پہاڑوں سے محبت پر مجبور کردینے والی 5 نیٹ فلیکس فلمیں
نیٹ فلیکس پر موجود یہ 5 فلمیں آپ کو پہاڑوں کی طرف لے جائیں گی
کہا جاتا ہے کہ پہاڑوں کی بلندیاں انسان کو عاجزی سکھاتی ہیں، ان کی عظمت یہ یاد دلاتی ہے کہ زندگی میں ہر بلندی تک پہنچنے کے لیے محنت اور استقامت ضروری ہے۔ ان کی چھاؤں میں وقت گزارنا، ان کے دامن میں بہتے جھرنوں کی آواز سننا، اور ہوا کے ٹھنڈے جھونکوں کو محسوس کرنا، دل و دماغ کو ایک نئی توانائی سے بھر دیتا ہے۔
یہ محبت اس وقت گہری ہو جاتی ہے جب انسان اپنی ذات کو پہاڑوں کے سکون میں ڈھونڈتا ہے۔ پہاڑوں کی بلندیوں پر کھڑے ہو کر انسان اپنی پریشانیوں کو چھوٹا محسوس کرتا ہے، اور ایک نیا عزم لے کر واپس آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہاڑوں سے محبت ان لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے جو فطرت کی سادگی اور خاموشی میں سکون تلاش کرتے ہیں۔
اب بات کی جائے بالی وڈ کی دنیا سے تو فلموں میں عموماً ایکشن سین، اور رومانوی مناظر کی بھرمار دیکھنے کو ملتی ہے لیکن صرف چند ہی فلمیں ایسی ہوتی ہیں جن میں قدرتی خوبصورتی دکھائی جاتی ہے۔
ایسے میں اگر خوبصورتی میں اپنی مثال آپ قدرت کے شاہکار پہاڑوں کا ذکر کریں تو ہر کوئی اس کا دیوانہ نظر آتا اور اپنی زندگی میں ایک بار ان پہاڑوں کا نظارہ کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔
لیکن زرا ٹھہریے یہاں ہم آپکو چند ایسی فلموں کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جنہیں دیکھنے کے بعد آب گھر بیٹھے ہی ان پہاڑوں کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔اور نہ صرف ان مناظر کو پسند کریں گے بلکہ ایک لمحے کیلئے خود کو بھی اس جگہ پر موجود تصور کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
تو اگر آپ بھی قدرتی مناظرات کے شوقین ہیں یا سفر کے پسندیدہ ہیں، تو یہ فلمیں آپ کو یقینی طور پر اپنے بیگ پیک کرنے اور پہاڑوں کی طرف روانہ ہونے کی ترغیب دیں گی۔
یہ جوانی ہے دیوانی:
2013 میں ریلیز ہونے والی فلم ’یہ جوانی ہے دیوانی’ میں مرکزی کردار رنبیر کپور اور دیپیکا پڈوکون نے نبھائے تھے۔ جبکہ ادتیا رائے کپور اور کلکی کوچلن بھی اہم کردار نبھاتے نظر آئے۔
یہ کہانی بنی اور نینا کی زندگی کے گرد گھومتی ہے، نینا ایک سنجیدہ لڑکی ہے جو زندگی میں زیادہ تجربات نہیں کرنا چاہتی لیکن جب وہ ایک ٹریکنگ ٹرپ پر بنی اور اس کے دوستوں سے ملتی ہے تو اس کی زندگی میں تبدیلی آتی ہے۔دوسری جانب بنی ایک ایسا انسان ہے جسے دنیا گھومنے کا جنون ہےاور وہ اپنی زندگی میں کسی قسم کی بندش قبول نہیں کرتا۔
کہانی میں دوستی، محبت، خوابوں کا پیچھا اور زندگی کے مختلف مراحل پر جذباتی اتار چڑھاؤ دکھائے گئے ہیں۔فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح وقت کے ساتھ ان کی زندگی بدلتی ہے اور وہ اپنی ترجیحات اور محبت کو کیسے سمجھتے ہیں۔
جبکہ پہاڑوں کا ذکر کیا جائے تو اس فلم میں منالی ہماچل پردیش کے دلکش مناظرات کو اہمیت دی گئی ہے۔جس میں کبیر (رنبیر کپور) ایک دلچسپ ٹریکنگ کا آغاز کرتے ہیں۔ جبکہ برف سے ڈھکے پہاڑوں کے وسیع مناظر، کھردرے راستے اور جوانی کی توانائی ایک ساتھ مل کر ایک دلکش ماحول پیدا کرتی نظر آتی ہے جو ہر دیکھنے والوں کو پہاڑوں سے محبت کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔
جبکہ اس فلم میں رنبیر کپور کے ڈائیلاگ ’22 تک پڑھائی 25 پر نوکری، 26 پر چھوکری (لڑکی سے شادی)، 30 پر بچے، 60 پر رئٹائرمنٹ اور پھر موت کا انتظار، ’ یہ وہ الفاظ تھے جس نے ایک انسان کی زندگی کا مکمل احاطہ کردیا۔
جبکہ برف سے ڈھکے پہاڑوں پر موج مستی کرتے رنبیر کے یہ الفاظ ’میں اڑنا چاہتا ہوں، دوڑنا چاہتا ہوں، گرنا بھی چاہتا ہوں بس رکنا نہیں چاہتا’ فلم بینوں کو زندگی کو کھل کر جینے کا سبق دے گئے۔
تماشہ:
