ہالی وڈ کی وہ 5 فلمیں جو کلاسک کا درجہ حاصل کرچکی ہیں
ان فلموں میں ابتدائی امریکی معاشرت کو خوب طریقے سے دکھایا گیا ہے
ہالی وڈ کی کچھ فلمیں ایسی ہیں جن میں قدیم مغربی معاشرت کو نمایاں کرکے دکھایا گیا ہے، بہترین ہدایت کاروں نے مغربی طرز کی ایسی کلاسک فلمیں بنائیں ہیں جنہیں سنیما کے حقیقی شاہکار کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
ان شاندار فلموں میں اعلیٰ درجے کی ایکشن، طنز و مزاح، اور انتقام اور معافی کی گہری سوچ بھری کہانیاں شامل ہیں۔
فلمیں امریکی ذہنیت میں جھانک کر اس کے لاقانونیت بھرے ماضی کی تاریک پیچیدگیوں کو ظاہر کرتی ہیں۔
ذیل میں ہم ایسی 5 ہالی وڈ فلموں کا ذکر کریں گے جو کلاسک کے طور پر تسلیم کی جاتی ہیں۔
The Wild Bunch (1969)
ہالی وڈ میں ایک دور ایسا رہا ہے جسے نیو ہالی وڈ کے دور سے جانا جاتا ہے جو 1960 سے لیکر 1980 تک پھیلا ہوا تھا، اس دور میں ہدایت کاروں کو بے مثال تخلیقی صلاحیتیں آزمانے کا موقع ملا، یہ فلم بھی ایسی ہی ایک مثال ہے۔
اس فلم میں جس میں سلو موشن کے جدت انگیز استعمال نے جدید ایکشن فلم سازی پر گہرے اثرات ڈالے۔
’ دی وائلڈ بنچ‘ نے مغربی طرز کی فلموں کو جدید دور میں لانے میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ اس کےسنسنی خیز مناظر نے مغرب کی پرتشدد کہانیوں کو ایک نیا مفہوم دیا۔ فلم ایک بوڑھے مجرم گروہ کی کہانی سناتی ہے جو میکسیکو،امریکا کی سرحد پر تیزی سے جدید ہوتی دنیا میں اپنی جگہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
The Man Who Shot Liberty Valance (1962)
اس منفرد بلیک اینڈ وائٹ فلم میں ہالی وڈ کے دو مشہور اداکار جیمز اسٹیورٹ اور جان وین تھے۔
’ دی مین ہو شاٹ لبرٹی ویلنس‘ نے مغربی فلموں کے پرانے روایتی عناصر کو استعمال کرتے ہوئے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ کس طرح اکثر حقیقی کہانی کو حقیقی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
ہیروز اور ولن کے پیچیدہ کرداروں شامل کے ذریعے ڈایریکٹر فورڈ نے ایک انتہائی دلچسپ کہانی کو اپنے فلمی مناظراور خوبصورت سینماٹوگرافی کے ساتھ پیش کیا۔
Once Upon A Time In The West (1968)
’ونس اپون اے ٹائم ان دی ویسٹ‘ ایک بڑے بجٹ کی فلم تھی، جس میں ہدایتکاروں نے ایک غیر معمولی کہانی پیش کی جس میں ایک ساز بجانے والے ایک شخص کو ایک مشہور مجرم کے ساتھ دوست بنتا دکھایا گیا ہے تاکہ اس دوستی کے ذریعے ایک خوبصورت عورت کو قتل ہونے سے بچایا جاسکے۔
اس کلاسک کہانی میں بہادری اور انصاف کے موضوعات کو اجاگر کیا گیا ہے، اور ہنری فونڈا کو ایک منفرد انداز میں ولن کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
ونس اپون اے ٹائم ان دی ویسٹ کلٹ کلاسک کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔
اگرچہ اس کی تقریباً تین گھنٹے کی غیرمختصر مدت دیکھنے والوں کے لیے مشکل ہو سکتی ہے لیکن یہ وقت صرف کرنا اس صنف کے حقیقی شاہکار کو دیکھنے کے لیے قابلِ قدر ہے۔
High Noon (1952)
صرف 85 منٹ کے دورانیے کے ساتھ ’ ہائی نون ‘نے یہ ثابت کیا کہ ایک مغربی فلم کو ایک حقیقی شاہکار کے طور پر مانے جانے کے لیے طوالت کی ضرورت نہیں۔
بہترین مغربی فلموں میں شمار ہونے والی’ ہائی نون‘ کی سیاسی موضوعات نے اسے اپنی ریلیز کے وقت خاصی متنازع بنا دیا۔
فلم کے موضوعات جیسے کہ فوری خطرے کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونا،حقیقی معنوں میں بہادری کی عکاسی کرتے ہیں۔ حقیقی وقت میں پیش آنے والے واقعات پر مبنی’ ہائی نون‘ نے اپنے پیغام جو فرض اور عزت کے ارد گرد گھومتا ہے، کی مستقل اہمیت کے باعث کئی دہائیوں تک مقبولیت برقرار رکھی ہے۔
The Good, The Bad And The Ugly (1966)
ہالی وڈ میں اس فلم کو 100 بہترین فلموں میں شمار کیا جاتا ہے، اس میں امریکا کا قدیم زمانہ دکھایا گیا ہے۔
اینیو موریکون کے عظیم الشان ساؤنڈ ٹریک سے لے کر اس کے مشہور میکسیکن اسٹینڈ آف کلائمیکس تک، دی گڈ، دی بیڈ اینڈ دی اگلی حقیقی ویسٹرن شاہکار تھی۔
کلنٹ ایسٹ وڈ نے اس فلم میں اپنے کیریئر کی سب سے یادگار پرفارمنس دی، بلکہ ان کے ساتھ مغربی فلموں کے لیجنڈ لی وین کلیف بھی موجود تھے، جنہوں نے بے رحم کرائے کے قاتل اینجل آئز کا کردار نبھایا۔ تشدد اور مزاحیہ انداز سے بھرپور یہ فلم لیون کا سب سے بہترین کام تھی






