شیام بینیگل کی وہ فلمیں وہ ایک بار ضرور دیکھنی چاہییں
ان فلموں کے ذریعے فلسماز نے سینما کو لازوال کہانیاں پیش کیں
14 دسمبر 1934 کو حیدرآباد بھارت میں آنکھ کھولنے والا ایسا شخص جس نے نہ صرف بھارتی سینما میں ایک انقلاب برپا کردیا بلکہ سینما کو ایک جدت فراہم کی۔
عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد سے معاشیات میں گریجویشن کرنے کے بعد اس شخص نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز اشتہاری فلموں سے کیا اور پھر ایسی ایسی تخلیقی فلمیں پیش کیں کہ آج انہیں دنیا انقلابی شخصیت کے طور پر جانتی ہے۔
یہاں بات ہو رہی ہے حال ہی میں دنیا فانی سے کوچ کرجانے والی شخصیت شیام بینیگل کی جنہوں نے 70ء کی دہائی میں ہندی فلموں کو جِلا بخشی اور اپنے کیرئیر کہ بلیک اینڈ وائٹ فلموں کے دور سے رنگین دور تک ان مٹ نقش چھوڑ دیے۔
شیام بینیگل گزشتہ کئی عرصے سے گردے کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باعث گزشتہ دنوں ممبئی کے ایک اسپتال میں 90 برس کی عمر میں زندگی کی بازی ہار گئے۔
انکے کیرئیر پر مختصر نظر ڈالیں تو شیام بینیگل نے اپنی پہلی فیچر فلم ’انکور’ بنائی جو 1974 میں ریلیز ہوئی یہ فلم سماجی ناانصافیوں اور طبقاتی تفریق پر مبنی تھی جس میں ہندوستانی سماج میں عورتوں کے مسائل، مزدوروں اور زمینداروں کے رشتوں اور سماج کے سلگتے مسائل کو خوبصورتی سے اجاگرکیا گیا تھا۔
بعدازاں شیام بینیگل نےششی کپور کے ساتھ فلم ’جنون‘ بنائی جس میں محبت کی ایک کہانی پیش کی گئی تھی۔
اس کے بعد ان کی فلم ’ کل یوگ‘ آئی جو انسانی رشتوں کی کہانی تھی، لیکن 1970کی دہائی کے بعد حقیقی سنیما کا دور ختم ہو گیا اور شیام بینیگل نے کمرشل سینما سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے خود کو ٹی وی سیرئیلز تک محدود کر لیا، البتہ سن 2001میں انہوں نے کرشمہ کپور کے ساتھ فلم ’زبیدہ‘ بنائی، یہ فلم ایک نڈر بے باک عورت کی کہانی تھی جو اپنے طور پر اپنی زندگی جینے کی خواہش رکھتی ہے۔
2007ء میں بھارتی حکومت نے انھیں فلمی دنیا کے لیے مختص سب سے بڑے ایوارڈ 'دادا صاحب پھالکے ایوارڈ' سے نوازا۔
اگرچہ کہ یہ شخصیت اب اس دنیا میں نہیں رہی لیکن انکے کیرئیر سے ان چند فلموں کا ذکر ضرور کریں گے جس کے ذریعے فلمساز نے بھارتی سینما کے منظرنامے کو بدل دیا۔
انکور:
سال 1974 میں سینما گھروں کی زینت بنے والے فلم ’انکور’ شیام بینیگل کی ہدایت کردہ ان فلموں کی فہرست میں شامل ہے جس کی کہانی مداح سالوں بعد بھی فراموش نہ کرسکے۔
اس فلم کی کہانی اپنی نوعیت کے حساب سے اس لیے بھی خاص تھی کیونکہ اس میں بھارت میں ذات اور جنس کی عدم مساوات کودکھایا گیا تھا۔
فلم کی کہانی ایک ایسے جوڑے کے گرد گھومتی ہے جو شادی شدہ ہونے کے بعد اولاد سے محروم تھا لیکن خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہا تھا۔
تاہم خوشیوں بھری زندگی کے درمیان وقت نے ایسا پلٹا کھایا کہ اس جوڑے کے درمیان حالات کشیدہ ہوتے چلےگئے جسکی وجہ گاؤں کے زمیندار کا بیٹا سوریہ ثابت ہوا جو لکشمی کو بہکانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
نشانت:
اب بات کریں فلم ’نشانت’ کی جس کے ہدایتکار بھی شیام بینیگل ہی تھے جنہوں نے اس خوبصورت شاہکار کو سینما کی زینت بنایا۔
یہاں تک کہ سمیتا پٹیل، گیرش کرناد اور امریش پوری کی یہ فلم جو بھارت کی سرکاری نمائندہ فلم تھی اس کو اتنی پزیرائی ملی کہ آسکرزکی بھی زینت بنی۔