بابا میں ایک کہانی سناؤں؟ بہت پہلے کی بات ہے ایک آدمی ہوا کرتا تھا اسکا نام ہیرو تھا اس نے بہت محنت کی، نوکری ، آفس ہاں بولو، نیچھے دیکھو ، ہنسو لیکن اس کے بعد دنیا سے بہت دور اس ہیرو کو ایک ساتھی ملا جسے 12 ملکوں کی پولیس ڈھونڈ رہی ہے۔’
یہ الفاظ ہمارے نہیں بلکہ بالی وڈ کے مایہ ناز ہدایتکار امتیاز علی کی 2015 میں ریلیز ہونے والی فلم 'تماشا' کے ہیں جس میں پہاڑوں کے حسین مناظر کو بڑی ہی خوبصورتی کیساتھ کیمرے میں قید کیا گیا ہے جو فلم بینوں کو قدرت کے اس شاہکار سے محبت کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔
اگرچہ کہ اس فلم کی کہانی کورسیکا، ایک جزیرہ جو بحر متوسط میں واقع ہے، پر مبنی ہے، لیکن اس میں پہاڑوں کے دلکش پس منظر دکھائے گئے ہیں جو رومانوی کہانی کو مزید گہرا کرتے ہیں۔
دیکھا جائے تو اس فلم میں کورسیکا کےکھردرے اور الگ تھلگ مناظرات کی خوبصورتی، رنبیر کپور اور دیپیکا پڈوکون کے کرداروں کی جذباتی تنہائی کی عکاسی کرتی ہے۔ جو فلم بینوں کو خود سے جوڑے رکھنے کا ذریعے بن جاتی ہے۔
لکشیا:
سال 2004 میں ریلیز ہونے والی فلم ’لکشیا’ بھی ان فلموں میں سے ایک ہے جن میں پہاڑوں کے خوبصورت مناظر کی منظر کشی کی گئی ہے۔
اس فلم میں اداکار ریتیک روشن، پریتی زنٹا اور امیتابھ بچن نے مرکزی کردار ادا کیا، فلم میں ریتیک روشن لیفٹیننٹ کرن شیرگل کے کردار میں نظر آئے جو آرمی میں جاتا ہے اور خود کو تلاش کرتا ہے۔
مرکزی کرداروں کی لازوال پرفارمنس پر مبنی اس فلم کی بات کریں اور پہاڑوں کا ذکر نہ آئے ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔لکشیا کی کہانی شاندار ہمالیائی پہاڑوں کی پس منظر میں ترتیب دی گئی ہے۔ جس میں پہاڑوں کی کھردری زمین جنگ کے مناظرات میں نمایاں طور پر دکھائی گئی ہے۔
فطور:
ادتیا رائے کپور اور کترینہ کیف کی آن سکرین کیمسٹری پر مبنی رومانوی فلم ’فتور’ بھی پہاڑوں کی دلکشی اور خوبصورت مناظر کو قید کرنے میں پیش پیش ہے۔
کشمیر میں سیٹ کی گئی فطور کی کہانی میں شاندار ہمالیائی پہاڑ اور خوبصورت ڈل جھیل کو پس منظر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ فلم کی رومانوی کہانی کو پہاڑوں کے پرسکون مگر دلکش منظرنامے کے ساتھ جوڑا گیا ہے، جو کہانی کی جذباتی شدت کو بڑھاتا ہے۔
کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ پہاڑ طوفانی اور جذباتی محبت کی کہانی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فلمی مناظر اگر برف سے ڈھکے چوٹیوں، سرسبز وادیوں اور پرسکون جھیلوں والے ان مقامات پر قید کیے جائیں تو خوبصورتی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔
کپور اینڈ سنز:
بات کریں فلم ’کپور اینڈ سنز’ کی تو اس فلم میں ایسے مناظر دیکھنے کو ملے جو ہماچل پردیش کے وسیع تر علاقے کی خوبصورت پہاڑیوں میں فلمائے گئے تھے۔
وہ خوبصورت پہاڑی گھر جہاں کپور خاندان رہتا ہے، سرسبز وادیوں اور پہاڑوں کے نظارے سے مزین ہے۔
اس فلمی کہانی پر غور کیا جائے تو ’کپور اینڈ سنز’ میں پہاڑوں نے پیچیدہ خاندانی ڈرامے میں سکون کا رنگ بھرا ہے۔ سرسبز پہاڑ اور دھندلے ماحول کرداروں کی زندگی کے جذباتی اتار چڑھاؤ کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ پہاڑی ماحول سکون اور شفا کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ مناظر ناظرین کو ہماچل پردیش کے ان پوشیدہ جواہرات کی پرسکونیت کا تجربہ کرنے کی خواہش پیدا کرتے ہیں۔
شکن بترا کی ہدایتکاری میں بننے والی اس کامیڈی ڈراما فلم کی کہانی دو بھائیوں کے گرد گھومتی ہے جو الگ ہوجاتے ہیں ، کہانی اس وقت دلچسپ ہوجاتی ہے جب ان کے 90برس کے داد ا دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ان دونوں بھائیوں کو اپنے پرانے گھر بلاتے ہیں ۔
فلم کی دیگر کاسٹ میں عالیہ بھٹ،سدھارتھ ملہوترا ،رشی کپور اور رتنا پھاٹک بھی شامل ہیں۔








