر کے نام سے بھی واقف نہیں تھے۔




