دھنوش اور ایشوریا کی جوڑی بھی طلاق پر ختم
جوڑے نے اپنی طلاق کا باضابطہ اعلان کردیا
جنوبی بھارت کے معروف تامل اداکار وینکاٹیش پرابھو کستوری راجہ المعروف دھنوش اور فلمساز ایشوریا رجنی کانت کی جوڑی بھی بالآخر طلاق پر ختم ہوگئی۔
معروف اداکارہ نین تارا کے ساتھ قانونی جنگ کے سبب ان دنوں شہہ سرخیوں کا حصہ رہنے والے اداکار دھنوش اور انکی اہلیہ نے اپنی اپنی راہیں ہمیشہ کیلئے جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
سال 2022 میں بھی دھنوش اور ایشوریہ رجنی کانت نے اپنی شادی کے 18 طویل سال مکمل کرنے کے بعد اچانک سوشل میڈیا پر مشترکہ علیحدگی کا اعلان کر کے مداحوں کو صدمے سے دوچار کردیا تھا۔
تاہم اب بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق، چنئی فیملی ویلفیئر کورٹ نے یہ کہتے ہوئے اس جوڑے کے درمیان باضابطہ طلاق کا اعلان کیا کہ وہ مزید ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔
دھنوش اور ایشوریا کے بارے میں:
واضح رہے کہ یہ کیس پہلے تین بار سماعت کے لیے پیش کیا گیا تھا، لیکن دھنوش اور ایشوریا دونوں میں سے کوئی بھی ان سماعتوں میں حاضر نہیں ہوا تھا۔
ازدواجی زاندگی کی بات کریں تو دھنوش اور ایشوریا جن کی شادی 2004 میں ہوئی، دو بیٹوں لنگا اور یاترا، کے والدین ہیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب پوس گارڈن میں رہائش پذیر ہیں اور ان کے بچے دونوں والدین کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جوڑا طلاق کے بعد بھی اپنے بچوں کی مشترکہ پرورش جاری رکھے ہوئے ہے اور اکثر سوشل میڈیا پر ان کے ساتھ تصاویر شیئر کرتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 17 جنوری 2022 کو دھنوش نے ایک پوسٹ کے ذریعے اپنی علیحدگی کا اعلان کیا، جس میں لکھا گیا تھا کہ،’دوستی، ازدواجی تعلق، والدین اور ایک دوسرے کے خیر خواہ کے طور پر 18 سال کی رفاقت۔ یہ سفر ترقی، سمجھوتے، ایڈجسٹمنٹ اور مطابقت کا رہا۔ آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں ہمارے راستے الگ ہو رہے ہیں۔’
نین تارا اور دھنوش اسکینڈل:
حال ہی میں اداکارہ نین تارا نے دھنوش کو تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ انہوں نے اپنی 2015 کی تمل فلم کے مناظر کو اپنی نیٹ فلکس شادی کی ڈاکیومنٹری میں استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
نین تارا نے دھنوش پر یہ الزام بھی لگایا کہ انہوں نے 10 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیجا ہے کیونکہ ڈاکیومنٹری میں فلم کے تین سیکنڈ کے ایک بیک اسٹیج کلپ کو شامل کیا گیا تھا۔
اب دھنوش نے نین تارا کے خلاف مدراس ہائی کورٹ میں ایک سول مقدمہ دائر کیا ہے، ان پر فلم کے مناظر کو بغیر اجازت استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔
مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیٹ فلکس ڈاکیومنٹری ’نین تارا: بیونڈ دی فیری ٹیل’ میں فلم کے کچھ مناظر بغیر اجازت استعمال کیے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، نین تارا کو آئندہ سماعت میں اس نوٹس کا جواب دینا ہوگا۔



