وہ بالی وڈ فلمیں جنہوں نے اپنی شاندار کہانی سے تہلکہ مچایا
ان فلموں کو اپنی منفرد کہانی کے سبب خاصی مقبولیت ملی تھی
گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی سینما میں ایسی ایسی لازوال اور بے مثال فلمیں ریلیز ہوئیں جو نہ صرف اپنی کہانی، منفرد ڈائیلاگز، اور ایکشن سین سے مقبولیت کے آسمان چھوتی نظر آئیں بلکہ اسٹار کاسٹ کی بہترین آن اسکرین پرفارمنسز کی بدولت بھی فلم بینوں کی تمام تر توجہ سمیٹنے میں کامیاب ہوئیں۔
جبکہ یہ فلمیں نہ صرف دل کو چھونے والی کہانیوں اور شاندار اداکاری کے لیے مشہور ہیں بلکہ اپنے دلکش گانوں، شاندار رقص، اور بھرپور تفریحی انداز کے ذریعے بھی دنیا بھر کے ناظرین کو محظوظ کرتی ہیں۔
اور بلاشبہ ہمیشہ سے ہی بالی وڈ سنیما مختلف موضوعات کو اجاگر کرتا آیا ہے اب چاہے وہ خاندانی تعلقات ہوں، سماجی مسائل، محبت کی کہانیاں، یا حوصلہ بڑھاتی کہانیاں۔ ان فلموں کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ جذبات اور تفریح کو یکجا کر کے ناظرین کو ایک منفرد تجربہ فراہم کرتی ہیں جو لوگو ں کو سینما کی نشست تک کھینچ کر لے آتی ہیں۔
تو آئیے بالی وڈ کی دنیا سے ان چند ایسی فلمی کہانیوں کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے عمدہ اسٹوری ٹیلنگ کے ذریعے نیا راستہ متعارف کرایا اور کہانی سنانے کے روایتی طریقوں کو چیلنج کیا۔
ان چند ہندوستانی فلموں پر نظر ڈالیں جو اپنے وقت سے بہت آگے تھیں:
کیا کہنا:
کندن شاہ کی ہدایت کردہ سال 2000 میں سینما گھروں کی زینت بننے والی فلم ’کیا کہنا’ ایسی فیملی اور رومانوی کامیڈی ڈراما فلم ہے جو آج بھی اپنی کہانی کے سبب مداحوں میں مقبول ہے۔
اس فلم میں فریدہ جلال، چندرچور سنگھ، انوپم کھیر، سیف علی خان، اور پریتی زنٹا اسٹار کاسٹ میں شامل تھیں جس میں معاشرتی بدنامی، سنگل پیرنٹ کی ذمہ داری، اور شادی سے پہلے کی حمل جیسے حساس موضوعات کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا۔
اگرچہ کہ اس فلم کے ریلیز کے وقت یہ حساس موضوعات ایک تنازع کا سبب بنے لیکن اس کے باوجود کندن شاہ نے ترقی پسند خیالات کو مضبوط اداکاری کے ساتھ پیش کر کے ایک جرات مندانہ قدم اٹھایا۔
اس فلم کی کہانی ایک ایسی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو شادی سے قبل ہی اپنے بوائے فرینڈ کے ہاتھوں دھوکا دہی کے بعد حاملہ ہوجاتی ہے۔
فلم میں دھوکا دہی کا شکار لڑکی پریا راہول سے محبت کرنے لگتی ہے جو ایک بدمعاش اور دھوکے باز انسان ہے لیکن جب پریا اور راہول محبت کے اس کھیل میں تمام حدیں پار کردیتے ہیں اور پریا بغیر شادی کے ہی حاملہ ہوجاتی ہے تو راہول اس سے شادی کرنے کے بجائے اسے چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:رواں سال ولدیت قبول کرنے والے بالی وڈ اسٹارز کون؟
جبکہ پریا کو شادی کے بغیر ماں بننے کے بعد مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس دوران اجے جو پریا کا سب سے اچھا دوست تھا اس کا ساتھ دیتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے۔
یہ فلم خاندانی حمایت کی اہمیت اور معاشرتی تنقید کے سنگین نتائج کو اجاگر کرتی ہے۔
گو گوا گون:
کرشنا ڈی کے اور راج ندی مورُو کی ہدایت کاری میں بننے والی سال 2013 کی ہارر کامیڈی فلم ’گو گوا گون’ بھی اپنی منفرد اسٹوری ٹیلنگ کے سبب کافی مقبول ہے۔
اس فلم کی کہانی گوا پر مبنی ہے جہاں تین دوست ایک ویران جزیرے پر ریو پارٹی میں جانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ لیکن اگلی صبح وہ نہ صرف وہاں پھنس جاتے ہیں بلکہ خونخوار زومبیز کا شکار بن جاتے ہیں۔
اس ہارر کامیڈی فلم کی اسٹار کاسٹ کی بات کریں تو اس میں ابھیشیک بنرجی، سیف علی خان، کنال کھیمو، ویر داس، آنند تیواری، اور پوجا گپتا نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔ جس نے نہ صرف فلمی شائقین کو اسکرین سے جڑنے پر مجبور کیے رکھا بلکہ اس کی انوکھی کہانی، جو مزاح، ایڈونچر، اور خوف کا عمدہ امتزاج سے لبریز تھی ہر دیکھنے والوں کی جسم میں سنسنی کی لہر بھی دوڑا گئی۔