فلم کی کہانی ایک طاقتور زمیندار کے بیٹے کے گرد گھومتی ہے جو خود شادی شدہ ہونے کے باوجود اسکول ماسٹر کی بیوی کے عشق میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ جنون کی حد تک کی محبت میں وہ اتنا آگے نکل جاتا ہے کہ اسے اغوا کروالیتا ہے۔
سنسنی خیز انتقام اور محبت کی کہانی پر مبنی یہ فلم سال 1975 کو ریلیز ہوئی جسے عوام کی جانب سے خوب پزیرائی ملی۔
منتھن:
سال 1976 میں ریلیز ہونے والی فلم ’منتھن’ شیام بینیگل کی ہدایت کاری میں بننے والی وہ فلم ہے جس کیلئے مشہور ہے کہ اسے پانچ لاکھ کسانوں نے مل کر اپنے خرچے پر بنایا تھا جسکی کہانی کوآپریٹو ڈیری فارمنگ پر مبنی تھی۔
فلم میں ڈاکٹر راؤ ایک آئیڈیلسٹ ڈاکٹر ہیں جو کوآپریٹو شروع کرنے آئے ہیں جبکہ مشرا (امریش پوری) ایک ڈیئری مالک ہیں جو دودھ کی کم قیمت دے کر کسانوں کا استحصال کرتے ہیں۔
ایک گاؤں ہے جو اعلی اور پسماندہ ذاتوں میں بٹا ہوا ہے۔ گاؤں میں رہنے والی ایک دلت (پسماندہ طبقے کی) عورت بنداس بندو (سمیتا پاٹل) بھی ہے۔
لیکن بندو کی بے پروائی نہ صرف اس کی فطرت ہے بلکہ اس کی ضرورت بھی ہے۔ اس کا شوہر شرابی ہے اور وہ اپنے بچے کی پرورش تقریباً اکیلی ماں کی طرح کرتی ہے اور دودھ بیچ کر گھر کا خرچ چلاتی ہے۔
ڈاکٹر راؤ جب پہلی بار بندو (سمیتا پاٹل) کے گھر دودھ کا نمونہ لینے آتے ہیں تو وہ باہر بیٹھے چھوٹے بچے سے پوچھتے ہیں کہ تمہارا باپ کہاں ہے، تو بندو (سمیتا) چڑھ کر جواب دیتی ہے: 'باپ یہاں ہے، تمہیں کیا چاہیے؟'
سمتا پاٹل کے اس پہلے سین سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ غریب اور استحصال زدہ ضرور ہے لیکن ڈری ہوئی نہیں ہے۔
غرض کہ اس فلم کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس فلم نے ’نیشنل ایوارڈ’ اپنے نام کیا تھا۔
بھومیکا:
شیام بینیگل کی ہدایتکاری میں بننے والی ایک اور منفرد شاہکار کی بات کریں تو یہ فلم ’1977’ میں ریلیز ہوئی جو بایوگرافیکل ڈرامہ مراٹھی اداکارہ ہنسا وادکر کی زندگی پر مبنی فلم تھی جسے فلمی شائقین کی جانب سے بے حد پسند کیا گیا۔
اس فلم کی کہانی ایک ایسی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو اپنی طوائف دادی سے موسیقی سیکھتی ہے اور 1930 کی دہائی کے بمبئی کی ابھرتی ہوئی شو بزنس انڈسٹری میں قدم رکھتی ہے۔
لیکن بدقسمتی نے کئی دہائیوں تک سپر اسٹارڈم رہنے کے بعد اسکے حالات اس وقت پیچیدہ ہو جاتے ہیں جب وہ فلم انڈسٹری کے نمایاں افراد کے ساتھ تعلقات میں ملوث پائی جاتی ہے۔
منڈی:
1983 میں ریلیز ہونے والی فلم ’منڈی’ کی ہدایتکاری کے فرائض بھی فلمساز شیام بینیگل نے ادا کیے۔نامور ادیب غلام عباس کی ایک کلاسیکی اردو مختصر کہانی آنندی پر مبنی یہ فلم ایک کوٹھے کی کہانی بیان کرتی ہے ، جو ایک شہر کے مرکز میں واقع ہے اورایک ایسا علاقہ ہے جسے کچھ سیاست دان اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کو لینا چاہتے ہیں۔
یہ فلم سیاست اور جسم فروشی پر ایک طنزیہ مزاح ہے ۔ اس میں شبانہ اعظمی ، سمیتا پاٹل اور نصیر الدین شاہ سمیت دیگر اداکار ہیں۔
اس فلم میں رکمنی بائی ایک کوٹھے کی مالک ہے جہاں معاشرے کے کچھ نمایاں ترین افراد آتے ہیں۔ تاہم، جب ایک طوائف ایک ناجائز تعلق قائم کرتی ہے، تو یہ ادارہ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
ان سمیت شیام بینیگل نے اپنے کیرئیر مزید کئی فلمیں دی ہیں جسی فلمی شائقین آج بھی بے پناہ پسند کرتے ہیں۔