فائر:
کرائم اور رومانس سے بھرپور سال 1996 میں ریلیز ہونے والے فلم ’فائر’ بھی اپنی کہانی کے سبب اس فہرست میں شامل ہے جس کی ہدایتکاری دیپا مہتا نے کی ہے۔
اس فلم مکی کہانی سیتا اور رادھا دو نوجوان بھارتی خواتین پر مبنی ہے جن کے شوہر ازدواجی تعلقات یا بیویوں کی بجائے معشوقاؤں کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں انکی بیوویاں بھی ہم جنس پرستی کا شکار ہوجاتی ہیں اور ایک محدود ذہنیت رکھنے والے معاشرے کے درمیان ایک قریبی اور جذباتی تعلق قائم کر لیتی ہیں۔
اور اسی وجہ سے یہ فلم ان اولین فلموں میں سے ایک ہے جو ایک ایسے موضوع کو پیش کرتی ہے جسے بھارتی سینما میں مقبول ہونے میں سالوں لگا۔کیونکہ یہ انڈین فلموں میں پہلی بار ہم جنس پرستی کو فروغ دینے والی فلموں میں سے ایک تھی، جس نے LGBTQ+ افراد کے حقوق اور ان کی نمائندگی پر بحث کا آغاز کیا۔
فلم نے خواتین کی خواہشات اور خودمختاری کو نمایاں کرتے ہوئے دیرینہ پدرانہ روایات کو چیلنج کیا۔ اس میں طے شدہ شادیوں کی مشکلات اور بے وفائی کے نتائج کو بھی نہایت حساسیت کے ساتھ پیش کیا گیا۔ فلم کے مواد کی وجہ سے اسے بھارت میں سینسر اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، جو اس کی ترقی پسند سوچ کا مظہر ہے۔
چینی کم:
سوینی کھارا، زہرا سہگل، پریش راول، تبو، اور امیتابھ بچن کی اسٹار کاسٹ پر مبنی سال 2007 میں ریلیز ہونے والی فلم ’چینی کم’ بھی اپنی غیر معمولی کہانی کے سبب خاصی مقبول ہے۔
آر بالکی کی ہدایت کردہ اس فلم کو اب ریلیز ہوئے تقریباً 17 سال بیت چکے ہیں لیکن آج بھی ایسی فلمی دیکھنا ایک غیر معمولی تجربہ سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ اس فلم کی کہانی ایک ایسے محبت کرنے والے جوڑے کے درمیان گھومتی ہے جسکی عمر میں واضح فرق ہے۔
اس فلم میں 64 سالہ مرد (امیتابھ بچن) اور 34 سالہ خاتون (تبو) کے درمیان محبت دکھا کر روایتی سماجی معیارات کو توڑا گیا ہے ۔فلم میں بدھادیو گپتا، 64 سالہ شیف، 34 سالہ سافٹ ویئر انجینئر نینا سے محبت کر بیٹھتے ہیں۔ تاہم، ان کا مستقبل غیر یقینی ہو جاتا ہے جب انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نینا کے والدبھی ان سے چھ سال چھوٹے ہیں۔
فلم نے غیر روایتی تعلقات کی پیچیدگیوں کو نہایت خوبصورتی سے اجاگر کیا اور جذباتی تعلقات کی اہمیت کو سماجی اصولوں پر ترجیح دی۔
مون سون ویڈنگ:
سال 2001 میں ریلیز ہونے والی ہدایتکار میرا نائر کی فلم ’مون سون ویڈنگ’ بھی دلکش اسٹوری ٹیلنگ کے سبب خاصی مقبول ہے۔
دیکھا جائے تو کبھی کبھار حساس موضوعات کو مزاحیہ انداز کے ذریعے پیش کرنا بہترین طریقہ ہوتا ہے جسکی مثال فلم ’مون سون ویڈنگ‘ ہے جس نے خاندانی رشتوں کی پیچیدگیوں کو خوبصورتی سے پیش کیا، ان تناؤ اور رازوں کو سامنے لایا گئا جو عموماً نظر کے پیچھے چھپے رہتے ہیں۔ فلم میں مضبوط خواتین کردار بھی دکھائے گئے ہیں جو توقعات کے خلاف جانے سے نہیں ڈرتیں۔
یہ فلم ایک ایسے والد للت ورما کے بارے میں ہے جو اپنی بیٹی آدیتی کی شادی روایتی انداز میں کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ آدیتی کو شادی کے بارے میں شک ہونے لگتا ہے، جبکہ اس کی کزن، 17 سالہ عائشہ ورما، یہ سمجھنے لگی ہے کہ وہ لڑکوں کے لیے پرکشش ہے، اور اس کی دوسری کزن، ریا، ایک چونکا دینے والا انکشاف کرنے والی ہے۔ دوسری جانب، اس کا بھائی صرف ڈانس کرنا چاہتا ہے۔
اور ان تمام فلموں کو دیکھنے کے بعد یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان فلموں نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی اہمیت کو ثابت کیا اور مزید ایسے منصوبوں کے لیے راہ ہموار کی ہیں۔






